February 04, 2019
نئے دور کا باغی شہزادہ چارلس قسط  :     1

نئے دور کا باغی شہزادہ چارلس قسط : 1

پرنسیس ڈیانا کی المناک حادثاتی موت کے بعد سے پرنس چارلس کی ذہنی حالت اور عادات و اطوار میں ایسی بہت سی تبدیلیاں آچکی تھیں جنہوں نے ان کی شخصیت کو قطعی غیر متوازن بنا دیا تھا۔ وہ ایک ایسے ملک کے متوقع بادشاہ ہیں جس نے کسی زمانے میں آدھی دنیا پر حکمرانی کی ہے اور اب بھی اس کا شمار دنیا کی چند بڑی طاقتوں میں ہوتا ہے۔ ظاہر ہے، اس ملک کے ہونے والے بادشاہ کا لوگوں کے ذہنوں میں ایک خاص امیج ہے لیکن وہ اس امیج پر پورا نہیں اُترتے تھے۔ خاص طور پر 1997ء کے بعد تو ان کی حالت عجیب ہی ہوگئی تھی، ان کی شخصیت اور عادات و اطوار میں ناقابلِ یقین تبدیلیوں کی خبریں صرف خواص تک ہی نہیں، عوام تک بھی پہنچتی تھیں اور اس کے نتائج بھی سامنے آرہے تھے۔ ان کی مقبولیت جانچنے کیلئے گاہے گاہے جو بھی سروے یا پولز وغیرہ کرائے جاتے تھے، ان میں پرنس چارلس کی پوزیشن روز بہ روز گرتی چلی جارہی تھی اور اس سطح تک پہنچ گئی جہاں تک شاہی خاندان کی تاریخ میں کسی فرد کی نہیں پہنچی تھی۔ ہر گزرتے ہوئے سال میں پے درپے ایسے واقعات رونما ہورہے تھے جو ان کے امیج کو خراب سے خراب تر کررہے تھے۔ تاجِ برطانیہ کے وارث کا اس قسم کا تصور لوگوں کے ذہنوں میں دور دور تک نہیں تھا۔
اندیشہ پیدا ہوچلا تھا کہ وہ تاجِ برطانیہ کے وارث رہ بھی پائیں گے یا نہیں؟ لیکن پرنس چارلس کو گویا ان باتوں کی کوئی پروا نہیں تھی۔ میڈیا ان کی فضول خرچی اور دیگر عادات و اطوار پر مسلسل تنقید کررہا تھا۔ ان کے اپنے والد پرنس فلپ نے ان کے بارے میں یہ تبصرہ تک کر ڈالا تھا کہ اُنہوں نے اپنے آپ کو ’’کرائے پر چلنے والا شہزادہ‘‘ بنا لیا ہے۔ بات دراصل یہ تھی کہ اُنہوں نے اپنی فضول خرچیاں پوری کرنے کیلئے فاضل آمدنی کے کچھ ذرائع تلاش کرلیے تھے۔ ’’معقول معاوضہ‘‘ دے کر کوئی بھی اُنہیں اپنی تقریب میں مہمانِ خصوصی بنا سکتا تھا، کسی انعامی مقابلے کا جج بنا سکتا تھا، کسی ڈانس پارٹی میں مدعو کرسکتا تھا۔ کسی حد تک قابلِ تعریف بات یہ تھی کہ ان ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم وہ صرف اپنی فضول خرچیوں میں ہی ضائع نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا کچھ حصہ ان فلاحی اداروں کو بھی عطیہ کردیتے تھے جو اُنہوں نے خود قائم کر رکھے ہیں یا جن کیلئے وہ فنڈ ریزنگ کا کام کرتے آرہے ہیں۔ اسی زمانے میں ان کے، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سے تعلقات کشیدہ ہوگئے جس سے ان کے بارے میں یہ تصور مجروح ہوا کہ شاہی خاندان کے افراد سیاستدانوں اور حکومتی عہدیداروں کے بارے میں بالکل غیر جانبدار رہتے ہیں۔
برطانیہ کے بادشاہ یا ملکہ کو دولت مشترکہ میں شامل 52ممالک کے حکمرانوں کا رسمی طور پر رہنما شمار کیا جاتا ہے۔ ان ممالک کے حکمران بھی اس دوران پرنس چارلس کے معمولات اور عادات و اطوار پر ناپسندیدگی کا اظہار کررہے تھے لیکن پرنس نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اُنہیں ان لوگوں کی ناپسندیدگی کی کوئی پروا نہیں۔ ان کے اس تبصرے سے سوال پیدا ہوچکا ہے کہ اگر وہ برطانیہ کے بادشاہ بن بھی گئے تو کامن ویلتھ میں شامل 52ممالک کے سربراہان رسمی طور پر بھی اُنہیں اپنا رہنما تسلیم کریں گے یا نہیں؟
وہ تمام عرصہ، جس کے دوران پرنس چارلس کا امیج خراب سے خراب تر ہورہا تھا، اس میں پرنس کی زندگی کا یہ مسئلہ دیگر تمام مسائل پر حاوی رہا کہ وہ اپنی پرانی محبوبہ کمیلا پارکر بولز کو کس حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کریں؟ 1980ء کی دھائی کے وسط میں جب اُنہوں نے کمیلا پارکر سے اپنے ٹوٹے ہوئے تعلقات کا سلسلہ دوبارہ جوڑ لیا تھا، تبھی سے وہ اپنے ان تعلقات کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کررہے تھے اور ان کی تمام تر توجہ صرف اسی ایک مقصد پر مرتکز تھی۔ اس کے لیے وہ ملکہ سمیت، پورے شاہی خاندان کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے تھے، جبکہ ملکہ الزبتھ، پرنسیس ڈیانا کے ساتھ ان کی شادی کے بندھن کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے ہر جتن کررہی تھیں۔
اس زمانے میں پرنس چارلس کا سب سے بڑا مددگار اور مشیر مارک بولینڈ نامی ایک نوجوان تھا جسے اُنہوں نے اپنے میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر ملازم رکھا تھا، جس نے بعد میں اپنی ایک کتاب میں انکشاف کیا کہ 2005ء میں پرنس چارلس اور کمیلا پارکر کی شادی دراصل اسی کے مشوروں یا مشورہ نما سازشوں کا نتیجہ تھی۔ اگر پرنس اس کے مشوروں پر عمل نہ کرتے تو شاید ان کی شادی کی نوبت تک نہ آتی۔ اس شادی کا پرنس کو کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوا کہ ان کے دیگر اسکینڈلز کچھ دب گئے۔ نومبر 2011ء تک پرنس چارلس کی شہرت ایک ’’باغی شہزادے‘‘ کے طور پر مستحکم ہوچکی تھی۔ اُنہوں نے اپنی پوری قوم کی ناپسندیدگی کو نظرانداز کرتے ہوئے کمیلا پارکر سے شادی کی تھی اور کئی متنازع معاملات میں ایسا مؤقف اپنایا تھا جس سے عوام کی اکثریت متفق نہیں تھی، تاہم کچھ لوگ یہ کہہ کر اُنہیں کسی حد تک سراہتے تھے کہ وہ کم از کم اپنا ایک واضح نظریہ تو رکھتے ہیں، اس کے اظہار میں کسی قسم کی منافقت سے کام نہیں لیتے۔ زیادہ تر لوگوں کی رائے میں وہ بہرحال برطانیہ کے بادشاہ بننے کے لائق نہیں تھے۔ جبکہ ان کا اپنا کہنا یہی ہے کہ وہ بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ برطانیہ کے بادشاہ کی حیثیت سے اُنہیں کیا فرائض ادا کرنے ہوں گے اور کس طرح ادا کرنے ہوں گے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ وہ اپنے ملک کو ترقی کے راستے پر مزید آگے، بلکہ بہت آگے لے جاسکتے ہیں۔ وہ اپنے ملک کیلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں اور پسے ہوئے طبقات کی حالت بہتر بنانے کے کئی منصوبے ان کے ذہن میں ہیں۔
بہت سے لوگ اس لیے بھی ان سے اچھی توقعات رکھتے ہیں کہ وہ اُنہیں سالہا سال سے بہت سے اچھے اور فلاحی کام کرتے ہوئے بھی دیکھ رہے ہیں۔ وہ اسکولوں، اسپتالوں اور فلاحی اداروں میں بڑی باقاعدگی سے جاتے ہیں اور وہاں طلباء، مریضوں اور عملے کے افراد سے نہایت محبت اور شفقت سے پیش آتے ہیں اور ان کے کام آنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔ ان کا رویہ اتنا مہذبانہ اور مشفقانہ ہوتا ہے کہ ان کے جانے کے بعد بھی ان جگہوں کے لوگ اُنہیں محبت سے یاد کرتے رہتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اتنے بڑے بڑے اسکینڈلز سے گزرنے کے بعد دوبارہ ایک مقبول شخصیت بن چکے ہیں ورنہ دنیا کے اُفق پر ایسی بہت سی مشہور شخصیات گزری ہیں جو ان سے کہیں چھوٹے اور کمتر اسکینڈلز کے باعث تباہ و برباد ہوگئیں، گمنامی کے اندھیروں میں گم ہوگئیں۔ پرنس چارلس نے خود کبھی اعتراف بھی نہیں کیا کہ اُنہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے اور لوگوں نے بھی ان کی غلطیوں کو زیادہ بڑی غلطیاں نہیں سمجھا اور ان غلطیوں کو زیادہ عرصے کیلئے یاد نہیں رکھا۔
ان میں کئی ایسی خامیاں موجود ہیں جو چھوٹے، بڑے ہر طرح کے انسانوں میں ہوتی ہیں۔ اُنہوں نے بہت سے لوگوں کو دُکھ بھی پہنچائے ہیں۔ آج اُنہیں جو شخص پسند ہے، کل وہ ان کا ناپسندیدہ بھی ہوسکتا ہے۔ وہ زیادہ لمبے عرصے تک کسی کا ساتھ نہیں نبھا سکتے۔ بادشاہوں اور جاگیرداروں کی ذہنیت کافی حد تک ملتی جلتی ہوتی ہے۔ جاگیردار بھی ایک قسم کے، چھوٹے موٹے بادشاہ ہی ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں اختلافِ رائے کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ پرنس چارلس کے ہاں بھی کم ہی ہے۔ ان کی والدہ نے ایک طویل عرصے تک قوم کو متحد رکھا ہے۔ پرنس چارلس میں یہ خوبی نظر نہیں آتی کہ وہ قوم کو زیادہ عرصے تک متحد رکھ سکیں گے۔
(جاری ہے)