February 04, 2019
ذمہ دار خاتون اور ذہنی سکون …

ذمہ دار خاتون اور ذہنی سکون …

کیا آپ بھی ایک جیسے معمول سے تنگ آچکی ہیں؟ مانا کہ ایک ہی معمول کے مطابق زندگی گزارنا، بیزار کن محسوس ہوتا ہے لیکن کیا آپ نے کبھی معمول کی پابندی کے فائدے سمجھنے کی کوشش کی؟ ہم سب ایک خاص معمول کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، دن کا آغاز ایک مخصوص وقت پر ہوتا ہے۔ ایک بجے کھانا، دو بجے قیلولہ، چار بجے پڑھائی، پانچ بجے چائے، ٹی وی، سیر و تفریح اور رات کے کھانے کی تیاری!
زیادہ تر خواتین دن اسی انداز میں گزارتی ہیں۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کوئی عام انسان نہیں بلکہ روبوٹ ہیں، لیکن کیا واقعی ایک معمول پر پابندی سے عمل کرنا اتنا ہی برا ہے؟
میرے خیال سے یہ ایک اچھی چیز ہے، کوئی بھی کام، وقت پر کرنا، اس پر پابندی سے عمل کرنا ہی تو معمول ہے، اس کی مدد سے کام وقت پر مکمل ہوجاتے ہیں، آسانی ہوتی ہے اور کوئی کام تاخیر کا شکار بھی نہیں ہوتا۔ اب سوچئے، معمول پر عمل کرنا مشکل اور ناممکن کیسے ہوسکتا ہے؟
یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ذمہ داری کا بوجھ ہمیں دبائو، پریشانی اور بیزاری میں مبتلا کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے اور اگر کام ایک ہی انداز میں کیا جاتا رہے تو ظاہر ہے بوریت تو ہوگی ہی ہے۔ ایک ذمہ دار خاتون کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ زندگی کا مقصد یا مرکز صرف کام ہی نہیں، بلکہ دوسرے اہم امور مثلاً ذہنی سکون، آرام اور اپنا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آرام کیسے کیا جائے؟ جب دن بھر کام مکمل کرتے ہی گزریں گے تو سوچئے آرام کیسے ہو گا؟ اسی لیےتو ہم معمول کی پابندی پر زور دے رہے ہیں، کیونکہ جب آپ ہر کام سمجھ داری اور سہولت سے مکمل کریں گی تو آرام اور اپنا خیال رکھنا بھی مشکل نہ رہے گا۔
ہم جب معمول پر عمل کرنے کی بات کرتے ہیں تو محض بیزاری کا خیال آتا ہے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اسی کی وجہ سے تو ہمارے ذہن پر سوار کام کا دبائو کم ہوتا ہے۔
ماں کی ذمہ داری سمجھنا مشکل ہے تو سوچئے، اس کے جیسے فرائض انجام دینا کتنا مشکل ہوگا۔ ایک خاندان کی ہر ذمہ داری کو خوبی سے انجام دینا آسان نہیں، ہزاروں کام ان کے ذمہ ہوتے ہیں، اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ کام کے دبائو کا شکار نہ ہوں اور کام کے ساتھ آرام بھی کریں۔
ممکن ہے آپ میں سے کچھ خواتین معمول کی پابندی کے خلاف ہوں لیکن یقین جانئے، روزانہ ایسے کئی کام ہیں، جن کو پابندی سے وقت پر انجام دے کر ہی آپ پرسکون زندگی گزارسکتی ہیں اور یوں کام کے دبائو سے بچنا بھی ممکن ہوگا۔ آئیے جانتے ہیں، یہ کام کون سے ہیں:
پہلے سے کی گئی تیاری:زیادہ تر کام، پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ یعنی گھر، بچوں کے مخصوص کام، اسکول اور ملازمت کے فرائض، پہلے سے طے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود، ہفتہ میں کچھ دیر، آنے والے سات دنوں کی تیاری کے لیے منصوبہ بندی کیجئے، آپ یہ کام صبح سویرے انجام دے سکتی ہیں، اتوار کی دوپہر اور پیر کی شام بھی اس کے لیے مناسب ہے۔ باقاعدگی سے فہرست ترتیب دیجئے، کام کو بانٹ کر کیجئے، ایک ساتھ بوجھ لاد کر آپ کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
کھانا پکانے اور بازار سے سامان خریدنے کا منصوبہ:کیا آپ جمعہ اور اتوار بازار سے سبزی خریدتی ہیں؟ یہ بازار تازہ سبزی کے لیے بہترین ہیں۔ طے کرلیجئے کہ آپ کو کس دن سبزی لینے جانا ہے اور اس معمول پر عمل کیجئے، اس طرح ہفتے میں کئی بار بازار جانے کی زحمت نہ کرنا ہوگی اور ایک ہی بار، سارا ضروری سامان لایا جاسکے گا۔ ہفتے میں ایک دن بازار جانے کا فائدہ یہ ہے کہ فہرست کے مطابق سامان خریدا جاسکے گا اور آپ غیر ضروری سامان خریدنے یا سامان ختم ہونے کی پریشانی سے بچ سکیں گی۔ جو لوگ باقاعدگی سے ایک معمول کے مطابق کھانے پکانے اور گھر کا سامان خریدتے ہیں، وہ نہ صرف وقت کی بچت کرتے ہیں بلکہ پیسہ بچانے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں۔
منصوبہ بندی کی اہمیت کو سمجھئے:کیا آپ کے پاس کوئی ڈائری یا پلانر ہے؟ اس میں کیے جانے والے کاموں کی فہرست درج کیجئے، آنے والے ہفتے میں کون سے کام انجام دینے ہیں، کس کس کو فون کال کرنا ہے، کیا چیز خریدنی ہے، کوئی خاص موقع مثلاً سالگرہ، شادی کی سالگرہ، رزلٹ ڈے، کوئی تہوار یا تقریب آنے والی ہے تو اس کی تیاری کیسے کرنا ہے، یہ سب لکھ کر رکھ لیں گی تو ان کو انجام دینا بھی آسان ہوجائے گا۔
بچوں کے کام:خواتین کے معمول کا سب سے اہم حصہ بچے ہیں اور دبائو سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کام کی تیاری پہلے سے ہی کرلی جائے، بچوں کے کپڑے تیار کر کے ایک ہی بار الماری میں رکھ دیں، کپڑوں کی دھلائی، استری کے لیے بھی کوئی ایک دن مخصوص ہے، اس طرح آپ روزانہ کی مشکل سے بچ سکیں گی اور صبح سویرے کام کا زیادہ دبائو محسوس نہ ہوگا۔
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ صبح کا وقت کام کرنے کے لیے بہت اہم ہے، خاص طور پر خواتین، جن کے ساتھ بچے ہیں، ان کے لیے صبح کا وقت نہایت اہم ہے۔ البتہ اگر آپ کام بانٹ لیں تو امید ہے کہ ایک ہی وقت پر کام کے دبائو سے نجات مل جائے گی۔
جب آپ کام کی تیاری پہلے سے کر لیں گی تو معمول کے مطابق کام انجام دینا آسان ہوجائے گا، صبح اٹھ کر جوس پینا ہو تو رات میں ہی جوس بنانے کا سامان، کچن شیلف پر سجا کر رکھ دیں، صبح پہنے جانے والے ملبوسات بھی رات میں تیار کر لیں، جب آپ اپنے کاموں سے ایک قدم آگے ہوں گی تو کام کی تیاری پہلے سے مکمل کرنا ممکن ہوگا اور آپ پرسکون زندگی گزارنے کے قابل بن جائیں گی۔
آرام اور ذہنی سکون:عام طور پر خواتین اپنا خیال نہیں رکھتیں، ان کی توجہ سب پر ہوتی ہے مگر اپنی ذات پر نہیں۔ یہ انداز ان کے لیے ہی سب سے زیادہ پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے غور کیجئے کہیں آپ ایسے ماحول کا حصہ تو نہیں جہاں کام ہی کام ہے لیکن آرام اور سکون کا شائبہ بھی نہیں؟ ایسے ماحول سے نکلنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی مصروفیات کو خوبی سے تقسیم کریں، دن کا ایک حصہ کام، ایک حصہ خاندان کے ساتھ موج مستی اور ایک حصہ آرام و سکون کے لیے مخصوص کرلیجئے، پریشانی، سکون میں بدل جائے گی اور آپ ایک بے سکون ذمہ دار خاتون نہیں بلکہ ایک خوش مزاج اور پرسکون خاتون خانہ بننے میں کامیاب ہوں گی!