February 04, 2019
کرکٹ کرکٹ

کرکٹ کرکٹ

ایک روزہ مقابلوںمیں گرین شرٹس نے کیا کھویا، کیا پایا؟ ابتدائی بلے بازوں کی کارکردگی پھر سوالیہ نشان رہی! ڈک ورتھ لوئس فارمولا، پاکستان جیتی ہوئی بازی ہارا

ان سطور کی اشاعت تک جنوبی افریقہ میں پاکستانی ٹیم اپنے پانچوں ایک روزہ کرکٹ میچ کھیل چکی ہوگی مگر تادم تحریر تین میچوں میں گرین شرٹس کی کارکردگی کیا رہی اس سے آپ کو ٹیم کی پرفارمنس کا اندازہ ضرور ہو جائے گا۔ پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ سیریز کے پہلے میچ میں 5 وکٹوں سے دورے کی پہلی جیت کے ساتھ سیریز میں بھی برتری حاصل کی۔ جنوبی افریقہ نے مقررہ اوورز میں محتاط بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 وکٹوں پر 266 رنز بنائے۔ ہاشم آملہ نے آؤٹ ہوئے بغیر 108 رنز بنائے اور ملر نے 16 رنز بنائے۔ پاکستان کی جانب سے حسن علی اور شاداب خان نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ پاکستان نے مطلوبہ ہدف آخری اوور کی پہلی گیند پر5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا اور5 وکٹوں کی فتح نصیب ہوئی۔ محمد حفیظ 71 اور شاداب خان 18 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔
جنوبی افریقہ نے وینڈر ڈوسن اور ایندائل فلکوایو کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان کو دوسرے ون ڈے میچ میں 5 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کردی۔ کنگز میڈ، ڈربن میں 5 میچوں کی سیریز کے دوسرے ون ڈے میں جنوبی افریقی کپتان فاف ڈیوپلیسی نے ٹاس جیت کر مہمان ٹیم کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ گزشتہ میچ میں سب سے زیادہ رنز اسکور کرنے والے امام الحق کی اننگز اس مرتبہ صرف 5 رنز پر تمام ہوئی اور وہ کگیسو ربادا کو وکٹ دے بیٹھے۔ فخر زمان اور بابر اعظم نے اسکور کو 37 تک پہنچایا ہی تھا کہ ربادا کی ایک گیند کو پُل کرنے کی کوشش میں بابر بھی وکٹ گنوا بیٹھے۔ اوپنر فخر زمان کھیل کی ابتدا سے ہی دباؤ میں نظر آئے اور محمد حفیظ کے ہمراہ 21 رنز جوڑے لیکن 58 کے اسکور پر دونوں کھلاڑی یکے بعد دیگرے پویلین لوٹ گئے۔ شعیب ملک اور شاداب خان نے اسکور کو 85 تک پہنچایا ہی تھا کہ تبریز شمسی کے پہلے ہی اوور میں بڑا شاٹ کھیلنے کی غلطی کرنے والے شاداب کیچ دے بیٹھے۔ ابھی ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ پہلا ون ڈے میچ کھیلنے والے حسین طلعت بھی صرف 2 رنز بنا کر شمسی کی وکٹ بن گئے۔ مشکل وقت میں ٹیم کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی شعیب ملک سے ٹیم کی امیدیں وابستہ تھیں لیکن ان کی اننگز بھی صرف 21 رنز پر تمام ہوئی، جبکہ اگلے اوور میں فہیم اشرف بھی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو کر شمسی کی تیسری وکٹ بن گئے۔112 رنز پر آٹھ وکٹیں گرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید پاکستانی ٹیم کی بساط جلد ہی لپٹ جائے گی لیکن اس موقع پر حسن علی اور کپتان سرفراز میزبان بولرز کے خلاف ڈٹ گئے، خصوصاً حسن علی کی جارحانہ بیٹنگ کا جنوبی افریقی بولرز کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ دونوں کھلاڑیوں نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے نویں وکٹ کے لیے 90 رنز کی شراکت قائم کی جس کی بدولت پاکستان نے 200 رنز کے ہندسے تک رسائی حاصل کی۔ اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب سرفراز 41 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے جبکہ فلکوایو نے اپنے اگلے اوور میں حسن علی کو بھی باؤنڈری پر کیچ کرا کر ان کی شاندار اننگز کا خاتمہ کردیا۔ پاکستان کی پوری ٹیم 203 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی، حسن علی نے 45 گیندوں پر 3 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 59 رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے فلکوایو نے کیریئر کی بہترین بؤلنگ کرتے ہوئے 22 رنز کے عوض 4 وکٹیں لیں، تبریز شمسی نے 3 اور کگیسو ربادا نے 2 وکٹیں لیں۔ جنوبی افریقہ نے اننگز کا آغاز کیا تو شاہین شاہ آفریدی نے عمدہ اسپیل کرتے ہوئے دونوں اوپنرز کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقی کپتان فاف ڈیو پلیسی کی اننگز کا بھی خاتمہ کردیا۔29 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد وینڈر ڈوسن اور ڈیوڈ ملر کی جوڑی وکٹ پر اکٹھا ہوئی اور دونوں کھلاڑیوں نے 51 رنز کی شراکت قائم کر کے ابتدائی نقصان کا کسی حد تک ازالہ کردیا۔ اس سے قبل کہ یہ شراکت مزید خطرناک ثابت ہوتی، ملر 31 رنز بنانے کے بعد شاداب خان کا شکار بن گئے جبکہ لیگ اسپنر نے اگلی ہی گیند پر ہنری کلاس کا بھی کام تمام کردیا۔80 رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد میچ میں پاکستان کی فتح کے امکانات کافی روشن ہو گئے تھے، لیکن فلکوایو اور ڈوسن نے پاکستان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے پاکستانی کپتان اور بولرز کے ہر حربے کو ناکام بناتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتح کی راہ پر گامزن کیا۔
جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں کپتان سرفراز احمد اور حسن علی نے عمدہ شراکت قائم کر کے پاکستان کے لیے نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ ڈربن میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے ون ڈے میچ میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی تو 112 رنز پر پاکستان کی آٹھ وکٹیں گر چکی تھیں اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پاکستانی ٹیم 150رنز بھی نہیں بنا سکے گی۔ تاہم اس موقع پر کپتان سرفراز احمد اور حسن علی نے عمدہ بیٹنگ کر کے جنوبی افریقی ٹیم کے ارمانوں کو خاک میں ملا کر پاکستان کو معقول مجموعے تک رسائی دلا دی۔ دونوں کھلاڑیوں نے 90 رنز کی شراکت قائم کر کے پاکستان کی جانب سے نویں وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ حسن علی نے 59 اور سرفراز نے 41 رنز کی اننگز کھیلی۔ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے نویں وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ شعیب ملک اور محمد سمیع کے پاس تھا جنہوں نے 2007 ء میں سنچورین کے مقام پر جنوبی افریقہ کے خلاف ہی یہ ریکارڈ بنایا تھا۔ یہ نہ صرف اس وکٹ کے لیے پاکستان کی جانب سے ریکارڈ ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ڈربن میں بھی نویں وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ ہے۔ ون ڈے کرکٹ میں نویں وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت کا عالمی ریکارڈ سری لنکا کے اینجلو میتھیوز اور لاستھ ملنگا کے پاس ہے جنہوں نے 2010 ء میں 132 رنز کی پارٹنر شپ قائم کر کے میزبان آسٹریلیا سے یقینی فتح چھین لی تھی۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایک روزہ سیریز کا تیسرا ون ڈے میچ بارش کے سبب مکمل نہ ہوسکا جبکہ ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت میزبان ٹیم نے میچ 13 رنز سے جیت کر سیریز میں 2-1کی برتری حاصل کرلی۔ سنچورین میں کھیلی جارہی سیریز کے تیسرے ون ڈے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو فخر زمان ایک مرتبہ ناکامی سے دوچار ہوئے اور صرف دو رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔ پہلی وکٹ جلد گرنے کے بعد امام الحق اور بابر اعظم کی جوڑی نے ذمے دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور دوسری وکٹ کے لیے 132 رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کے بڑے اسکور کی راہ ہموار کی، بابر 69رنز بنانے کے بعد ڈیل اسٹین کی وکٹ بنے۔ امام الحق نے عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور محمد حفیظ کے ساتھ مل کر ٹیم کی ڈبل سنچری مکمل کرائی جبکہ حفیظ نے بھی جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری مکمل کی۔ دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ کے لیے 86رنز جوڑے جس کے بعد حفیظ 45 گیندوں پر ایک چھکے اور 6 چوکوں سے مزید 52 رنز کی اننگز کھیل کر رخصت ہوئے۔ امام الحق نے عمدہ فارم برقرار رکھتے ہوئے ون ڈے کرکٹ میں اپنی پانچویں سنچری مکمل کی اور 101 رنز کی اننگز کرانے کے بعد تبریز شمسی کی گیند پر کیچ ہوئے۔ اختتامی اوورز میں عماد وسیم اور شعیب ملک نے جارحانہ کھیل پیش کیا جس کی بدولت پاکستانی ٹیم 300 رنز کا ہندسہ عبور کرنے میں کامیاب رہی، شعیب ملک نے 31رنز بنائے جبکہ عماد وسیم نے ناقابل شکست 43 رنز کی اننگز کے لیے 23 گیندوں کا سامنا کیا۔ پاکستان کی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 317 رنز بنا کر جنوبی افریقہ کو میچ میں فتح کے لیے 318رنز کا ہدف دیا ہے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے ڈیل اسٹین اور کگیسو ربادا دو، دو وکٹیں لے کر کامیاب بولر ثابت ہوئے۔ جنوبی افریقہ نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو اوپنرز ہاشم آملا اور کوئنٹن ڈی کوک نے اپنی ٹیم کو 53رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن اسی اسکور پر آملا 25رنز بنانے کے بعد بابر اعظم کو کیچ دے بیٹھے۔ ڈی کوک نے 39 رنز کی اننگز کھیلی اور اچھی فارم میں نظر آئے لیکن وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں شاداب خان کی براہ راست تھرو نے ان کی 39رنز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ اس موقع پر میچ میں بارش نے مداخلت کردی اور میچ تقریباً 45 منٹ تک رکا رہا۔ بارش رکنے پر میچ دوبارہ شروع ہوا تو جنوبی افریقی کپتان فاف ڈیو پلیسی اور ریزا ہینڈرکس نے ذمے دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کے لیے 108 رنز جوڑ کر پاکستان کی
مشکلات میں اضافہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کی پوزیشن کو مستحکم کردیا لیکن اس مرحلے پر ایک مرتبہ پھر بارش نے میچ میں مداخلت کردی اور کھلاڑیوں کو پویلین واپس لوٹنا پڑا۔ جنوبی افریقہ نے اس وقت 2 وکٹوں پر 187 رنز بنا لیے تھے، کپتان فاف ڈیو پلیسی 40 اور ریزا ہینڈرکس 83 رنز پر کھیل رہے تھے تاہم دوبارہ کھیل ممکن نہ ہوسکا اور میچ کے نیتجے کا اعلان کردیا گیا۔ ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت جنوبی افریقہ کی ٹیم بہترین رن ریٹ کے باعث پاکستان پر 8 رنز کی برتری حاصل کیے ہوئے تھی اور اسی سبب میچ بھی 13 رنز سے اپنے نام کر لیا۔