February 11, 2019
فطرت کے قوانین سے چھیڑ چھاڑ نہیں

فطرت کے قوانین سے چھیڑ چھاڑ نہیں

آپ نے "ماوزے تنگ” کے ہاتھوں چین میں چڑیوں کی نسل کشی اور اس کے اثرات کے بارے میں تو سنا ہی ہوگا۔ایسا ہی کچھ واقعہ امریکہ میں بھی پیش آچکا یے۔  1914 میں کانگریس نے ییلوسٹون نیشنل پارک میں ہرن کی آبادی بچانے کے لیے ہرن کی شکاری جانوروں کو ختم کرنے کے لیے فنڈز جاری کیے۔ جس کے بعد ماہر شکاریوں کے ذریعے بھیڑیوں اور جنگلی کتوں کا صفایا شروع کردیا گیا۔ 1926 تک ییلو سٹون میں بھیڑیے مکمل طور پر ختم ہوچکے تھے۔۔۔ بھیڑیوں کے ختم ہوجانے سے ہرن کی آبادی میں اضافہ ہونے لگا۔۔۔لیکن۔۔۔تیزی سے بڑھتی آبادی کو کم کرنے والے بھیڑیے اب موجود نہ تھے تو پورے ییلوسٹون میں ہرنوں نے آزادی سے وہاں موجود گھاس کے ساتھ ساتھ ویلو اور کاٹن ووڈ کے پودے بھی چرنا شروع کردیے۔ کئی مقامات پر گھاس کا مکمل صفایا تو ہو ہی گیا ساتھ ہی ویلو کے پودے بھی اب درخت بننے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے جس سے "اود بلاؤ” کی آبادی متاثر ہوئی جنہیں سردیوں میں زندہ رہنے کے لیے ویلو کی ضرورت رہتی ہے۔ 1995 تک پورے ییلو سٹون میں اود بلاؤ کی صرف ایک ہی کالونی بچی تھی۔ درخت نہ ہونے کی وجہ سے پرندوں کی اکثریت آبادی بھی ختم ہوگئی یا نقل مکانی کرگئی۔

1995 میں امریکی حکومت نے ییلو سٹون میں بھیڑیوں کو واپس لانے کا فیصلہ کیا اور دیگر علاقوں سے بھیڑے لاکر ییلو سٹون نیشنل پارک میں چھوڑدیے۔۔۔۔ییلو سٹون میں بھیڑیوں کی واپسی کے نتائج انتہائی حیرت انگیز تھے۔ بھیڑیوں کی آمد سے ناصرف ہرنوں کی آبادی کنٹرول ہونے لگی بلکہ اب ہرن سارے ییلوسٹون میں آزادانہ نہیں گھوم سکتے تھے جس کے نتیجے میں معدوم شدہ درخت دوبارہ بڑھنے لگے جس سے اود بلاو کی آبادی بڑھنے لگی۔ نکل مکانی کرچکے پرندے واپس آنے لگے۔ بھیڑیوں نے صرف ہرنوں کو ہی نہیں "کایوٹی” کو بھی مارا۔کایوٹی کی آبادی کم ہونے سے خرگوشوں چوہوں اور روڈنٹس کی آبادی میں اضافہ ہونے لگا جنہیں کھانے کے لیے مزید شکرے، بجو اور لومڑیاں ییلوسٹون میں آبسے۔
بھیڑیوں کے مارے جانوروں کی لاشیں کھانے ریچھ ، پہاڑی کوے، چیلیں اور میگپائی نے بھی ییلو سٹون کا رخ کرلیا۔

ان سب کے آنے سے جنگل پھلنے پھولنے لگے اور دریا کے کنارے درختوں کے اضافے سے کناروں میں مضبوطی آگئی جس سے کٹاو میں واضح کمی آگئی۔ کئی نئے پانی کے تالاب بھی وجود میں آگئے جس سے پارک کی جنگلی حیات کو مزید فوائد ملے۔ آج یہ پارک سرسبز خوبصورت اور جنگلی حیات سے بھرا ہے۔ اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ۔۔۔۔فطرت کے قوانین سے کبھی چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیے اور ایکو سسٹم سے کسی بھی سپیشیز کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔