February 11, 2019
انسداد تجاوزات مہم، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

انسداد تجاوزات مہم، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

تجاوزات ختم کرنے کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے

27؍اکتوبر 2018ء کو سپریم کورٹ نے بلدیہ عظمٰی کراچی کے میئر کو حکم دیا تھا کہ شہر قائد میں قائم تمام تجاوزات کو 15یوم کے اندر ختم کردیا جائے۔ میئر کراچی وسیم اخترنے تقریباً ایک درجن اداروں کے تعاون سے 5؍نومبر سے اس مہم کا آغاز شہر کے قلب میں واقع تاریخی ایمپریس مارکیٹ کے اطراف میں تجاوزات مسمار کرنے سے کیا اور پھر اولڈ کراچی میں واقع تاریخی اور اہم مقامات لی مارکیٹ، لنڈا بازار (لائٹ ہائوس)، کھوڑی گارڈن، بولٹن مارکیٹ، برنس روڈ، زولوجیکل گارڈن (چڑیا گھر) وغیرہ میں مرحلہ وار تجاوزات کے خاتمے کا سلسلہ شرع ہوگیا۔ انتظامیہ کو چند مقامات پر جزوی طور پر متاثرین کی طرف سےمزاحمت اور احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑا تاہم پولیس اور رینجرز کی موجودگی کی وجہ سے یہ احتجاج کامیاب نہ ہوسکا۔
سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد پورے کراچی میں تجاوزات ختم کرنے سے متعلق اشتہاری مہم بھرپور انداز میں چلائی گئی اور وسیع پیمانے پر بینرز آویزاں کئے گئے۔ عوام پر اس انتباہی نوٹس کا خاطرخواہ اثر ہوا اور ذمہ دار شہریوں نے سرکاری مشینری آنے سے قبل ہی اپنے مکان اور دکانوں سے تجاوزات کا ازخود خاتمہ کرنا شروع کردیا۔ سروے کے دوران ’’اخبار جہاں‘‘ کو یہ دلچسپ صورتحال بھی دیکھنے کو ملی کہ اس دوران ویلڈروں اور دیگر ہنرمندوں کی خوب آئو بھگت کی گئی اور ان کی چاندی ہوگئی۔ ان کی مصروفیات اتنی بڑھ گئیں کہ انہیں رات گئے تک دکانوں سے آہنی سائن بورڈ وغیرہ ہٹانے کا کام کرنا پڑتا تھا۔ اس موقع پر ایک صاحب نے تبصرہ کیا کہ یہ ویسی ہی صورت حال ہے، جیسی بقرہ عید کے زمانے میں قربانی کے لئے قصاب حضرات کو تلاش کرنے میں ہوتی ہے کہ وہ بڑی مشکل سے ہاتھ آتے ہیں اور بیک وقت کئی جگہ پر اپنے کام میں مصروف ہو کر لوگوں کو ’’انتظار فرمائیے‘‘ کا سبق دیتے رہتے ہیں۔
اولڈ کراچی میں اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد محکمہ انسداد تجاوزات نے کراچی کے دیگر علاقوں کا رخ کیا، جس میں ہل پاک (باغِ کوہ) اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ ہل پارک چند چھوٹی پہاڑیوں پر واقع ہونے کی وجہ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ 1965ء میں قائم کیا گیا تھا ،اس کا رقبہ62 ایکڑ مختص کیا گیا تھا، جس کے صرف25 فیصد حصے پرپارک قائم کیا گیا۔ ایک زمانے میں کراچی کے مکینوں اور ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے افراد کے لئے کراچی میں صرف چند تفریحی مقامات تھے، جن میں ساحل سمندر (ہاکس بے، پیراڈائز پوائنٹ، کلفٹن، منوڑہ، گڈانی) کے علاوہ چڑیا گھر، مزار قائد اور ہل پارک شامل ہیں۔ ہل پارک میں سب سے پہلے سب سے بلند قائم کی جانے والی سلائیڈنگ لوگوں کے لئے خصوصی دلچسپی کا باعث تھی اور وہ اس سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ایک مختصر جھیل اور کھلی جگہ پر فلم دیکھنے کی سہولت بھی اسے دیگر تفریحی مقامات سے ممتاز کرتی تھی۔ہل پارک میں 50کے قریب تجاوزات کو ختم کیا گیا ہے، جن میں ریسٹورنٹ، پلے پارک اور دکانیں شامل ہیں۔راہ نمانامی ایک مسجد بھی شہید کی گئی۔
نارتھ کراچی میں 4-K اور 2منٹ چورنگی سے ناگن چورنگی تک قائم بڑے بڑے ہوٹل اور مختلف دکانیں، اسی طرح گلشن اقبال، گلستان جوہر، کریم آباد، لیاقت آباد، غریب آباد، شاہ فیصل کالونی، ملیر، کورنگی، اورنگی ٹائون اور دیگر مقامات پر تجاوزات ختم ہونے سے وہاں کا نقشہ ہی بدل گیا۔ دکانیں ختم ہونے کے بعد ان میں موجود سامان مثلاً فرنیچر وغیرہ اونے پونے داموں میں فروخت ہوا اور خریداروں نے اس سے بہت فائدہ اٹھایا۔ گلستان جوہر میں جوہر چورنگی سے ذرا آگے طویل عرصے سے قائم فرنیچر مارکیٹ میں تجاوزات ختم کی جارہی تھیں تو رات کے 2،3بجے وہاں کے قریبی فلیٹوں میں رہنے والے مکینوں نے 50ہزار کی مالیت والے فرنیچر (صوفے، الماری وغیرہ) 15ہزار میں خریدے، جب انہوں نے بعد میں اس کا ذکر اپنے عزیز و اقارب سے کیا تو انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ بھئی ہمیں بھی بلا لیتے، ہم بھی اس ’’سہولت‘‘ سے فائدہ اٹھالیتے۔ شاید اس صورت حال پر اونٹ کا پہاڑ کے نیچے آنے والا محاورہ تخلیق ہوا تھا۔ کیونکہ عام طور پر گاہکوں کو دکانداروں سے شکایات رہتی ہیں کہ وہ انہیں خریداری کے معاملے میں دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہتے ہیں۔ نمائندہ اخبار جہاں نے بہت سے علاقوں میں دکانداروں سے تجاوزات کے بارے میں ان کی رائے معلوم کی۔ لیاقت آباد میں نیرنگ گلی میں واقع ایک مشہور ترین پائے فروخت کرنے والے صاحب نے بتایا کہ مجموعی طور پر یہ مہم خوش آئند ہے مگر اس کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ ابھی صبح کے وقت آپ جو یہ روڈ دیکھ رہے ہیں، اس پر 3ٹرک ایک ساتھ گزر سکتے ہیں مگر دوپہر کے بعد اس قدر پتھارے لگ جاتے ہیں کہ موٹر بائیک کو بھی بمشکل راستہ مل پاتا ہے۔ شاہ فیصل کالونی نمبر1 بازار کے مین روڈ پر واقع کپڑے کی دکان کے مالک جنید رفیق نے بھی اس رائے کا اظہار کیا کہ گزشتہ 20سالوں سے ہم دیکھتے آئے ہیں کہ تجاوزات کے خلاف مہم چلتی رہتی ہے مگر پھر اداروں کی ملی بھگت سے پتھارے لگ جاتے ہیں۔ اس دفعہ امید تھی کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں انسداد مہم شروع ہوئی ہے تو اس کے مثبت اور دیرپا نتائج برآمد ہوں گے مگر جیسے ہی ایک دو ہفتے گزرے، صورت حال پھر پہلے جیسے ہوگئی۔ جمشید روڈ کے رہائشی ایک سماجی کارکن محمد شہزاد نے کہا کہ محکمہ انسداد کے عملے نے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ رہائشی عمارتوں کو نہیں چھیڑا جائے گا مگر کئی علاقوں میں وہ مکانات بھی منہدم کردئیے گئے، جن کی قانونی دستاویزات لوگوں کے پاس تھیں۔ جمشید روڈ پر واقع ایک پانچ منزلہ عمارت کے دو فلور مسمار کردیئے گئے، مگر وہاں کے مکینوں نے اہل خانہ کے ساتھ سخت احتجاج شروع کردیا تو کارروائی روک دی گئی۔ بفرزون کے رہائشی ریٹائرڈ بینک آفیسر غلام مصطفیٰ جیلانی نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف مہم کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ تجاوزات مسمار کرنے کے بعد وہاں سے ملبہ اٹھانے اور اس جگہ پر دوبارہ تجاوزات قائم نہ ہونے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ انسداد تجاوزات کے خلاف مہم شاید تعطل کا شکار ہوجائے یا ابتداوالی تیزی نہ رہے مگر نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد زیادہ سرگرمی اور سختی سے یہ مہم نہ صرف جاری رکھنے بلکہ اس کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے کم از کم 500عمارتیں گرانے کا حکم جاری کردیا، جس سے یہ مہم ختم ہونے یا اس میں کمی آنے کے حوالے سے افواہیں دم توڑ گئیں۔ تاہم اس موقع پر سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے یہ بیان دے کر ہلچل مچادی کہ چاہے ان کی وزارت چلی جائے، وہ کسی طور رہائشی عمارتوں کو گرانے کا کام نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ سمیت عدلیہ کے تمام فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کے پابند ہیں مگر جس طرح500 عمارتوں کو توڑنے کے احکامات دئیے گئے ہیں، یہ کسی صورت ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔ عدلیہ کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ ہم اب تک تجاوزات کے بعد توڑی جانے والی دکانوں کے دکانداروں کو قانونی معاملات کے باعث دکانیں فراہم نہیں کرسکے تو کس طرح سیکڑوں گھروں کے مالکوں کو چند ہفتوں یا مہینوں میں گھرفراہم کرسکتے ہیں۔ سندھ حکومت کے پاس اتنا بجٹ نہیں کہ وہ اربوں روپے اس مد میں خرچ کرسکے۔
وزیر بلدیات کے عدالتی احکامات نہ ماننے کے بیان پر ایک شہری محمود اختر نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر بلدیات نے یہ بیان دے کر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی اور تضحیک کی ہے۔ اس لئے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کی کارروائی کرتے ہوئے دیگر سزا کے ساتھ ساتھ انہیں تاحیات نااہل قرار دیا جائے۔
کراچی میں غیرقانونی عمارتیں اور شادی ہالز گرانے کے سپریم کورٹ کے احکامات پر ملک کی تین بڑی جماعتوں تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے قانون کی خلاف ورزی کرکے بنائی گئی عمارتوں کے انہدام کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے گرانے سے تباہی آجائے گی۔ یہ عمارتیں سالوں سے ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کررہی ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ انہدام کی بجائے بلڈر/ ڈیویلپر پر جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اور وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات، قانون اور اینٹی کرپشن مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پیپلزپارٹی انسداد تجاوزات کے نام پر شہریوں کو بے گھر کرنے کی حامی نہیں ہے۔ کیماڑی سے سرجانی ٹائون تک پی پی نے کراچی کی تعمیر کی ہے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ بلڈنگ توڑوں گا، نہ شادی ہال گرائوں گا، استعفیٰ دے دوں گا۔ ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے تجویز پیش کی کہ عمارتیں چھوڑ کر بلڈرز کو پکڑا جائے۔ کراچی میں غیرقانونی عمارتیں، شاپنگ مال اور شادی ہالز ازخود نہیں بنے۔ مالک کون تھے، حکومتیں کس کی تھیں، تحقیق کریں اور لوگوں کو سچ بتائیں۔ دریں اثنا امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ کراچی میں 500عمارتیں گرانے سے قبل تمام فریقین کا موقف سنا جائے اور متعلقہ اداروں کے ذمہ داروں کو بھی طلب کیا جائے، جن کی اجازت اور نگرانی میں یہ تعمیرات کی گئیں۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ کراچی کے عوام کو بے گھر اور بے روزگار ہونے سے بچایا جائے۔ حکومت سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست داخل کرے۔ ورنہ لاکھوں افراد بے گھر اور بے روزگار ہوجائیں گے۔