February 11, 2019
برطانیہ کے متوقع بادشاہ پرنس چارلس کی زندگی کے سنسنی خیز نشیب و فراز - قسط  :   2

برطانیہ کے متوقع بادشاہ پرنس چارلس کی زندگی کے سنسنی خیز نشیب و فراز - قسط : 2

کمیلا پارکر چیخ کر بولیں ’’میں زندگی اپنی مرضی سے گزاروں گی‘‘

یہ 22 ؍ستمبر 1999ء کا ذکر ہے، نیویارک کے ’’کارلائل ہوٹل‘‘ کے ایک رائل سوئٹ میں مقیم کمیلا پارکر فون پر پرنس چارلس سے بات کر رہی تھیں۔ پرنس چارلس اس وقت کمیلا پارکر سے تین ہزار میل دور، لندن کے نواحی علاقے گلوسیسٹر شائر میں واقع اپنی قیام گاہ ’’ہائی گروو‘‘ کے اسٹڈی روم میں فون پر یہ گفتگو سن رہے تھے۔ کمیلا پارکر اس وقت سخت غصے میں تھیں۔ ان کے غصے کا نشانہ صرف پرنس چارلس ہی نہیں بلکہ ان کے دوست نکولس سومز بھی تھے جو کنزرویٹو پارٹی کے رکن اور پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔ وہ سرونسٹن چرچل کے پوتے تھے اور پرنس چارلس کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔
چند لمحے پہلے پرنس چارلس نے کمیلا پارکر سے فون پر کہا تھا ’’نکولس سومز کا کہنا ہے کہ تم اپنے دورئہ امریکا میں اپنے آپ کو بہت نمایاں کر رہی ہو۔ میڈیا تمہیں غیرضروری طورپر بہت زیادہ پبلسٹی دے رہا ہے اور اس میں تمہاری کوششوں کو زیادہ دخل ہے۔‘‘
اس بات پر کمیلا پارکر بولز بری طرح بھڑک اٹھی تھیں۔ انہوں نے چیخ کر کہا تھا۔ ’’میں ایسا ہی کروں گی۔ میں جو کر رہی ہوں، ٹھیک کر رہی ہوں۔ یہ میری زندگی ہے اور اسے میں اپنی مرضی سے گزاروں گی۔‘‘
’’اچھا… خیر… چھوڑو…‘‘ برطانیہ کے مستقبل کے بادشاہ پرنس چارلس نے تحمل سے کہا۔ ’’مارک بولینڈ واپس آجائے تو پھر ہم سب ایک میٹنگ کریں گے۔ شاید وہ ان سب باتوں کی وضاحت کر سکے۔‘‘
33 سالہ مارک بولینڈ کی حیثیت رسمی اور ظاہری طور پر 1996ء سے پرنس چارلس کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کی تھی لیکن اس کی اصل حیثیت اس سے کہیں بڑھ کر تھی۔ درحقیقت وہی طے کرتا تھا کہ پرنس چارلس اور کمیلا کی عوام میں مصروفیات کیا ہوں گی، وہ کسی بھی دورے پر جائیں گے تو کون کون سی دعوتیں قبول کریں گے، کس جگہ کس نوعیت کی تقریر کریں گے، کس طرح کا طرزِ عمل اختیار کریں گے۔ مارک بولینڈ کو ہر وقت یہ خیال رکھنا ہوتا تھا کہ عوام کے سامنے پرنس چارلس یا کمیلا پارکر کا کیا امیج بن رہا ہے؟ گوکہ ابھی پرنس چارلس سے کمیلا پارکر کی شادی نہیں ہوئی تھی لیکن پرانے تعلقات کی ٹوٹی ہوئی ڈور دوبارہ جڑ چکی تھی اور کمیلا کو کافی حد تک شاہی خاندان کی فرد ہی سمجھا جانے لگا تھا۔
اس وقت مارک بولینڈ، کارلائل ہوٹل کے اسی رائل سوئٹ میں موجود تھا جہاں کمیلا پارکر فون پر پرنس چارلس کو ڈانٹ پلانے کے انداز میں بات کر رہی تھیں۔ وہیں مائیکل فاسیٹ بھی موجود تھا جو بیس سال سے بھی زیادہ عرصے سے چارلس کا وفادار اور قابل اعتماد گھریلو ملازم تھا۔ درحقیقت اس کی اصل حیثیت بھی گھریلو ملازم سے کہیں بڑھ کر تھی۔ دونوں ہی اس بات پر دل ہی دل میں خوش تھے کہ پرنس چارلس کے نرم اور صلح جویانہ انداز گفتگو کے جواب میں کمیلا پارکر ان سے ڈانٹ ڈپٹ کے انداز میں بات کر رہی تھیں۔ ان دونوں کو معلوم تھا کہ کمیلا پارکر جب نیویارک کے دورے پر آرہی تھیں تو شاہی محل کے مقتدر حلقے کی خواہش یہی تھی کہ وہ اس دوران اپنے آپ کو کسی نہ کسی چار دیواری تک ہی محدود رکھیں، لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہیں اور میڈیا میں ان کا تذکرہ برائے نام آئے یا پھر بالکل ہی نہ آئے۔
تاہم جب کمیلا پارکر کے اس چار روزہ دورے کا پروگرام بنا تھا تو مارک بولینڈ نے پرنس چارلس پر واضح کردیا تھا کہ وہ اس دوران کمیلا پارکر کا کچھ ایسا امیج بنانے کی کوشش ضرور کرے گا جیسے وہ امریکی عوام میں کافی مقبول ہیں۔ دراصل وہ ہمیشہ سے ہی پرنس چارلس کی پہلی بیوی آنجہانی پرنسیس کی مقبولیت اور عوامی امیج کے بوجھ تلے ایسی دبی ہوئی تھیں کہ ان کی اپنی شخصیت کا کوئی قابل ذکر یا اچھا تاثر بن ہی نہیں پایا تھا۔ پرنسیس ڈیانا 1985ء میں امریکا کے دورے پر آئی تھیں تو انہوں نے گویا چند گھنٹوں کے اندر اندر عوام کے دل جیت لئے تھے اور پہلے ہی دن اندازہ ہونے لگا تھا کہ وہ پورے امریکا میں کس قدر مقبول ہیں۔
اب کمیلا پارکر کا تذکرہ اور ان کی ایک ایک لمحے کی مصروفیت کا تذکرہ جس طرح امریکی میڈیا میں آرہا تھا اور خبروں کے اس طوفان کی لہریں جس حد تک برطانوی میڈیا کی طرف بھی جا رہی تھیں، اس کا مقابلہ پرنسیس ڈیانا کی شہرت اور مقبولیت سے تو نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن 52 سالہ کمیلا پارکر بولز کو پھر بھی اپنے ملک سے باہر، امریکا جیسے ملک میں مارک بولینڈ کی کاوشوں سے میڈیا میں جو پذیرائی مل رہی تھی، وہ اس سے دست بردار ہونے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھیں۔ پرنس چارلس سے مزید چند لمحے کی بحث و تمحیص کے بعد کمیلا پارکر نے فون کا ریسیور مارک بولینڈ کی طرف بڑھا دیا جو ان کے لیے ’’میڈیا ایڈوائزر‘‘ کے فرائض انجام دیتا تھا۔
مارک بولینڈ کو پرنس چارلس نے پرنسیس ڈیانا کی المناک حادثاتی موت سے ایک سال قبل ملازم رکھا تھا اور اس کا واحد مقصد کمیلا پارکر بولز کے امیج کو بہتر بنانا تھا۔ اس وقت تک ان کا امیج پرنس چارلس کا ’’گھر اُجاڑنے والی‘‘ عورت کا تھا جس کے خلاف ملکہ الزبتھ کے دل میں بھی زبردست غم وغصہ تھا۔ وہ اس بات پر برہم تھیں کہ پرنس نے ڈیانا کی زندگی میں ہی اپنی ماضی کی محبوبہ سے دوبارہ تعلقات استوار کر لیے تھے۔ ملکہ اب بھی کمیلا پارکر کو پرنس چارلس کی داشتہ سے زیادہ مقام نہیں دیتی تھیں۔
ادھر کمیلا پارکر کو، تین سال تک پرنس چارلس سے چھپ چھپ کر ملنے کے بعد 1996ء میں امید نظر آنے لگی تھی کہ وہ باضابطہ طور پر پرنس کی زندگی میں داخل ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے پرنس سے بار بار تقاضا شروع کر دیا تھا ’’آخر آپ مجھے اپنی والدہ سے کیوں نہیں ملواتے؟‘‘
اب، جبکہ وہ پرنس چارلس کی زندگی میں کسی نہ کسی حیثیت سے داخل ہو چکی تھیں تو انہوں نےا پنا امیج بہتر بنانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے شروع کردیئے تھے۔ اب انہیں اس کے لیے وسائل اور ذرائع بھی میسر تھے۔ امریکا کے چار روزہ دورے کا پروگرام بنتے ہی مارک بولینڈ، کمیلا پارکر کا امیج بہتر بنانے کے لیے لندن میں ہی پوری طرح سرگرم ہو گیا تھا۔ اس نے پریس وغیرہ میں ڈوریاں ہلانا شروع کر دی تھیں۔ جس روز کمیلا پارکر کو امریکا روانہ ہونا تھا، لندن کے روزنامہ ’’سن‘‘ کی سرخی تھی۔ ’’آج کمیلا پارکر نیویارک کے افق پر آندھی طوفان کی طرح چھا جائیں گی۔‘‘
اس اخبار نے اس خبر کے ساتھ ہی ان امریکی سیلبرٹیز کی فہرست بھی شائع کر دی تھی جو گویا اس انتظار میں مرے جا رہے تھے کہ کمیلا پارکر انہیں اپنے ساتھ لنچ یا ڈنر کرنے کے لیے مدعو کریں۔ مارک بولینڈ نے ’’سن‘‘ کو یہ خبر بھی فراہم کی تھی کہ امریکی ٹی وی کی مشہور اینکر پرسن باربرا والٹرز ایک ڈنر میں کمیلا پارکر سے ملاقات کریں گی، ارب پتی بینکر ایڈمنڈ سافرا، کمیلا کے اعزاز میں ڈرنک پارٹی دے گا اور مشہور دولتمند، سماجی شخصیت بروک ایسٹر، کمیلا کے اعزاز میں لنچ کا اہتمام کریں گے جس میں اداکار مائیکل ڈگلس بھی مدعو ہوں گے جو اپنی تقریر میں حاضرین کو بتائیں گے کہ انہوں نے ریاست ایریزونا کے کون سے خاص کلینک میں داخل ہو کر اپنا علاج کرایا اور اپنی حد سے بڑھی ہوئی نفسانی خواہشات کو معمول پر لائے۔
مارک بولینڈ کا کمیلا پارکر کو ان کے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہی اتنی کوریج دلا دینا بہت بڑی کامیابی تھی تاہم ملکہ الزبتھ نے کچھ ایسا محسوس کیا تھا جیسے یہ کمیلا پارکر کے دورے کی تشہیر نہیں ہو رہی تھی بلکہ ان کے خلاف کوئی مہم شروع ہو رہی تھی۔ ایک ایسی شخصیت جسے وہ ابھی تک پسند نہیں کرتی تھیں، اسے میڈیا میں اتنا نمایاں کیا جا رہا تھا۔ اس روز ملکہ کے ساتھ لنچ پر ان کا سب سے زیادہ قابل اعتماد میڈیا ایڈوائزر ڈیوڈ ایئرلی بھی موجود تھا۔ ملکہ اس پر نہ صرف اعتماد کرتی تھیں بلکہ اس کی عزت بھی کرتی تھیں، اس نے بھی کچھ ایسے ہی خدشے کا اظہار کیا جو ملکہ محسوس کر رہی تھیں۔ ملکہ کے ایما پر ڈیوڈ ایئرلی نے مارک بولینڈ سے رابطہ کر کے نرم انداز میں کہا تھا ’’کمیلا پارکر کے اس دورے کو میڈیا میں اتنا مت اُچھالو۔‘‘
’’اس میں کیا حرج ہے؟‘‘ مارک بولینڈ نے تیکھے لہجے میں کہا تھا ’’میرے خیال میں تو یہ وقت کا تقاضا ہے۔‘‘
ڈیوڈ ایئرلی دانت پیس کر رہ گیا لیکن اس نے مزید کچھ نہیں کہا۔ تحمل سے کام لیا۔ ڈیوڈ اور بولینڈ، دونوں ہی کو معلوم تھا کہ شاہی محل میں کوئی اچھی ملازمت حاصل کرنے کے بعد بڑے بڑے اچھے لوگوں کی شخصیت کے برے پہلو سامنے آنے لگتے تھے۔
کمیلا پارکر اپنی وفادار اسسٹنٹ امینڈ امینس کو ساتھ لے کر ایک کانکرڈ طیارے کے ذریعے نیویارک روانہ ہوئی تھیں۔ ان کے ٹکٹ جیوفری کینٹ نے بھجوائے تھے جو پرنس چارلس کی پولوٹیم کا فائنانسر اور ایک ٹریول ایجنسی کا مالک بھی تھا۔ مارک بولینڈ پہلے ہی کمیلا پارکر کے دورے کے انتظامات کرنے نیویارک پہنچ چکا تھا۔ اس نے کینیڈی ایئرپورٹ پر کمیلا کا استقبال کیا۔ جو لوگ کمیلا پارکر کے دورے کو کامیاب بنانے میں مارک بولینڈ کی مدد کر رہے تھے، ان میں ایک بارسوخ برطانوی پبلک ریلیشننگ کنسلٹنٹ پیٹر برائون اور ایک دولت مند شخص اسکاٹ بیسنٹ بھی شامل تھا۔
کمیلا پارکر جیسے ہی طیارے سے اتریں، اسکاٹ بیسنٹ انہیں اپنے ذاتی طیارے میں اپنے گھر لے گیا جو ایسٹ ہمپٹن میں تھا۔ کمیلا پارکر کو دو دن وہاں آرام کرنا تھا۔ ہوائی جہاز میں طویل سفر کرنے والوں کو ایک خاص قسم کی تھکن ہوجاتی ہے جس میں یہ احساس بھی ہوتا ہے، جیسے سر گھوم رہا ہو۔ اس کیفیت کو ’’جیٹ لیگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ اس لئے کمیلا پارکر کو اپنے گھر لے گیا تھا کہ وہ دو دن آرام کرلیں گی تو ’’جیٹ لیگ‘‘ مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔ حقیقت یہ تھی کہ کمیلا پارکر کو کوئی خاص جیٹ لیگ لاحق ہی نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ کانکرڈ طیارے میں آئی تھیں جو صرف تین گھنٹے میں لندن سے نیویارک پہنچ گیا تھا مگر اسکاٹ بیسنٹ ان لوگوں میں سے تھا، جو کمیلا پارکر کی نازبرداری کے بہانے ڈھونڈ رہے تھے۔ دو دن اپنے گھر پر آرام کرانے کے بعد اسے کمیلا پارکر کو ذاتی ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہٹن، نیویارک لے جانا تھا۔
(جاری