February 11, 2019
مصنوعی ذہانت کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش

مصنوعی ذہانت کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش

کراچی سمیت پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں صبح دفاتر اور کام کی جگہوں پر جانے اور شام کو گھر واپسی میں ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کو جس ذہنی کوفت اور اَذیت کا سامنا ہوتا ہے، اس میں روزافزوں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے زیادہ خود ہماری حکومتوں کی نالائقی، نااہلی اور بدانتظامی کا زیادہ دخل ہے لیکن یہ مسئلہ صرف پاکستان جیسے ترقّی پذیر ملک تک محدود نہیں بلکہ ترقّی یافتہ اور دولت مند ممالک بھی ٹریفک جام کے عذاب سے دوچار ہیں، تاہم ہم میں اور ان میں فرق یہ ہے کہ وہ اس مسئلے کا حل نکالنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں اور ہم دستیاب وسائل کو مزید بہتر کرنے کے بجائے ملکی وسائل کی لوٹ مار کے ساتھ سہولتوں کی بربادی کا تماشا بھی دیکھ رہے ہیں۔
ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس وقت پوری دُنیا میں جتنی کاریں اور دیگر گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں، آئندہ چند عشروں میں ان کی تعداد دُگنی ہو جائے گی، ایسی صورت میں حادثات سے نمٹنے، ٹریفک لائٹس کنٹرول کرنے اور متبادل راستوں کی تخلیق کیلئے نئے طریقے ڈھونڈنے ناگزیر ہیں تا کہ معمول کے مطابق ٹریفک رواں دواں رہ سکے۔ ہم میں سے شائد کوئی بھی ایسا شخص موجود نہ ہو جس نے ٹریفک جام کی اذیت کبھی نہ جھیلی ہو۔ ترقّی یافتہ دُنیا میں جہاں ٹریفک لائٹس پر ہی زیادہ تر ٹریفک کی روانی کا انحصار ہوتا ہے، وہاں بھی سرخ بتّی کے نشان پر گاڑیوں کی کئی کئی کلومیٹر طویل قطاریں لگ جاتی ہیں اور سواریوں کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سرخ لائٹ کبھی سبز نہیں ہوگی۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ گھنٹوں ٹریفک چیونٹی کی رفتار سے آگے بڑھتی رہتی ہے اور گاڑیوں میں سوار افراد خاموشی کی زبان میں ایک دُوسرے سے پوچھتے رہتے ہیں کہ ’’ہوا کیا ہے؟‘‘ اور چوراہے سے گزرتے ہوئے نہ کسی حادثے کا پتہ چلتا ہے اور نہ کسی اور واقعے کا اور پھر سے ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہو جاتی ہے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ بلاشبہ ٹریفک جام ہماری جدید اور انتہائی سریع الحرکت زندگی کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے اور ہم جس طریقے سے اس مسئلے سے نمٹ رہے ہیں، وہ اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ ہم جس طرح ایک جگہ سے دُوسری جگہ جایا کرتے یا سفر کیا کرتے تھے، اب ویسا کرنا ممکن نہیں رہا ہے گو کہ ٹریفک سے نمٹنے کا نظام ہر روز سڑکوں پر آنے والی نئی گاڑیوں کے ہجوم سے پیدا ہونے والی مشکلات دُور کرنے کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ سڑک یا موسم کے حالات میں ہونے والی تبدیلیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹریفک جام کو ختم کرنے کے اقدامات اکثر سُست رفتار ہوتے ہیں اور اب بھی بہت سی ٹریفک لائٹیں ٹائمرز پر کام کرتی ہیں جو اس مخصوص وقت سے ہم آہنگ نہیں ہوتی ہیں اور اس کی وجہ سے گاڑیوں کو آزادی کے ساتھ حرکت کرنے میں دُشواری ہوتی ہے۔
2015ء میں اندازہ لگایا گیا تھا دُنیا بھر کی سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد ایک ارب 30 کروڑ ہے اور ترقّی پذیر دُنیا کی معیشت میں جس طرح بہتری آ رہی ہے اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ 2040ء تک گاڑیوں کی تعداد 2 ارب سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ نئی سڑکوں اور بائی پاسیز کی تعمیر کے باوجود، ٹریفک کی یہ بڑھتی ہوئی سطح بہت جلد شہروں کے مصروف ترین حصوں سے گزرنے کی صلاحیت کھو دے گی اور ان علاقوں میں ٹریفک جام کا مسئلہ مزید سنگین ہو جائے گا لیکن مصنوعی ذہانت یا آرٹی فیشیل انٹیلی جنس (Artifical Intelligence) کی طاقت کے ساتھ نئی مواصلاتی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ٹھیک وقت پر بھاری مقدار میں ڈیٹا جمع کرنے سے یہ ممکن ہو سکے گا کہ ہماری سڑکوں پر روزانہ بنیادوں پر جس طرح گاڑیاں بڑھتی جا رہی ہیں اور ٹریفک جام ایک معمول بنتا جا رہا ہے، ہم اس پر قابو پانے کے قابل ہو جائیں گے۔ ترقّی یافتہ دُنیا میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ٹریفک جام کا مسئلہ حل کرنے میں خود ڈرائیو کرنے والی گاڑیاں (Self-Driving Vehicles) زیادہ اہم کردار ادا کر سکتی ہیں بشرطیکہ یہ روبوٹک گاڑیاں اس لائق بنائی جا سکیں کہ وہ گاڑی چلانے والے انسانوں کے مقابلے میں کم غلطی کریں اور زیادہ تیزی سے ردعمل ظاہر کر سکیں لیکن سڑکوں پر انہیں اپنی بہتر کارکردگی دکھانے میں ابھی کم از کم مزید 20 سال درکار ہوں گے۔ اسی دوران ہائی ویز کے انتظامات سنبھالنے والے اداروں اور شہری منصوبہ سازوں کو سڑکوں پر انسانوں، نیم خودکار اور خودکار ڈرائیوروں کے بہت زیادہ پیچیدہ ہجوم کو سنبھالنے پر بھی بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔ اس قسم کی تمام گاڑیوں کو بیک وقت سڑکوں پر چلانے کیلئے ٹریفک مینجمنٹ سسٹمز کو فوری طور پر نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
بھارت کے شہر بنگلور میں بھی طویل ٹریفک جام ایک معمول بن چکا ہے۔ اس شہر کی کچھ سڑکوں پر رش کے اوقات میں ٹریفک ایک گھنٹے میں صرف 4 کلومیٹر کی رفتار سے آگے بڑھتی ہے یعنی ڈھائی میل فی گھنٹہ کی رفتار سے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ’’سیمنز موبیلٹی‘‘ جو کہ ایک جرمن فرم ہے، اس نے ایک آزمائشی قسم کا مانیٹرنگ سسٹم بنایا ہے جو ٹریفک کیمروں کے ذریعہ آرٹی فیشیل انٹیلی جنس (AI) استعمال کرتا ہے۔ ٹریفک کیمرے خودکار طریقے سے گاڑیوں کا سراغ لگاتے ہیں اور یہ معلومات ایک مرکزی کنٹرول سینٹر کو بھیجی جاتی ہیں جہاں مسائل حل کرنے والے کمپیوٹرز سڑک پر موجود ٹریفک کے ہجوم کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اس کے بعد یہ سسٹم ٹھیک اس وقت سڑک پر ٹریفک کے ہجوم کو دیکھتے ہوئے ٹریفک لائٹس تبدیل کر دیتا ہے۔ تاہم اس کے لئے بہت زیادہ ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے اور خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ترقّی یافتہ دُنیا میں اس کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ٹریفک مانیٹرنگ سسٹمز، روڈ انفرا اسٹرکچر، کاروں میں بیٹھے افراد اور ڈرائیورز کے اپنے موبائل فونز سے بے تحاشا معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ ترقّی یافتہ ملکوں میں سڑکوں کے کنارے لاکھوں کیمرے لگے ہوتے ہیں جبکہ ہر گزرنے والی گاڑی سڑک کے نیچے چھپے ہوئے دھاتی لوپس میں خفیف برقی لہریں چھوڑتی جاتی ہے جس سے ٹریفک کی صورتحال کے بارے میں مزید معلومات مل جاتی ہیں۔ موٹر سوار افراد اپنی کاروں اور موبائل فونز میں جو نیوی گیشن سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں، ان سے بھی ٹریفک جام کی لمحہ لمحہ خبر مل جاتی ہے۔
یہ بات ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہے کہ ان میں سے کچھ مانیٹرنگ ٹیکنالوجی مثلاً ’’انڈکشن لوپس‘‘ کا استعمال 1960ء کی دہائی میں شروع ہو چکا تھا لیکن ہمارے ہاں کم از کم نیشنل ہائی ویز اتھارٹی بھی ابھی تک اپنی تعمیر کردہ سڑکوں میں اسے استعمال نہیں کر سکی ہے۔ دیگر بلدیاتی اداروں کا تو ذکر ہی کیا کیا جائے جن سے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی مرمت تک نہیں ہو پاتی۔ ہمارے ہاں ٹریفک کنٹرول کرنے سے زیادہ دہشت گردوں پر نظر رکھنے کیلئے سڑکوں کے کنارے اور چوراہوں پر اربوں روپے خرچ کر کے جو کیمرے نصب کئے گئے ہیں وہ یا تو کام ہی نہیں کرتے یا ایسی تصاویر اُتارتے ہیں جن میں قانون شکنوں کی شناخت ممکن نہیں ہوتی۔ دیگر ملکوں میں ٹریفک کنٹرول کرنے اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پڑھنے کیلئے ان کیمروں کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ مشی گن یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر گابور اوروز کہتے ہیں کہ اب یہ کوششیں کی جا رہی ہیں کہ ’’مصنوعی ذہانت‘‘ کی صلاحیتوں اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہوئے ہم اپنے شہروں میں جس طرح ایک جگہ سے دُوسری جگہ بدقت تمام حرکت کرتے ہیں، اس کو تبدیل کیا جا سکے۔
لندن میں ایلن ٹیورنگ انسٹی ٹیوٹ اور ٹویوٹا موبیلیٹی فائونڈیشن نے حال ہی میں ایک نیا پروجیکٹ شروع کیا ہے جس میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آرٹی فیشیل انٹیلی جنس استعمال کرتے ہوئے ٹریفک مینجمنٹ سسٹمز کو کس طرح زیادہ مؤثر اور مفید بنایا جا سکتا ہے۔ فی الحال یہ لوگ سیمولیشنز استعمال کر رہے ہیں جس میں مصنوعی طور پر ٹریفک کی پیچیدہ صورت حال کو بڑھانے کے بعد گھٹایا جاتا ہے اور اس طرح کمپیوٹرز کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ ٹریفک میں تبدیلی کے بارے میں کس طرح پیشگوئی کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ یہ سسٹم فی الحال آزمائشی مرحلے سے گزر رہا ہے لیکن انہیں اُمید ہے کہ بہت جلد حقیقی دُنیا میں اسے استعمال کیا جانے لگے گا۔ ٹویوٹا موبیلیٹی فائونڈیشن میں ریسرچ اور انوویشن کے شعبے کے سربراہ ولیم چیرنیکوف کہتے ہیں ’’مشینیں اگر زیادہ گہرائی میں جھانکنا سیکھ لیں تو ہم پیشگوئی کو بہتر کر سکتے ہیں۔ بڑے شہروں میں ٹریفک کے انتظامات سنبھالنے والے افراد اس صورت میں زیادہ تیزی کے ساتھ اور زیادہ بہتر معلومات کی روشنی میں سگنل کی ٹائمنگ، سسٹم استعمال کرنے والوں کو ٹریفک جام کی صورت میں متبادل راستے کی طرف رہنمائی اور کارپارکنگ کی گنجائش کے بارے میں دُرست اطلاع دے سکیں گے۔‘‘
پیٹزبرگ، پنسلوانیا میں ریسرچرز، سٹی منیجرز کے ساتھ مل کر اسی قسم کے ایک پروجیکٹ پر 2012ء سے کام کر رہے ہیں۔ اس شہر کے 50 انٹر سیکشنز پر ریپڈ فلوٹیک کمپنی کی تیار شدہ Surtrac ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے اور اس سے چوراہوں پر انتظار کرنے کے وقت میں 40 فیصد کمی آ چکی ہے جبکہ اندرون شہر سفر کے وقت میں بھی 25 فیصد کمی آئی ہے اور گاڑیوں سے مضر صحت دُھواں اور بخارات کا اخراج 20 فیصد کم ہوگیا ہے۔ یہ سسٹم خودکار طور پر سڑک استعمال کرنے والوں کی تعداد معلوم کرنے کیلئے، جن میں راہ گیر اور اس انٹرسیکشن پر موجود ہر قسم کی گاڑیاں شامل ہوتی ہیں، ویڈیو سے بھیجی تصاویر استعمال کرتا ہے۔ اس کے بعد مصنوعی ذہانت والا سافٹ ویئر ان معلومات کو ایک ایک سیکنڈ کے لحاظ سے پروسیس کرتا ہے تاکہ اس چوراہے سے ٹریفک کو بہترین طریقے سے گزار سکے۔ اس مقصد کو پانے کیلئے ٹریفک کی لائٹیں اس طرح تبدیل کی جاتی ہیں کہ ٹریفک روانی کے ساتھ حرکت کرسکے۔ اس سلسلے میں فیصلے خود اختیاری طور پر کئے جا سکتے ہیں اور آس پاس کے انٹر سیکشنز سے شیئر بھی کئے جا سکتے ہیں تاکہ انہیں بھی پیشگی معلوم ہوجائے کہ کس قسم کی ٹریفک ان کی طرف بڑھ رہی ہے۔
موبائل فون اور دیگر وائرلیس ٹیکنالوجی کی مدد سے گاڑیاں چونکہ زیادہ جڑتی جا رہی ہیں اس لئے وہ مذکورہ سسٹمز کو زیادہ معلومات فراہم کرنے میں مدد کر سکیں گی۔ ’’ریپڈ فلو‘‘ کے گریفن شلز کے مطابق مستقبل میں ایک دُوسرے سے مواصلاتی طورپر مربوط گاڑیاں اپنی رفتار، ڈرائیور کے رویئے یہاں تک کہ آس پاس کی سڑکوں کی اہم خرابیاں بھی بتا سکیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال ہم لوگ سیکھنے کے مرحلے میں ہیں لیکن مستقبل میں یہ سب کچھ حقیقت بننے والا ہے۔ سڑکوں پر جدیدترین اور اسمارٹ ٹیکنالوجیز کے استعمال سے صرف ٹریفک جام کا مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس سے ٹریفک کے انتظامات کے اخراجات بھی کم ہو جائیں گے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی زیادہ تر کام خود سنبھالے گی اور انسانوں کی مداخلت کم ہو جائے گی اور یہ ضرورت باقی نہیں رہے گی کہ عملے کے افراد ٹریفک کیمرے کی تصاویر دیکھتے رہیں۔ خودکار نظاموں سے بہت بڑی تعداد میں سڑک استعمال کرنے والوں میں فرق کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔ مثال کے طورپر ان سے یہ مدد بھی ملے گی کہ پہلے سائیکل سواروں کو گزارا جائے یا بسوں کو یا ہنگامی نوعیت کی گاڑیوں کو؟ اس طرح سیفٹی بہتر ہوگی۔ ٹریفک اگر رواں دواں رہے تو ایندھن کا خرچ بھی کم ہوگا اور وہ تیل جلنے سے محفوظ رہے گا جو ٹریفک جام کی صورت میں سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں میں خوامخواہ ضائع ہوتا رہتا ہے۔ ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہوگا کہ فضائی آلودگی کم ہو جائے گی اور لوگ صاف ہوا میں سانس لے سکیں گے، اس کا ماحول پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پارکنگ بھی آسان ہوگی اور کار سوار افراد اپنا جو وقت پارکنگ کی تلاش میں ضائع کرتے تھے، اسے کسی پیداواری کام میں استعمال کرسکیں گے

گنجان ترین ٹریفک والے 12دن تک جاری ٹریفک جام
پوری دنیا میں ٹریفک کے حوالے سے سب سے زیادہ گنجان دس بڑے شہروں میں سے پانچ امریکا میں واقع ہیں۔ سالانہ بنیاد پر ٹریفک ڈیٹا کا اندازہ اور تجزیہ کرنے والی فرم Inrixکے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ گنجان ٹریفک لاس اینجلس کی ہے جس کے بعد نیویارک سٹی اور ماسکو کا نمبر آتا ہے۔ یہ دونوں شہر دوسرے نمبر پر ہیں۔ چوتھے نمبر پر ساؤپولو (برازیل)، پانچواں بڑا شہر سان فرانسسکو، چھٹا بوگوٹا، ساتواں لندن، آٹھواں اٹلانٹا، نواں پیرس اور دسویں نمبر پر میامی ہے۔ یہ اسکور کارڈ 1360شہروںکے تجزیے کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ لاس اینجلس کے شہریوں کے گزشتہ سال اوسطاً 102گھنٹے رش کے اوقات کے دوران ٹریفک جام میں ضائع ہوگئے تھے جس کی وجہ سے ہر ڈرائیور کو 2828ڈالر کا نقصان ہوا تھا اور پورے شہر کو 19ارب 20کروڑ ڈالر کا براہِ راست یا بالواسطہ اخراجات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ٹریفک کے حوالے سے دنیا کا سب سے گنجان ملک تھائی لینڈ ہے جہاں ڈرائیورز کو رش کے اوقات میں اوسطاً 56گھنٹے سالانہ دورانِ سفر ضائع کرنے پڑتے ہیں۔ دس گنجان ترین ٹریفک رکھنے والے ملکوں میں تھائی لینڈ کے بعد انڈونیشیا، کولمبیا، وینزویلا، امریکا، روس، برازیل، جنوبی افریقہ، ترکی اور برطانیہ کا نمبر آتا ہے۔
اگست 2010ء میں بیجنگ سے تبت جانے والے ایکسپریس وے پر ٹریفک جام کی وجہ سے ڈرائیوروں کو جس ذہنی کوفت اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا، اس کی مثال اب تک نہیں ملی۔ یہ ٹریفک جام 62میل طویل تھا اور مسلسل 12دن تک برقرار رہا۔ ایکسپریس وے پر ٹریفک جام سڑک بند ہونے یا کسی قدرتی آفت کی وجہ سے نہیں ہوا تھا بلکہ ایک ہی وقت میں بہت زیادہ گاڑیوں کے پہنچنے کی وجہ سے سڑک مسدود ہوگئی تھی اور ان گاڑیوں میں بڑی تعداد ان بھاری ٹرکوں کی تھی جو تعمیراتی سامان بیجنگ لے جارہے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تعمیراتی سامان ٹریفک جام کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے سڑکوں کی تعمیر میں استعمال کے سلسلے میں بھیجا جارہا تھا۔