February 11, 2019
کوت لکھپت جیل کے اسیر کی باتیں  ملاقاتیوں کی زبانی…!!

کوت لکھپت جیل کے اسیر کی باتیں ملاقاتیوں کی زبانی…!!

سابق وزیراعظم نواز شریف کے ملاقاتیوں کے حوالے سے گزشتہ دنوں لوگوں کو ان کے اسیری کے شب و روز کے احوال کا علم ہوا، اُن کے ملاقاتیوں نے جن میں اہم مسلم لیگی راہنما شامل تھے، جو منظر کشی کی اور باہمی مکالموں کا تذکرہ کیا، اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ میاں صاحب کی حِس مزاح برقرار ہے اور حوصلے بلند۔ ملاقاتیوں نے اُن سے طبیعت کے بارے میں استفسار کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میرا دل بڑھ گیا ہے۔ ڈاکٹرز کو یہ بات اب پتا چلی ہے، میں تو پہلے سے ہی بڑے دل والا ہوں۔ میاں صاحب نے خود کہا کہ میرا حوصلہ بلند ہے۔ ملاقاتیوں کا بھی یہی بتانا تھا کہ میاں صاحب پُراعتماد ہیں اور اُنہیں یقین ہے کہ وہ جلد ہی جیل سے رہائی پالیں گے۔ گو کہ اُن کی شریک زندگی محترمہ کلثوم نواز نے اردو ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی تھی اور اُنہیں ادب سے خاص لگاؤ تھا لیکن میاں صاحب کے لیے اردو کے اشعار یاد رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے، البتہ اب اسیری کے حوالے سے اُن کو اساتذہ کا کلام خوب یاد ہے۔ انہوں نے اپنے ملاقاتیوں کو اشعار بھی سنائے جن میں غالب کا یہ شعر بھی شامل تھا۔
زندگی اپنی جب اس مشکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
تاہم میاں نواز شریف کے دورِ اقتدار میں اہم ملکی مناصب پر فائز رہنے والی شخصیات کی کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے لیے جانے والی شخصیات کی جس طرح تضحیک کی گئی، وہ ان شخصیات کی نہیں بلکہ ملک کے اعلیٰ ترین مناصب کی توہین تھی۔ سابق صدر ممنون حسین جو تقریباً ایک سال بعد اُن سے پہلی ملاقات کے لیے پہنچے تھے، ملاقاتیوں کی فہرست میں اُن کا نام موجود تھا لیکن ان کے سابقہ منصب کا کوئی حوالہ نہیں تھا۔ چنانچہ جب ملاقات کے لیے پہنچے تو شاید جیل کے اہلکار اُنہیں ’’پہچان‘‘ نہ سکے، نہ صرف سابق صدر کو کسی قسم کا کوئی پروٹوکول نہیں دیا گیا بلکہ ایک پولیس اہلکار نے اُنہیں ایک طرف کھڑے ہونے کی ہدایت کی۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی چیک پوسٹ سے کسی لیگی راہنما کی گاڑی میں بیٹھ کر جیل کے احاطے تک گئے۔ مریم اورنگ زیب رکشے میں اور جاوید ہاشمی ایک موٹرسائیکل پر لفٹ لے کر جیل تک گئے۔ اطلاعات کے مطابق سابق صدر ممنون حسین سمیت ملاقاتیوں کی جامہ تلاشی بھی لی گئی۔