February 11, 2019
شہباز شریف بمقابلہ شیخ  بڑا مقابلہ ہونے والاہے

شہباز شریف بمقابلہ شیخ بڑا مقابلہ ہونے والاہے

پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف جو اب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں اور پارلیمنٹ کی سب سے اہم پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بھی۔ اسی لیے بہ لحاظ پارلیمانی منصب اُنہیں منسٹرز انکلیو میں اپوزیشن لیڈر کی اعلیٰ رہائشگاہ میں قیام کا استحقاق حاصل ہے لیکن چونکہ اُن پر نیب کی جانب سے بدعنوانیوں کے ریفرنسز ہیں، اس لیے وہ نیب کی تحویل میں ہیں اور اُنہیں سرکاری اہلکاروں کی حراست میں قومی اسمبلی کے اجلاس اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی میٹنگ کے لیے لاہور سے اسلام آباد لایا جاتا ہے، جہاں وہ نہ صرف منسٹرز انکلیو میں قیام کرتے ہیں بلکہ اُنہیں نیب کی جانب سے سیکورٹی، اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ کی حیثیت سے بھرپور پروٹوکول بھی حاصل ہوتا ہے اور وہ پوری شان و شوکت اور جاہ و جلال سے وہاں قیام کرتے ہیں۔ اُن کے بنگلے کے باہر تمام وقت سیکورٹی اور پروٹوکول کی گاڑیاں موجود ہوتی ہیں، پھر اُن کی آمدورفت کے مناظر بھی دیدنی ہوتے ہیں جب وہ گاڑیوں کے جلوس میں گزرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مناظر منسٹرز انکلیو میں سکونت پذیر وزراء اور دیگر حکومتی شخصیات کے لیے نہ صرف یہ کہ خوشگوار تاثر نہیں چھوڑتے بلکہ اُن کا مُوڈ خراب کرنے کے مترادف ہوتے ہیں، تاہم اس کا اظہار کرنے والوں میں وزیر ریلوے شیخ رشید احمد پیش پیش ہیں۔ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں بارہا کہا ہے کہ منسٹرز کالونی میں بدعنوانی کے الزام میں گرفتار نیب کے ایک ملزم کو رکھنے کا کوئی جواز نہیں، یہ بہت زیادتی ہے کہ وہاں کسی وزیر کو اتنا پروٹوکول اور سیکورٹی حاصل نہیں ہے جتنی نیب کے ملزم میاں شہباز شریف کو دی جارہی ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ میرے لیے یہ بات ناقابل برداشت ہے کہ میں بھی وزراء کی اُسی کالونی میں رہوں جہاں نیب کا ملزم رہتا ہے۔ واضح رہے کہ ان دنوں شیخ رشید اور شہباز شریف کے درمیان ’’میچ پڑا ہوا ہے‘‘ اور آنے والے دنوں میں اس میں شدت آنے والی ہے کیونکہ شیخ صاحب نے میاں شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنائے جانے پر عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ کمیٹی کا رکن بننے کے لیے بھی تیاری کررہے ہیں۔ اب وہ کمیٹی کے رکن بھی بن چکے ہیں تو چشم تصور سے یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کیا منظر ہوگا، جب میاں شہباز شریف کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے اجلاس کی سربراہی کررہے ہوں گے اور شیخ صاحب وہاں اپنے مخصوص لب ولہجے میں ’’اظہار خیال‘‘ کررہے ہوں گے، جس کا ایک اشارہ انہوں نے پہلے ہی یہ کہہ کر دے دیا ہے کہ ’’میرے جانے کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کے دو اجلاس ہوں گے۔‘‘