February 11, 2019
مراد سعید نے جرمن سفیر کو بھی  اپنا گرویدہ بنالیا…

مراد سعید نے جرمن سفیر کو بھی اپنا گرویدہ بنالیا…

پاکستان تحریک انصاف سے وابستگی رکھنے والے مراد سعید 2013 ء کے انتخابات کے نتیجے میں قومی اسمبلی کے رکن بنے تھے۔ اُس وقت اُن کی عمر محض 29 سال تھی اور اُس وقت وہ موجودہ اسمبلی کے کم عمر ترین رکن اسمبلی تھے۔ اس وقت وہ پوسٹل سروسز کے وفاقی وزیر ہیں، اس طرح اُنہیں یہ بھی انفرادیت حاصل ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کے کم عمر ترین وزیر ہیں لیکن اُن کا تذکرہ اس ’’کمسنی‘‘ کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اُن کی ’’شہرت‘‘ کی اصل وجہ اُن کی شعلہ بیانی ہے، جس کا مظاہرہ پہلے وہ ٹی وی چینلز پر کرتے دکھائی دیتے تھے اور اکثر ٹاک شوز کے دوران تلخی اور گرماگرم جملوں کے تبادلوں کے بعد نوعیت ہنگامہ آرائی تک بھی آجاتی تھی۔ اس حوالے سے ایک ٹاک شو میں سابق چیف جسٹس افتخار احمد چوہدری کے صاحبزادے کے ساتھ بات اس نہج پر پہنچ گئی کہ اس سے پہلے کہ فریقین ایک دوسرے سے دست بہ گریبان ہوجاتے، پروگرام کے میزبان کو پروگرام ہی ختم کردینا پڑا۔ اسی طرح قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں مراد سعید اپنے قائد عمران خان کا دفاع انتہائی پرجوش انداز میں کرتے ہیں اور وہ واقعہ شاید لوگوں کو بھولا نہ ہو، جب پارلیمنٹ ہاؤس میں ہی مسلم لیگ (ن) کے میاں جاوید اور مراد سعید میں باقاعدہ ’’لپا ڈکی‘‘ ہوگئی تھی اور دونوں دیر تک اپنے اپنے زخم سہلاتے رہے۔ تاہم یہ صورتحال پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے اور مراد سعید کے وزیر بننے سے پہلے تھی۔ اب ٹی وی شوز میں مراد سعید خاصی متانت اور شائستگی سے ایک وفاقی وزیر کی حیثیت میں اپنا مؤقف بیان کرتے ہیں لیکن قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران جب اپوزیشن بینچوں سے اُن کے وزیراعظم پر تنقید ہوتی ہے، اُن کے لئے تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں یا اُن پر الزامات عائد کیے جاتے ہیں تو وہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتے اور پھر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے کہ اکثر اوقات تو اپوزیشن ایوان سے ہی واک آؤٹ کرجاتی ہے جبکہ بسا اوقات ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے باعث اسپیکر کو اجلاس معطل کردینا پڑتا ہے۔ ان دنوں بھی یہی صورتحال ہے کہ جب مراد سعید ’’اظہار خیال‘‘ کرنے کے لئے اپنی نشست سے کھڑے ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ایوان میں صورتحال معمول کے مطابق نہیں رہے گی۔ اُن کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان بھڑک اُٹھتے ہیں اور ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہوجاتی ہے لیکن اپنے اس طرزِ عمل اور طرزِ تکلم کے باوجود کسی صورت بھی اُن کی صلاحیتوں سے انکار ہرگز نہیں کیا جاسکتا۔ اُن کے مخالفین خواہ کچھ بھی کہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے باعث ہمیشہ اپنے قائد کی ’’گڈ بک‘‘ میں رہتے ہیں اور محض چند ماہ کے عرصے میں وزیراعظم عمران خان نے اُن کی صلاحیتوں کی وجہ سے اُنہیں وزیر مملکت سے وفاقی وزیر بنادیا ہے اور بطور وفاقی وزیر برائے پوسٹل سروسز اُنہوں نےقلیل عرصے میں اس وزارت کا ڈھانچا اور پورا نظام تبدیل کردیا ہے اور لوگ جو اس محکمے سے دور ہوکر نجی شعبے کی طرف راغب ہورہے تھے، دوبارہ محکمہ ڈاک کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ اس تبدیلی کا اظہار دیگر لوگوں کے علاوہ پاکستان میں جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے بھی کیا۔ سفیر محترم نے اپنے ملک کے دارالحکومت برلن اپنے گھر والوں کو تحائف بھیجنے تھے، جس کے لئے اُنہوں نے نجی کوریئر سروس کی بجائے محکمہ ڈاک کا انتخاب کیا اور وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ نہ صرف اُنہیں 8گنا کم ادائیگی کرنا پڑی بلکہ اُن کے تحائف نجی کورئیر سروس سے پہلے اُن کے گھر پہنچ گئے، جس کے بعد مارٹن کوبلر باقاعدہ مراد سعید کو مبارکباد دینے کیلئے اُن کی وزارت گئے اور اُنہیں زبردست ستائش پیش کرتے ہوئے اُن کے ساتھ سیلفی بنائی اور اپنے ٹوئیٹر پر یہ پیغام بھی وائرل کیا کہ ’’مجھے پاکستان کے سب سے کم عمر وفاقی وزیر سے مل کر نہایت خوشی ہوئی۔ محکمہ ڈاک کو جدید بنانے کے لئے ان کے اقدامات اور لگن سے بہت متاثر ہوا۔ ان کی قیادت میں اس ادارے پر اعتماد اور بھروسا بڑھے گا۔ پاکستان پوسٹ کی ڈاک ٹکٹوں کیلئے آپ کا شکریہ۔‘‘