February 11, 2019
’’فروسٹ بائٹ‘‘ سے کیسے بچا جائے؟

’’فروسٹ بائٹ‘‘ سے کیسے بچا جائے؟

ان دنوں امریکا کا ایک بڑا وسط مغربی حصہ انتہائی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ پولر وورٹیکس (Polar Vortex) بتائی جا رہی ہے یعنی بحرمنجمد شمالی کے اوپر ہوا کے انتہائی کم دبائو کی وجہ سے آس پاس کے زمینی علاقے جمنے لگے ہیں۔ شکاگو میں درجۂ حرارت منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ اور نارتھ ڈکوٹا میں منفی 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں بھی درجۂ حرارت نقطہ انجماد سے20 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے جا چکا ہے۔ امریکی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ شدید سرد موسم میں انتہائی ناگزیر حالات میں گھروں سے باہر نکلا جائے کیونکہ اگر 10 منٹ بھی باہر گزارا جائے تو فروسٹ بائٹ (Frost Bite) کا خطرہ ہو سکتا ہے یعنی ’’پالے کی مار‘‘ یا ’’سرما زدگی‘‘ ہوسکتی ہے جس میں اعضاء سُن ہونے کے بعد گل جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ انتہائی شدید سردی میں اگر جلد کو کھلا رکھا جائے تو جلد کے بالکل نیچے کا ٹشو بھی منجمد ہوسکتا ہے اور اس ٹشو کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اسے ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہوتا، یعنی یہ نقصان ناقابل تلافی ہوتا ہے۔ اس فروسٹ بائٹ یا سرما زدگی سے متاثرہ شخص کے ہاتھوں اور پائوں کی انگلیاں اور دیگر اعضاء گل سکتے ہیں۔
فروسٹ بائٹ کیا ہے؟
اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف سرجری ڈاکٹر جے کیون بیلی نے بتایا کہ فروسٹ بائٹ سے اعضاء کو تقریباً ویسا ہی نقصان ہوتا ہے جیسا کہ آگ سے جلنے سے جلد کو ہوتا ہے۔ جلنے اور فروسٹ بائٹ دونوں میں یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے کہ درجہ حرارت کتنا شدید تھا اور آپ کتنی دیر تک اس درجہ حرارت میں رہے۔ ڈاکٹر بیلی نے کہا کہ اگر باہر کا درجہ حرارت منفی 5 یا منفی 10 ہو اور آپ باہر جانے کی کوشش کریں تو جسم کو نقصان پہنچنے کا وقت ڈرامائی طور پر کم ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کی جلد کسی کپڑے سے ڈھکی ہوئی نہیں ہے اور باہر یخ بستہ ہوائیں چل رہی ہیں تو چند منٹوں میں جلد کے نیچے کا ٹشو گل سکتا ہے اور اگر آپ ایسی حالت میں کوئی کدال یا پھائوڑا پکڑ لیں جو دھات سے بنا ہوا ہے تو چند سیکنڈز میں فروسٹ بائٹ اپنا اثر دکھا سکتی ہے۔ اگر فروسٹ بائٹ مسلسل ہو تو ایسی حالت میں خلیات زیادہ تیزی سے تباہ ہوتے ہیں۔ یہ خلیات یا تو پھٹ جاتے ہیں یا آکسیجن سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ایک مثال کے ذریعے آپ اس صورت حال کو یوں سمجھیں کہ آپ پانی کا کوئی کنٹینر لبالب بھر کر ڈیپ فریزر میں رکھیں اور اگر اس کنٹینر میں پانی کو پھیلنے کیلئے آپ نے کوئی جگہ نہیں چھوڑی ہے تو برف جمنے کے بعد یہ کنٹینر پھٹ جائے گا اور یہی حالت آپ کے جسم کے ٹشوز کی بھی ہوسکتی ہے اگر انہیں شدید فروسٹ بائٹ کا سامنا کرنا پڑے۔ جب سالمے منجمد ہوتے ہیں تو وہ زیادہ سخت اور انتہائی منظم بلوری ڈھانچے کی صورت میں پھیلتے ہیں۔ پانی جب جمتا ہے تو اس کا حجم تقریباً 9 فیصد کے حساب سے پھیلتا ہے جبکہ انسانی جسم کا تقریباً دو تہائی حصہ پانی ہی ہوتا ہے، اس لئے نقطہ انجماد سے نیچے کا درجہ حرارت انسانی ٹشوز کو تباہ کر دیتا ہے۔ لیکن اس انتہائی صورت یعنی جسم کی نسبتاً گہری سطح تک پہنچنے سے پہلے یہ نقصان خون کی نالیوں کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ جب خون کی نالیوں کی اندرونی سطح کو نقصان ہوتا ہے تو خون میں پھٹکیاں زیادہ آسانی کے ساتھ بننے لگتی ہیں اور یہ پھٹکیاں ہاتھ یا پائوں یا انگلیوں تک خون کے بہائو میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔ اس صورت میں خلیات مُردہ تو نہیں ہوتے لیکن خون سے محروم ضرور ہو رہے ہوتے ہیں اور جب ان خلیات کو خون نہیں ملتا ہے تو وہ آکسیجن سے بھی محروم ہونے لگتے ہیں اور اگر زیادہ دیر تک انہیں آکسیجن نہ ملے تو پھر یہ مرنے لگتے ہیں۔
فروسٹ بائٹ کے مراحل
’’سرما زدگی‘‘ کے پہلے مرحلے میں آپ کے ٹشوز میں سرخی جھلکنے لگے گی۔ یہ سرخی عام طور پر ہاتھوں یا پائوں کے سروں پر نظر آتی ہے۔ یہ جسم کے وہ حصے ہیں جنہیں ہم عموماً کھلا چھوڑ دیتے ہیں اور اسی طرح ہمارے چہرے اور کان بھی عام طور پر کھلے ہی رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ جسم کے یہ حصے دل سے کافی فاصلے پر ہوتے ہیں جو آکسیجن سے لبریز گرم خون پمپ کرکے ان اعضاء کو بھی گرم رکھتا ہے۔ جب سردی بہت شدید ہو تو ہمارا جسم انتہائی اہم اعضاء کو خون پہنچانے کو ترجیح دیتا ہے اور ان انتہائی کناروں تک جو بہت اہم نہیں ہوتے، خون کی روانی سُست ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد آپ کے جسم کے کچھ حصوں میں درد کا احساس یہ بتاتا ہے کہ فروسٹ بائٹ نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے۔ یہ Frostnip کا مرحلہ ہوتا ہے۔ درد کی یہ علامت یوں اچھی اور مددگار ہوتی ہے کہ اس کے ذریعہ آپ کا جسم آپ سے یہ کہتا ہے کہ ’’باہر بہت زیادہ سردی ہے، آپ اندر ہو جائیں‘‘ اگر یہ درد نہ ہو تو آپ باہر سنگین فروسٹ بائٹ کے خطرے سے زیادہ دوچار ہوسکتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریض اور وہ لوگ جن کے اعصاب مناسب طور پر کام نہ کر رہے ہوں، انہیں ایسی صورت حال میں زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد جسم کے یہ حصے سُن ہونے لگتے ہیں اور نقصان کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کو انگلیوں کے کناروں اور پوروں پر آبلے یا چھالے نظر آئیں تو آپ سمجھ جائیں کہ ہلکی نوعیت کے فروسٹ بائٹ سے آپ متاثر ہو چکے ہیں لیکن اگر آبلے ہاتھ پائوں کی انگلیوں کے پوروں سے نیچے نظر آئیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نقصان زیادہ گہرا اور شدید ہے۔ ایسی صورت میں فوری طبی مدد طلب کرنی چاہیے۔ نقطۂ انجماد سے کم تر درجۂ حرارت میں جلد اگر کھلی ہو تو صرف چند منٹوں میں یہ مرحلہ آ جاتا ہے۔ اس کے بعد کا مرحلہ بہت ہولناک ہوتا ہے۔ سنگین نوعیت کے اس فروسٹ بائٹ میں اُنگلیوں کے کنارے بے حس ہو جاتے ہیں، وہ بالکل زرد یا پھر نیلے اور پھر سیاہ پڑ جاتے ہیں اور سخت ہو جاتے ہیں۔ بعد ازاں ان حصوں میں زندگی باقی نہیں رہتی جنہیں الگ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ عموماً اس قسم کی صورت حال کسی شدید سرد علاقے میں محصور افراد کو یا شدیدترین سردی میں بے گھر افراد کو پیش آسکتی ہے۔ ذہنی طور پر معذور افراد جو موسم کی سنگینی کا اندازہ لگانے سے قاصر ہوں اور وہ کسی احتیاط کے بغیر باہر نکل جائیں، انہیں بھی سنگین نوعیت کے فروسٹ بائٹ کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
بچائو کیلئے کیا کرنا چاہئے؟
اگر آپ نے جسم کی حفاظت کرنے والے گرم کپڑے پہنے ہوں تو بھی آپ فروسٹ بائٹ سے متاثر ہو سکتے ہیں تاہم آپ کی جلد جتنی زیادہ ڈھکی ہو، اتنا کم نقصان ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر بیلی مشورہ دیتے ہیں کہ شدید سرد موسم میں اوّل تو بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے کی مہم جوئی نہ کی جائے اور اگر باہر جائیں بھی تو جلد کا کوئی بھی حصہ کھلا نہ چھوڑیں، انہیں مکمل طور پر ڈھانپے رکھیں اور اس میں چہرے اور کان کو ہرگز فراموش نہ کریں۔ ہاتھوں میں دُہرے دستانے (Mitten) پہنیں جن میں انگلیوں اور انگوٹھے کے خانے الگ الگ ہوتے ہیں اور پائوں میں انسولیٹڈ فل بوٹ ہونے چاہئیں۔ سر اور چہرے کو مکمل طور پر گرم اونی کپڑوں سے ڈھانپے رکھیں، خاص طور پر ناک کو جو باہر نکلی ہوتی ہے اور خطرے سے زیادہ دوچار ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر بیلی نے بتایا کہ سنگین نوعیت کی پالے کی مار سے ہاتھ، پائوں کی اُنگلیوں کے پوروں اور دیگر حصوں کو بچانے کیلئے ان کی ٹیم سب سے پہلے متاثرہ حصے کو نیم گرم پانی سے غسل دے کر انہیں گرم کرنے کی کوشش کرتی ہے پھر پھٹکیاں توڑنے والی وہ دوائیں استعمال کروائی جاتی ہیں جو ہارٹ اٹیک یا فالج کے مریضوں کو ی جاتی ہیں۔ اس طرح اگر خون کا بہائو بہتر ہو جائے تو خلیات مردہ ہونے سے بچ سکتے ہیں لیکن اس کے لئے انتظار کرنا پڑتاہے اور یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ ہاتھ پائوں میں کس حد تک زندگی واپس آ چکی ہے لیکن اگر یہ اعضاء سیاہ پڑ جائیں اور سخت رہیں تو پھر انہیں کاٹ کر الگ کرنا پڑتا ہے۔