February 11, 2019
ہماری آنتیں …صت کا مرکز!‘

ہماری آنتیں …صت کا مرکز!‘

بقراط نے اب سے ہزاروں برس پہلے کہا تھا ’’تمام بیماریوں کی ابتدا آنتوں میں ہوتی ہے۔‘‘ تاہم ’’رسنے والی آنت‘‘ (Leaky gut) کی اصطلاح پر اب بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے اور ذرائع ابلاغ اور میڈیکل کمیونٹی میں سے کچھ اس کا تمسخر بھی اُڑاتے ہیں لیکن یہ ایک بہت واضح طبی اصطلاح ہے جس کا مطلب ’’آنتوں میں ضرورت سے زیادہ نفوذ‘‘ ہے اور گزشتہ سو سال سے میڈیکل لٹریچر میں اس کا باقاعدہ ذکر موجود ہے۔ حال ہی میں جسم کے مدافعتی نظام پر حملہ آور ہونے والے امراض (Autoimmune Disease) کیلئے اس کو خطرناک عوامل میں شامل کیا جاچکا ہے۔ اس تباہ کن طبی کیفیت کے واقعات میں واضح طور پر اضافہ دیکھا جارہا ہے، جیسا کہ گزشتہ ایک عشرے میں خود مدافعتی بیماریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ دنیا بھر میں ٹائپ ون ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں صرف 1998ء اور 2008ء کے دوران 40فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ ایک ایسا مرض ہے جس کا رسنے والی آنت سے تعلق تسلیم شدہ ہے۔ آج اندازاً 5؍ کروڑ امریکی یعنی ہر 6 میں سے ایک امریکی باشندہ خود مدافعتی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ مختلف اقسام کی خود مدافعتی بیماریوں کی مجموعی تعداد ایک سو تک پہنچ رہی ہے جبکہ مزید 40 ؍ایسے امراض ہیں جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان کی بنیاد خود مدافعتی نظام کی خرابی ہوسکتی ہے۔ اگرچہ ریسرچرز بدستور یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ خود مدافعتی امراض کے پیچھے حقیقی معنوں میں کون سا میکنزم کام کر تا ہے تاہم طب سے وابستہ افراد نے یہ دیکھا ہے کہ بہت سی مختلف النوع بیماریاں جن میں الرجیز، دمہ، غذائوں سے حساسیت، نظام ہضم کی خرابیاں یا جوڑوں کا درد (آرتھرائٹس)، تھائی رائیڈ غدہ کی خرابیاں، یہاں تک کہ بہت مشکل سے ٹھیک ہونے والی بیماریاں جیسے کہ دیرینہ تھکاوٹ کا مرض اور آئوٹزم شامل ہیں، یہ سب اس صورت میں بہت بہتر ہوگئیں یا مکمل طور پر شفایابی مل گئی جب رسنے والی آنت کی خرابی کو دور کردیا گیا۔ اس وقت پوری دنیااس خرابی کی پوشیدہ وبائی گرفت میں ہے۔ ہم نے ایک طویل عرصے سے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہمارا غذا ہضم کرنے والا نظام اتنا زیادہ قابل التفات نہیں ہے کہ اس پر خاص توجہ دی جائے اور اپنے اسی رویئے کی بنا پر ہم اسے اس کی اصل غذایتوں سے محروم رکھتے ہیں جبکہ پروسیسڈ غذائوں اور زہریلی حد تک شکر ملی خوراک اسے بہم پہنچاتے ہیں۔ اس پر مزید ستم ماحول میں پائے جانے والے کیمیائی مادے، ذہنی دبائو اور حد سے زیادہ جراثیم کش اشیاء ڈھاتی ہیں۔ ایک طویل عرصے سے ہم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہمارا نظام ہضم صرف غذا کو توانائی میں تبدیل کرنے کا ذمہ دار ہے یا تحول غذا (Metabolism) کو باقاعدہ بنانے میں مدد کرتا ہے یا جسم کو فاضل پیداوار سے نجات دلانے میں کردار ادا کرتا ہےلیکن اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اس قسم کا نقطۂ نظر انتہائی افسوسناک حد تک نامکمل ہے اور اس وجہ سے اب تک اصل حقیقت پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ ہماری آنتیں غذائوں کو پروسیس کرنے کا صرف مرکز نہیں ہیں بلکہ خود صحت کا بھی مرکز ہیں۔