February 11, 2019
جان ٹرویوولٹا - باکمال فنکار لا جواب شخصیت

جان ٹرویوولٹا - باکمال فنکار لا جواب شخصیت

اصل سوال یہ نہیں کہ جان ٹریوولٹا کیا ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کیا نہیں؟ وہ اداکار ہیں اور گلوکار بھی، ڈانسر بھی ہیں اور پروڈیوسر بھی، مصنف بھی ہیں اور ہواباز بھی۔ 1972ء سے انہوں نے اداکاری شروع کی اور اب تک کئے ہی جارہے ہیں۔ ان کی ذاتی دولت کا محتاط تخمینہ 170 ملین ڈالرز لگایا گیا ہے۔ انہیں اب تک گولڈن گلوب، ایمی اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز سمیت مختلف اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔
جان جوزف ٹریوولٹا 18؍فروری 1954ء کو امریکی ریاست نیوجرسی کے شہر انگل وُڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ انہوں نے 16؍برس کی عمر میں ہائی اسکول کو خیرباد کہہ دیا تاکہ شوبز کیریئر شروع کرسکیں۔ ابتداء میں انہوں نے براڈوے تھیٹرز میں کام کیا۔ ٹی وی سیریز ’’ویلکم بیک کوٹر‘‘ (1975ء) نے پہلے پہل انہیں اسٹار بنایا۔ اگلے سال انہوں نے ٹی وی پر ’’دی بوائے اِن دی پلاسٹک ببل‘‘ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اسی وقت اداکارہ ڈیانا ہیلنڈ کے ساتھ ان کے معاشقے کا آغاز ہوا، جنہوں نے اس فلم میں ان کی ماں کا کردار نبھایا تھا مگر کینسر کے باعث ڈیانا کی موت کے ساتھ ہی ان کی محبت بھی دَم توڑ گئی۔ جان ٹریوولٹا نے فلمی کیریئر کی شروعات 1975-76ء میں دو ہارر فلموں ’’دی ڈیولز رین‘‘ اور ’’کیری‘‘ سے کی لیکن انہیں سپراسٹار کا درجہ اس وقت حاصل ہوا، جب مسلسل دو فلمیں ’’سیٹر ڈے نائٹ فیور‘‘ (1977ء) اور ’’گریز‘‘ (1978ء) باکس آفس پر زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ ’’سیٹرڈے نائٹ فیور‘‘ میں ٹونی مینیرو کے کردار نے جان ٹریوولٹا کو 70ء کے عشرے میں ڈسکو نائٹ لائف کلچر کا استعارہ یا سمبل بنادیا۔ اس فلم کی وجہ سے انہیں اکیڈمی ایوارڈ کے لئے بھی نامزد کیا گیا۔ اگلے ہی سال میوزیکل مووی ’’گریز‘‘ کی بے مثال کامیابی نے جان ٹریوولٹا کی اسٹار پاور کو دُگنا کردیا۔ اولیویا نیوٹن جان کے ساتھ ان کی جوڑی کو بے حد پسند کیا گیا۔ 6؍ملین ڈالرز کے بجٹ سے بننے والی اس فلم نے گلوبل باکس آفس پر 400ملین ڈالرز کمالئے۔ پھر ایک طویل وقفہ آیا، جس کے دوران انہیں زیادہ پذیرائی نہ مل سکی۔ ان کی فلمیں ’’اربن کاؤ بوائے‘‘ اور ’’لُک ہوز ٹاکنگ‘‘ تو کامیاب ثابت ہوئیں مگر ’’مومنٹ بائی موومنٹ، اسٹے اِنگ الائیو اور پرفیکٹ‘‘ وغیرہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ لیکن یہ سورج پھر اُبھرنے کیلئے ہی ڈوبا تھا۔ 1994ء میں ’’پلپ فکشن‘‘ کی شاندار کامیابی نے جان ٹریوولٹا کو ایک مرتبہ پھر عروج پر پہنچا دیا۔ اس فلم کے باعث انہیں اداکاری کے حوالے سے آسکر ایوارڈ کیلئے دوسری بارنامزدگی نصیب ہوئی، اوماتھرمین کے ساتھ ان کے دلکش ڈانس نے تو ناظرین کو مسحور کرڈالا۔ پھر تو ’’فیس آف، گیٹ شارٹی، پرائمری کلرز، بیٹل فیلڈ ارتھ، بی کول، بروکن ایرو، آئی ایم راتھ، لیڈر 49 اور وائلڈ ہاگس جیسی فلموں کی گویا جھڑی سی لگ گئی۔ ’’گیٹ شارٹی‘‘ پر انہیں گولڈن گلوب ایوارڈ سےبھی نوازا گیا۔ ’’پرائمری کلرز‘‘ (1998ء) میں ٹریوولٹا نے ایک سیاستدان کا کردار نبھایا۔ اس کردار میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی زندگی کی عکاسی کی گئی تھی۔ کسی بھی فلم میں جان ٹریوولٹا کی موجودگی اس بات کو بخوبی واضح کرتی ہے کہ اس فلم کی ہدایت کاری اور کہانی دونوں ہی بہترین ہوں گی، کسی بھی فلم میں ان کی موجودگی، اُس فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔
جان ٹریوولٹا کی فلموں ’’گریز‘‘ (Grease) اور ’’سیٹرڈے نائٹ فیور‘‘ نے انہیں شہرت کی اُن بلندیوں پر پہنچادیا تھا کہ معزز ترین لوگ ان کے ساتھ ڈانس کرنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ اس کی ایک بڑی مثال یہ تھی کہ 11؍نومبر 1985ء کو وائٹ ہاؤس میں اُس وقت کے صدر رونالڈ ریگن اور ان کی اہلیہ نینسی کی جانب سے شہزادہ چارلس اور پرنسیس ڈیانا کے اعزاز میں دیئے جانے والے گالا ڈنر کے موقع پر برطانوی پرنسیس ڈیانا کی خواہش پر جان ٹریوولٹا نے ان کے ساتھ رقص کیا۔
جان ٹریوولٹا ایک ورسٹائل فنکار ہیں۔ رقص و نغمات سے بھرپور فلمیں ان کی طاقت ہیں۔ ’’گریز‘‘ کی شاندار کامیابی کے بعد 2007ء میں انہوں نے دوسری میوزیکل مووی ’’ہیئر اسپرے‘‘ میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا ایسا جلوہ دکھایا کہ شائقین تو شائقین، خود نقادوںنے بھی انگلیاں دانتوں تلے دبالیں۔ اس فلم میں جان ٹریوولٹا نے وِگ، میک اَپ اور کاسٹیوم کی مدد سے ایک خاتون ایڈناٹرن بلیڈ کا کردار اتنی خوبصورتی کے ساتھ ادا کیا کہ دیکھنے والے بے اختیار عش عش کر اُٹھے۔
اس فلم پر ٹریوولٹا کو ایک مرتبہ پھر گولڈن گلوب ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا۔ 2008ء میں ڈزنی کی اینی میٹڈ فلم ’’بولٹ‘‘ میں جان ٹریوولٹا نے نہ صرف پس پردہ آواز (وائس اوور ایکٹنگ) کے جوہر دکھلائے بلکہ فلم کے اینڈ کریڈٹس کیلئے مائلی سائرس کے ساتھ دوگانا ’’آئی تھاٹ آئی لاسٹ یو‘‘ گاکر ایک مرتبہ پھر اپنی گلوکاری کی بھی دھاک بٹھادی۔ یہ سلسلہ یہیں نہ رُکا بلکہ اس کے بعد جان ٹریوولٹا نے ’’اولڈ ڈاگس، فرام پیرس ودھ لو، سیویجز‘‘ میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ انہوں نے 2011ء میں فلم ’’گوٹی‘‘ سائن کی تھی، جس میں انہیں نیویارک کے مافیا باس جان گوٹی کا مرکزی کردار دیا گیا۔ تاہم اس فلم کی ریلیز پے در پے مشکلات کا شکار ہونے کے باعث موخر ہوتی رہی۔ جان ٹریوولٹا کے  مداحوں کو اس کا بے چینی سے انتظار تھا لیکن جب گزشتہ سال بالآخر یہ فلم ریلیز ہوئی تو اس نے ناقدین اور شائقین، دونوں کو مایوس کیا اور بری طرح فلاپ ہوگئی۔ 2018ء میں ہی اُن کی ایک اور فلم ’’Speed Kills‘‘ بھی ریلیز ہوئی جبکہ تادم تحریر تین فلمیں "Trading Paint, The Poison Rose, Moose" پوسٹ پروڈکشن مرحلے میں تھیں، جن کی نمائش اسی سال متوقع ہے۔ سلور اسکرین کے ساتھ ساتھ جان ٹریوولٹا نے منی اسکرین پربھی شائقین کو بھرپور تفریح فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ’’دی فورجر‘‘ اور ’’امریکن کرائم اسٹوری: دی پیپل ورسز اوجے سمپسن‘‘ ان کی سپر ہٹ ٹی وی سیریز ثابت ہوئیں۔
جان ٹریوولٹا نے طیارہ اڑانے کی باقاعدہ تربیت لی ہے اور لائسنس یافتہ پروفیشنل ہوا باز ہیں۔ ان کے پاس مختلف جیٹ طیارے اڑانے کے 17 لائسنس ہیں۔ ایک بوئنگ 707طیارے سمیت کئی ہوائی جہاز ان کے ذاتی استعمال میں ہیں۔ انہیں آسٹریلیا کی قومی فضائی کمپنی نے اپنا گلوبل گڈ وِل ایمبیسیڈر مقرر کیا ہے۔ کمرشل فلائنگ کے فروغ کیلئے گرانقدر خدمات پر جان ٹریوولٹا کو ہوا بازی سے متعلق دو اعلیٰ اعزازات بھی مل چکے ہیں۔
جان ٹریوولٹا نے اپنی ہوابازی کی صلاحیتوں کا لوہا اس وقت منوایا، جب 24نومبر 1994ء کی رات وہ اپنے ذاتی طیارے میں فیملی اور دوستوں کو ایک تقریب کیلئے لے جارہے تھے۔ طیارہ ابھی واشنگٹن کی فضائوں میں تھا کہ اچانک اس کا الیکٹریکل سسٹم فیل ہوگیا۔ طیارے میں سوار سبھی افراد کو موت سامنے نظر آنے لگی مگر پائلٹ جان ٹریوولٹا نے طیارے کو نہایت مہارت کے ساتھ نائٹرو جن چارجڈ ایمرجنسی بریک استعمال کرتے ہوئے واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ پراتار لیا۔ ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران اگرچہ طیارے کے ٹائر برسٹ ہوگئے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ طیارے سے بحفاظت باہر آنے پر جان ٹریوولٹا کا حقیقی زندگی کے ہیروں کی طرح فقید المثال استقبال کیا گیا۔
فلوریڈا میں موجود جان ٹریوولٹا کا گھر بھی کسی عجوبے سے کم نہیں۔ طویل و عریض محل نما قیام گاہ میں جان ٹریوولٹا کے ذاتی طیاروں کے لئے ہینگر بھی خصوصی طور پر تعمیر کئے گئے ہیں جبکہ اڑان بھرنے اور لینڈنگ کے لئے باقاعدہ رن وے بھی موجود ہے، اس کے علاوہ ان کے گیراج میں درجنوں مہنگی، پرتعیش اور تاریخی ماڈلز کی کاریں بھی موجود ہیں۔ جان ٹریوولٹا اب تک دو کتابیں بھی تحریر کرچکے ہیں۔ پہلیPropeller One-Way Night Coach, A Fable for All Ages ہے، جبکہ دوسری کتاب کا عنوانJohn Travolta Staying Fit!ہے۔
جان ٹریوولٹا نے 1991ء میں اداکارہ کیلی پریسٹن سے شادی کی۔ انہیں قدرت کی طرف سے بیٹے جیٹ اور بیٹی ایلا بلیو کے تحفے ملے۔ 2009ء کے اوائل میں جان ٹریوولٹا اور کیلی پریسٹن کو اس وقت شدید جذباتی دھچکا لگا، جب ان کا اکلوتا بیٹا جیٹ صرف سترہ برس کی عمر میں انتقال کرگیا۔ یہ وقت ان کے لئے بڑا جاں گسل تھا لیکن وہ قدرت سے مایوس نہ ہوئے اور محض سوگ منانے کے بجائے انہوں نے آنجہانی بیٹے کی یاد میں ’’دی جیٹ ٹریوولٹا فائونڈیشن‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا اور اس کے بینر تلے رفاہی سرگرمیاں شروع کردیں۔ یہاں تک کہ اسی سال نومبر میں ان کی شریک حیات کیلی پریسٹن کی گود ایک بار پھر ہری ہوئی، دوسرے بیٹے کا نام انہوں نے بنجمن رکھا۔ جان ٹریوولٹا 2005ء میں نیو اورلینز میں سمندری طوفان سے تباہی اور 2010ء میں ہیٹی میں زلزلے کے بعد خود اپنا بوئنگ 707طیارہ اڑا کر امدادی سامان، طبی عملے اور رضا کاروں کے ہمراہ وہاں پہنچے تھے۔ ان کا ماننا ہے کہ ’’آدمی ہی آدمی کی دوا ہے۔‘‘