February 11, 2019
ماں عظیم ہوتی ہے

ماں عظیم ہوتی ہے

جب ہمارا وطن پاکستان معرض وجود میں آیا تو ان دنوں میں چھوٹی سی تھی اور دوسری جماعت میں پڑھتی تھی۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہوئیں ہم لوگ کراچی سے اپنے آبائی گائوں آجاتے اور خوب آم کھاتے اور کھجوروں کا لطف اٹھاتے۔
یہ اس زمانے کی یادیں ہیں جب پاکستان نیا نیا بنا تھا۔ مجھے یاد ہے ہم کراچی سے گائوں جارہے تھے۔ میں ریل میں اپنی والدہ اور دادی کے ہمراہ بیٹھی تھی۔ یہ فرسٹ کلاس کا ڈبا تھا اس میں ہم تین نفوس ہی تھے۔ کوئی اور نہیں تھا۔ میں ریل کی کھڑکی سے جھانک رہی تھی جہاں ریلوے اسٹیشن پر بہت سے خستہ حال لوگ فرش پر پڑے تھے۔ ان میں عورتیں، مرد، بوڑھے بچے سبھی موجود تھے۔ میری عمر کی بچیاں ریل کے قریب آکر حیرت سے ہمیں دیکھ رہی تھیں۔ ایک بچی کوئی گیت گاکر مانگ رہی تھی۔
دادی نے اسے کچھ کھانے کو دیا۔ ایک دوسری لڑکی اس منظر کو دیکھ کر دوڑی آئی اور مانگنے لگی۔ میری اماں اور دادی افسردہ ہوگئیں اور انہوں نے کھانے کا بھرا ہوا ٹفن ان کے حوالے کردیا۔
ہم گائوں پہنچے تو بہت تھکے ہوئے تھے۔ ان دنوں یہاں بجلی نہیں تھی۔ اڈے سے گھر تک پہنچتے پہنچتے یہاں بھی لوگوں کے پڑائو نظر آئے۔ بھارت سے یہ دیہاتی مسلمان ہجرت کرکے آئے تھے اور کچھ اس شہر کے قدیمی رہائشی جو ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ ہجرت کرکے بھارت جارہے تھے۔ ان ہجرت کرنے والے ہندوئوں کو ہمسایہ مسلمان بہت محبت سے رخصت کررہے تھے۔ ہندوئوں اور مسلمانوں دونوں کی آنکھیں نم تھیں۔
ان دنوں ہماری والدہ کی شادی کو چار برس ہوئے تھے اور میں ان کی پہلوٹی کی بچی تھی۔ میرے دوسرے نمبر والی بہن عزیزہ نے ابھی اس دنیا میں جنم نہیں لیا تھا۔ امی کا میکہ گائوں میں تھا سو دادی نے اصرار کیا کہ دوسرے بچے کی ولادت تک کراچی واپس جانے کا خیال ترک کردو۔ ابھی حالات صحیح نہیں ہیں۔ والدہ نے بات مان لی اور ہم اپنے دادا کے گھر قیام پذیر ہوگئے۔
ہمارا آبائی گھر کافی کشادہ تھا۔ ایک حصے میں رہائش تھی اور باقی حصے کو رہائش گاہ سے دیوار کے ذریعے الگ کردیا گیا تھا۔اس حصے میں گائے بھینس، بکریاں، مرغیاں، ایک عدد گھوڑا تھا جس پر بیٹھ کر دادا زمینوں پر جاتے تھے۔ گھوڑے کا سائیس اور دیگر نوکر وغیرہ رہتے تھے۔ اسی حصے میں جانوروں کا چارہ بھی مختلف کوٹھریوں میں رکھا جاتا تھا۔
مجھے شروع سے جانوروں میں کشش محسوس ہوتی، جب ہماری بکریوں میں سے کوئی بکری بچے کو جنم دیتی میں میمنا اٹھا کر لے آتی۔ اس کے نرم و ملائم ریشم سے بال بہت خوبصورت ہوتے۔ ایسے ہی مرغیوں کے چوزے نکلتے تو میں ان کو دیکھنے نوکروں والے پورشن میں جابیٹھتی تھی۔ وہ آپس میں تقسیم کی باتیں کرتے۔ ہندوستان پاکستان کے الگ ہونے پر فسادات کی خبروں پر تبصرے کرتے تو میں غور سے ان کی باتیں سنتی اور سوچتی کہ جب سب برسوں سے اکٹھے رہتے رہے ہیں تو یہ لوگ کیوں آپس میں ایک دوسرے کو قتل کررہےہیں۔ چونکہ ہمارا علاقہ واحد علاقہ تھا جہاں قتل و غارت اور لوٹ مار سے لوگوں نے اجتناب برتا۔ برائے نام ہی دور دیہات میں کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ ہم بچے اس ہولناک خون کی ہولی کے قصوں سے نا آشنا رہے اور ہمارے گائوں کی طرح یہاں کے بچوں کے ذہن بھی پرسکون رہے، تاہم ایسے تاریخی انقلاب میں ضرور ایسا کچھ نہ کچھ ہوتا ہے جو بچوں کے ذہنوں کو اتھل پتھل کر ڈالتاہے۔ ایسا ہی واقعہ ہمارے گھر میں بھی ہوا جس کی وجہ سے میری والدہ شدید اذیت سے گزریں اور ہم بھی متاثر ہوئے بغیر نہ ر ہ سکے۔
جب ہمارے علاقے میں ہمارے مسلمان بہن بھائی بہت سی قربانیاں دینے کے بعد لٹے پٹے قافلوں کی صورت میں آپہنچے تو ان کی حالت بہت خراب تھی۔ ان قافلوں میں بچے، بوڑھے، جوان مرد و عورت سبھی بھوک و بیماری سے نڈھال سفر کی صعوبتوں سےخستہ حال اور غم سے پژمردہ تھے۔ گائوں والوں کے دل ان کے دکھوں پر بے قرار تھے ان کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔ گائوں والے اپنے ان دُکھی بھائیوں اور بہنوں کو دلوں میں جگہ دے رہے تھے۔ کوئی مکان، کوئی زمین، کوئی روپے پیسے سے مدد کررہا تھا۔ جس سے جتنا ہوسکتا تھا اس نے مدد کی۔
میرے دا دا چونکہ زمیندار تھے اور گائوں میں معزز سمجھے جاتے تھے۔ والد کی بھی عزت تھی، لہٰذا ان پر بہت سی ذمے داریاں آپڑیں۔ وہ آباد کاری کا کام خود اپنی نگرانی میں کروا رہے تھے۔ بہت سی بے سہارا عورتیں ہمارے گھر عارضی طور پر قیام پذیر تھیں۔ کئی ایسی جوان لڑکیاں بھی تھیں جن کے باپ بھائی اور عزیز و اقارب پاکستان آتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔ اور اب ان کا سوائے اللہ کے اور کوئی نہ تھا۔ انہی میں جہاں آراء بھی تھی۔
وقت کے ساتھ اکثر بے سہارا لڑکیوں کی شادیاں یہاں کے دیہاتی گھرانوں میں ہوگئیں اور ان کو باعزت زندگی گزارنے کا آسرا مل گیا۔ کچھ لوگوں نے انہیں بہن، بیٹی اور ماں کی حیثیت سے گھر میں پناہ دی۔ مگر جہاں آراء کا مسئلہ ابھی باقی تھا۔ کیونکہ وہ نہ صرف اچھے خاندان سے تھی بلکہ میٹرک پاس اور خوبصورت بھی تھی۔ تبھی اس کے جوڑ کا رشتہ ابھی تک نہیں ملا تھا۔
دادا جان نے اس کے لیے اپنے ایک دوست کے بیٹے کا رشتہ ڈھونڈ لیا لیکن یہ لوگ دیہات میں رہتے تھے جبکہ جہاں آراء کسی دیہاتی سے شادی پر راضی نہ تھی۔ وہ یہ بات سن کر رونے لگی تو امی جان نے ابو سے کہا کہ ابھی کچھ دن اور اسے یہاں رہنے دیا جائے، فی الحال اس کا ذہن گھر بسانے پر آمادہ نہیں ہے۔ امی کے اصرار پر سبھی خاموش ہوگئے۔
جہاں آراء کی، امی اور چچی سے دوستی ہوگئی۔ وہ سگی بہنوں جیسی محبت کرتی تھیں۔ اس کی حیثیت گھر میں ایک فرد کی سی تھی۔ گھر میں ملازم عورتیں موجود تھیں لہٰذا اسے گھر کے کام بھی نہیں کرنے پڑتے تھے۔ وہ بطور مہمان رہ رہی تھی۔ میری دوسری بہن کا جنم دن قریب آگیا تو وہ امی کا بہت خیال رکھنے لگی۔ امی اور بھی اس کی گرویدہ ہوگئیں۔ انہی دنوں ہماری نئی کوٹھی بن گئی تو ہم وہاں شفٹ ہوگئے۔
دادا، دادی چاہتے تھے کہ جہاں آراء ہمارے ساتھ نہ جائے بلکہ انہی کے پاس رہے لیکن امی نے ضد کی کہ بچے کی پیدائش کے دنوں میں جہاں آراء ہی میرے پاس رہے گی اور گھر کا خیال رکھے گی۔ جہاں آراء کا دل گرچہ امی کے ساتھ لگ گیا تھا پھر بھی وہ اکثر اپنے گھر والوں کو یاد کرکے روتی تو امی اسے تسلیاں دیتی تھیں۔ اس کے ماں باپ، بہن بھائی کچھ شہید ہوگئے اور کچھ سفر میں بچھڑ گئے تھے۔ امی کو اللہ نے میرے بعد بھی بیٹی سے نوازا اور نانی ان کو اپنے گھر لے گئیں تب جہاں آراء ہمارے ہی گھر رہی۔ کیونکہ وہ میری دیکھ بھال بہت پیار سے کرتی اور ابو کےکھانے پینے، کپڑے لَتّے کا بھی خیال رکھتی تھی۔ امی کو اس پر ایسا اعتماد تھا جیسا کسی کو سگی بہن پر ہوتا ہے۔ اسے یہ بھی اندازہ ہوچکا تھا کہ امی اسے بھابی بنانا چاہتی تھیں۔
میرے ماموں جان سرکاری آفیسر تھے اور اب نانی ان کی شادی کرنا چاہتی تھیں۔ والدہ نانی کو راضی کرنے میں لگی تھیں کہ جہاں آراء کو بہو بنالیں، یہ اچھی لڑکی ہے اور مصیبت زدہ ہے۔ اللہ اس نیکی کا آپ کو بڑا اجر دے گا۔ دوسری بیٹی کی پیدائش کے بعد والدہ کو کچھ تکلیف رہنے لگی تو انہوں نےکچھ عرصہ گائوں میں قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔ کراچی میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا۔ نانی نے بھی یہی مشورہ دیاکہ دو چار ماہ ادھر رہو، جب پوری طرح صحت مند ہوجائو تو کراچی چلی جانا۔
کراچی میں ہمارا اپنا گھر تھا جس میں میرے بڑے ماموں اور ان کی بیوی رہتے تھے۔ ان کی بیوی یعنی میری ممانی میری پھوپی ہوتی تھیں۔ اس لیے اس گھر کی امی کو فکر نہ تھی۔
دادا بوڑھے ہوچکے تھے۔ زمینوں کی دیکھ بھال کا فریضہ والد کے سپرد کرنا چاہتے تھے وہ بھی یہی چاہتے تھے کہ بیٹا ادھر ہی رہے۔ ایک سال تک ہم کراچی نہ جاسکے۔ جہاں آراء ابھی تک ہمارے ساتھ تھی لیکن اب ذرا وہ تیز ہوگئی تھی۔ عمدہ کپڑے پہنتی اور سجی سنوری رہتی۔ والدہ نے کوئی اعتراض نہ کیا کہ جواں سال ہے، اس کا جی چاہتا ہے اچھا لباس پہننے کو۔ وہ خود اسے خوبصورت لباس سلوا کر دیتیں جو خواہش کرتی پوری کردیا کرتی تھیں۔ ہر حال میں اسے خوش دیکھنا چاہتی تھیں تاکہ وہ اپنے پیاروں کا غم بھول جائے۔
ایک روز نانی آئیں اور ماموں کی شادی کا ذکر چھیڑ دیا۔ امی نے کہا۔ ہاں میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ جہاں آراء اپنے گھر کی ہوجائے لیکن بھائی کو آپ منائیں۔ میں نے بات کی ہے اور وہ مان گیا ہے۔ تبھی شادی کی تاریخ طے کرنے آئی ہوں۔ جب جہاں آراء نے یہ بات سنی تو اس کا رنگ اُڑ گیا۔ منہ سےکچھ نہ بولی مگر اس کے بعد اس کا رویہ بدل گیا۔ وہ امی کے ساتھ اونچے لہجے میں بات کرنے لگی اور گستاخانہ طرز تکلم اپنالیا۔ امی کو عجب لگا۔ انہوں نے ابو سے کہا جہاں آراء کو نجانے کیا ہوگیا ہے۔ جب سے اس کی شادی کا ذکر کیا ہے۔ یہ میرے منہ کو آنے لگی ہے جیسے اسی گھر کی مالک رہنا چاہتی ہو۔
میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ تمہاری چہیتی ہے، تمہاری سہیلی ہے، تم نے ہی اپنے ساتھ رکھنے کی ضد کی تھی۔ ہم سب تو اسے ابا جان کے گھر بھیجنا چاہتے تھے۔ اب میں کیا کرسکتا ہوں، کہتی ہو تو ابا کے گھر چھوڑ آتا ہوں۔ بات بگڑ جائے گی، بہتر یہ ہےکہ اسے یہیں رہنے دیں اور جلد از جلد اس کی شادی کا انتظام کریں۔ حماد چھٹیوں پر آیا ہوا ہے۔ نجانے پھر کب آئے، اگلے ہفتے ہی اس کی شادی حماد سے کرکے اسے رخصت کردیتے ہیں۔ والد نے کوئی جواب نہ دیا۔ خاموشی سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔
اگلے روز امی نے حماد ماموں کو بلوالیا اور شادی کی تیاریاں شروع کردیں۔ جہاں آراء یہ سب کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی مگر خوش نہیں تھی۔ امی بار بار اسے کہتیں تمہاری شادی ہونے والی ہے، میرے ساتھ بازار چلو، شاپنگ کرنی ہے، درزی کے پاس جانا ہے۔ لیکن تم ٹس سے مس نہیں ہوتیں، آج لازمی تیار ہوجائو۔ حماد کی چھٹیاں ختم ہو جائیں گی تو یہ اہم فریضہ رہ جائے گا۔ اس پر وہ کچھ جزبز ہوئی تو امی نے اسے ڈانٹا کہ ننھی بچی کیوں بن رہی ہو، حماد میں کیا کمی ہے۔خوبصورت، تعلیم یافتہ اور اعلیٰ افسر ہے۔ تم جیسی لڑکیاں تو ایسے رشتے کا خواب ہی دیکھ سکتی ہیں۔ تمہاری قسمت کھل رہی ہے تو مٹی کا مادھو کیوں بن رہی ہو۔
امی کی ڈانٹ سے وہ پھٹ پڑی جیسے اسے بہانہ چاہیے تھا۔ کہنے لگی۔ میرا نکاح ہوچکا ہے۔ کیا نکاح پر نکاح ہوسکتا ہے۔ امی یہ سن کر ہکا بکا رہ گئیں۔ کس سے نکاح ہوا ہے اور کب؟ مجھے کیوں نہیں بتایا اور یہ تمہارا نکاح آخر کرایا کس نے ہے؟ اپنے شوہر سے پوچھیے، انہوں نے کرایا ہے، جب آپ بچی کو جنم دینے اپنی والدہ کے گھر تھیں تب ہوا تھا یہ نکاح… والدہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگیں۔
اسی وقت والد گھر آئے تو جہاں آراء نے بڑے اعتماد سے انہیں مخاطب کیا۔ آپ آپا کو سب کچھ بتا کیوں نہیں دیتے کہ میرا نکاح ہوچکا ہے اور اب یہ نکاح پر نکاح کرانے چلی ہیں۔ پھر وہ نکاح نامہ اٹھا لائی اور امی کے سامنے رکھ دیا۔ امی نے اٹھا کر پڑھا۔ دلہن کا نام جہاں آراء تھا اور دولہا کے نام کے آگے میرے والد کا نام درج تھا۔ ان کے دستخط بھی تھے۔ گواہان میں چچا اور چچا زاد نے دستخط کیے تھے۔
والدہ رونے لگیں۔ کہا۔ جہاں آراء میں نے تمہیں کیا تکلیف دی، اپنے جگر کا ٹکڑا بنا کر رکھا، آخر تم نے ایسا کیوں کیا۔ تم سے یہ امید نہ تھی۔
میں راضی نہ تھی لیکن آپ کے شوہر نے مجھے مجبور کیا۔ یہ آپ ان سے پوچھ لیں۔ میں آپ سے شرمندہ ہوں۔ یہ کہہ کر وہ میری ماں کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ امی نے زیادہ رسوا اور بے وقعت ہونا مناسب نہ سمجھا۔ نانی اور ماموں کو فون کردیا۔ وہ اسی وقت آگئے اور امی کے ساتھ ہم دونوں بچیوں کو بھی لے گئے۔ والد بت بنے بیٹھے رہے۔ انہوں نےامی کو روکنے کی کوشش کی اور نہ ایک لفظ نانی اور ماموں سے معذرت کا کہا۔
ہم پانچ سال نانی کے گھر رہے۔ ابو جہاں آراء کو لے کر کراچی والے گھر چلے گئے۔ انہوں نے والدہ سے کوئی رابطہ نہ رکھا مگر دادا ہمارا تمام خرچہ نانی کو دیتے رہے۔ ہم بھی دادا دادی کے پاس جاکر رہتے تھے لیکن چچا سے بات نہ کرتے تھے۔
وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ پانچ سالوں میں جہاں آراء نے دو بچوں کو جنم دیا لیکن اللہ کی کرنی کہ تیسرے بچے کی پیدائش پر وہ بچےکو جنم دیتے ہوئے جاں بحق ہوگئی۔ اب تین چھوٹے بچوں کو پالنا ایک بڑا مسئلہ تھا۔ والد ان کو لے کر دادی کے پاس آگئے۔ دادی بوڑھی تھیں، بھلا کیونکر ان بچوں سنبھالتیں۔ دادا نانی کے پاس آئے، منت سماجت کرنے لگے کہ بہو کو لے جانے آیا ہوں، آپ اجازت دیں۔ ادھر یہ بچیاں باپ کے بغیر اور ادھر وہ بچے ماں کے بغیر کیسے پلیں گے۔ انسانیت کے لیے قربانی دے دیں۔ نانی نہ مانتی تھیں مگر والدہ کو شاید اپنے اچھے ساس سسر کی دل سے قدر تھی اور زمینداری کا بھی معاملہ تھا۔ دادا زندگی میں ہمیں زمین کا ہمارا حصہ دینا چاہتے تھے اگر ان کی بات نہ مانی جاتی تو ہم اپنے وراثتی حصے سے محروم ہوجاتے۔ بہرحال امی نے یہی سوچا کہ میرے بچوں کی بہتری اسی میں ہے کہ اپنے سسرال چلی جائوں۔ جہاں آراء بھی اب اس دنیا میں نہیں ہے اس کے بچے کوئی بھی پالنے کو تیار نہ ہوگا۔
والدہ نے والد سے صلح کرلی اور ہمارے ساتھ ساتھ جہاں آراء کے تینوں بچوں کو بھی اپنی ممتا بھری آغوش میں لے لیا۔ آج ان بچوں اور ہم میں اتنی محبت ہےکہ ہم نے کبھی سوچا تک نہیں کہ ہم سوتیلے بہن بھائی ہیں۔ ہم میں سگے بہن بھائیوں جیسا پیار ہے۔
سوچتی ہوں کہ یہ دکھ ماں کی قسمت میں لکھا تھا سو مل گیا۔ لیکن آج ان کے صبر کا صلہ تین جوان بیٹوں کی صورت میں اللہ نے انہیں دیا ہے۔ شوہر کے بیٹے ان کو اتنا چاہتے ہیں کہ سگی ماں سمجھتے ہیں۔ ہمیں بھی ہمارے بھائی وہی عزت و تکریم دیتےہیں جو بہنوں کو دی جاتی ہے۔
وہ والد کا دست و بازو ہی نہیں بلکہ ہمارے بھی وارث ہیں۔ ہمارے یہ بھائی ہمارا فخر ہیں اور یہ سب کچھ ہماری عظیم ماں کی قربانی کی وجہ سے ہوا ہے کہ آج کوئی بھائیوں کے ہوتے ہماری طرف میلی نگاہ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرسکتا ۔ (ل ۔ م … فیصل آباد)