February 11, 2019
کون اچھا، کون برا

کون اچھا، کون برا

باجی نے ایف اے کیا تو خاندان بھر سے دھڑا دھڑ رشتے آنے لگے۔ والدین چاہتے تھے وقت پر بیٹی کو اس کے گھر کا کر دیں لیکن صبا باجی آگے پڑھنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے شادی سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا پہلے تعلیم مکمل کروں گی پھر رشتے کے بارے میں سوچیے گا۔ صبا باجی نے شادی کے مواقع ٹھکرا کر ایم اے، میں داخلہ لے لیا۔ فرسٹ پوزیشن لی، ملازمت بھی مل گئی اور دل ملازمت میں ایسا لگا کہ پھر شادی کا چارم جاتا رہا۔ وہ اپنی لیکچرر شپ میں مگن تھیں، مگر امی ابو کی فکر میں نیندیں اڑی ہوئی تھیں کہ صبا کے ہاتھ پیلے ہوں، دوسری بیٹوں کی باری آئے گی۔
ان دنوں میں سترہ برس کی ہوچکی تھی اور جوانی کی پہلی سیڑھی پر مجھ سے چھوٹی بہن ہما بھی قدم رکھ چکی تھی، ہما دسویں میں پڑھ رہی تھی جبکہ میں سال دوم کی طالبہ تھی۔ میرے کالج کے راستے میں ایک دکان تھی جس پر ’’شادی دفتر‘‘ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ میں نے کبھی اس طرف توجہ نہ دی کہ اس دفتر میں کون لوگ بیٹھتے ہیں۔ سر جھکا کر گزر جاتی تھی۔
وقت تیزی سے گزر جاتا ہے۔ صبا باجی کو ملازمت کرتے چوتھا برس تھا کہ وہ تھکی تھکی نظر آنے لگیں، ان کی شادی کی عمر نکلی جاتی تھی۔ والدین کی بھی ان کی فکر میں نیندیں حرام تھیں، خاندان کے اچھے لڑکوں کی شادیاں ہو گئیں۔ جب لب و لہجے میں تلخی بھرتی گئی تو امی کا ماتھا ٹھنکا۔ جانے میری بچی کو ایسی کیا پریشانی ہے کہ کسی سے بات کرنا بھی گوارا نہیں۔ بیٹی کی دنیا سے بیزاری دیکھ کر امی متفکر ہوگئیں۔ بالآخر ایک سمجھدار خاتون ڈاکٹر نے امی سے کہا۔ کوئی مناسب رشتہ دیکھ کر بچی کی شادی کر دیں تو یہ بالکل ہشاش بشاش ہوجائے گی۔
اب مسئلہ کسی مناسب رشتے کا تھا، رشتے آتے بھی تو مناسب نہ لگتے۔ کوئی زیادہ عمر کا تو کسی کو بیوی کے ہوتے اولاد نہ ہونے کے باعث دوسری شادی کی آرزو ہوتی اور کسی کی بیوی فوت ہو چکی ہوتی اور اسے اپنے بن ماں کے بچوں کی خاطر دوسری بیوی کی ضرورت ہوتی۔ ایسے رشتوں کو باجی منع کر دیتیں۔ امی ابو ہی نہیں میں بھی اپنی بہن کے بارے میں سخت متفکر رہنے لگی تھی، کیونکہ وہ مایوسی کی اس کیفیت کا شکار اس حد تک ہوگئی تھیں کہ نوکری کو خیر باد کہہ دیا تھا، جبکہ اچھی بھلی نوکری کو چھوڑ دینا کوئی عقل مندی کا کام نہ تھا۔
ایک دن کالج جاتے ہوئے راستے میں اس دفتر کے بورڈ پر نظر پڑی جس پر شادی دفتر درج تھا۔ سوچا کہ آج جاکر امی کو بتائوں گی کہ وہ اس دفتر سے رابطہ کرکے دیکھیں، ممکن ہے باجی کے لئے کوئی اچھا رشتہ مل جائے، اس غرض سے ذرا سا رک کر میں نے پرس سے پنسل نکالی اور بورڈ پر درج فون نمبر کاپی پر لکھ لیا، تاکہ والدہ کو یہ فون نمبر دے کر ان سے کہوں’’شادی دفتر‘‘ سے باجی کے رشتے کے لئے رابطہ کر لیں۔ شاید کوئی مناسب رشتہ مل جائے تو میری باجی کی قسمت کھل جائے۔ نہیں معلوم تھا کہ میرے فون نمبر نوٹ کرنے کو دفتر میں موجود شخص گہری نظر سے دیکھ رہا ہے تو ڈر کر آگے بڑھ گئی اور وہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہو گا یہ میں نہیں جان سکی۔
اگلے دن جب کالج جا رہی تھی، پھسلن کی وجہ سے ایک جگہ پائوں رپٹ گیا اور میں گر پڑی۔ کتابیں زمین پر بکھر گئیں، اس طرح گرنے سے بڑی خفت محسوس ہوئی۔ اتفاق سے میں شادی دفتر کے سامنے گری تھی۔ گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا، سامنے ایک نوجوان نظر آیا، وہ میری کتابیں اکٹھی کرنے لگا۔ اس دوران میں اٹھ چکی تھی۔ لیکن کپڑے کیچڑ میں لت پت ہوچکے تھے اور یونی فارم کی ایسی حالت ہو گئی تھی کہ کالج جانے کے قابل نہ رہی تھی۔ چل بھی نہیں سکتی تھی، پائوں میں موچ آ گئی تھی۔
اس نوجوان نے کتابیں اکٹھی کر کے دیں اور کہا۔ اب گھر چلی جائو اس حالت میں کالج کیسے جائو گی۔ ابھی وہ یہ بات کر ہی رہا تھا کہ کچھ لوگ لڑکے جو شاید سڑک پار سے یہ سب دیکھ رہے تھے، ادھر سے گزرے وہ یہ سمجھے کہ شاید میں اس لڑکے کی وجہ سے گری ہوں اور کسی مصیبت میں ہوں، مشکوک لڑکا سمجھ کر وہ حقیقت جاننے کی غرض سے ہماری طرف آئے اور ان میں سے ایک لڑکے نے میری مدد کرنے والے نوجوان کے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر میں گھبرا گئی لگا کہ یہ غنڈے بہانے سے اس بیچارے کی پٹائی نہ کر دیں۔ وہ بھی ان کا ارادہ بھانپ گیا کیونکہ وہ ہٹے کٹے اور تعداد میں چار تھے لہٰذا اس نے انہیں سنانے کو کہا۔ چلو رابعہ، اب موٹر سائیکل پر بیٹھ جائو، کالج اس حال میں کیسے جا سکتی ہو، گھر چلتے ہیں۔ اس نے یوں ظاہر کیا جیسے ہم ایک ہی گھر کے فرد ہوں اور وہ مجھے موٹر سائیکل پر کالج پہنچانے جا رہا ہو۔ میں نے بھی دوسری کوئی بات سوچے بنا اس کے حکم کی تعمیل کی اور فوراً اس کی موٹر سائیکل پر بیٹھ گئی۔ لہٰذا اس طرح وہ چار غنڈے جو بلائوں کی طرح پیچھے پڑے اور سڑک پر ہنگامہ کھڑا کرنے کی غرض سے ہماری جانب لپکے تھے، دیکھتے رہ گئے اور ہم وہاں سے تیزی سے آگے چلے گئے۔
پانچ منٹ میں میرا گھر آ گیا جو لب سڑک ہی تھا، یوں اسے میرا گھر معلوم ہو گیا۔میں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا، بغیر کلام کئے گھر کے اندر چلی گئی، اس وقت گھبرائی ہوئی تھی۔ میری ایسی حالت دیکھ کر امی گھبرا گئیں۔ پوچھا۔ سنجیلا کیا ہوا ہے۔ میں نے بمشکل سانس درست کرنے کے بعد صورتحال سے آ گاہ کیا۔
دل میں اس لڑکے کے لئے جگہ بن گئی تھی جب اس جگہ سے گزرتی اس کے بارے میں سوچنے لگتی۔ ایک دن ادھر سے گزری تو اسے ’’شادی دفتر‘‘ کے دروازے پر کھڑا پایا۔ جانے کہاں سے جرأ ت آ گئی، میں نے رک کر کہا۔ اس دن مدد کرنے کا شکریہ۔ کوئی بات نہیں۔ میں تو بھول گیا، اس واقعہ کو، کیا آپ یہاں روز آتے ہیں۔ ہاں وہ بولا تب مجھے شرارت سوجھی۔ کیا ’’شادی دفتر‘‘ شادی کروانے کی غرض سے آتے ہو۔ ہاں لیکن مناسب رشتہ ابھی تک نہیں ملا ہے۔ میری بڑی بہن کا بھی یہ مسئلہ ہے۔ ان کی شادی کے لئے امی ابو بہت پریشان رہتے ہیں۔ لیکن کوئی مناسب رشتہ نہیں مل رہا ہے۔
اگلے روز میں نے باجی کی تصویر اور ان کی تعلیم عمر وغیرہ کاغذ پر درج کرکے پرس میں رکھ لیں۔ جب کالج سے گھر لوٹ رہی تھی دفتر میں اسے سامنے ہی کرسی پر بیٹھا دیکھا وہ اکیلا ہی تھا۔ دوست موجود نہ تھا مجھے ٹھٹکا پا کر دفتر سے باہر آ گیا۔ میں نے کہا باجی کے بارے میں معلومات لائی ہوں۔ اس نے کاغذ سے کوائف رجسٹر پر لکھ لئے۔ تصویر ایک نظر دیکھنے کے بعد مجھے واپس کر دی کہنے لگا۔ آپ کی باجی کے لئے کوئی مناسب رشتہ ہوا تو ہمارے دفتر کی خاتون آپ کے گھر آ کر لڑکے کے بارے میں بتا جائیں گی اور فون نمبر بھی لڑکے والوں کا دے جائیں گی۔ اگر مزید کچھ معلوم کرنا ہو تو آپ اسی نمبر پر معلوم کرسکتی ہیں جو بورڈ پر درج ہے۔ آپ کا نام کیا ہے۔ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ میرا نام شریف ہے۔ خوب ہے آپ واقعی شریف آدمی لگتے ہیں۔ اللہ جانے کیوں میں نے ایسا کہہ دیا، بعد میں سوچتی رہ گئی کہ یہ بات کہنا بھی چاہئے تھی یا نہیں۔
ایک دن وہ ’’شادی دفتر‘‘ میں بیٹھا نظر آیا، مجھے دیکھ کر باہر آ گیا۔ کہنے لگا آپ کی باجی کے لئے ایک اچھا رشتہ موجود ہے۔ لڑکا انجینئر ہے اور عمر پچیس برس ہے۔ مگر میری بہن تو پینتیس برس کی ہونے والی ہیں۔ تقریباً دس برس کا فرق ہو گا کیا یہ رشتہ ٹھیک رہے گا۔ کہا آپ کے لئے تو صحیح رہے گا۔ لیکن اپنے لئے تو آپ سے نہیں کہا تھا میں نے بات کاٹ دی اور خفگی سے اسے دیکھا۔ معاف کیجئے گا، میں نے ویسے ہی کہہ دیا۔ ویسے شادی تو آپ کو بھی کرنی ہے۔ ابھی نہیں پہلے میں اپنی تعلیم مکمل کر وں گی۔ اس نے کہا۔ سنجیلا،اپنی والدہ کو لائیے ہماری خاتون اسسٹنٹ اندر والے کمرے میں بیٹھی ہیں، ان سے ملوا دیجئے ان شاء اللہ وہ مسئلہ حل کرا دیں گی۔ مجھے لگا کہ وہ بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہا ہے۔ کل لائوں گی انہیں۔ میں نے جان چھڑانا چاہی۔ کل آنٹی نہیں آئیں گی۔ وہ صرف پیر اور بدھ کو بیٹھتی ہیں۔ آپ کا گھر پانچ منٹ کے فاصلے پر ہے۔ ابھی لے آیئے تو ملوا دیتا ہوں، پھر میں بھی دبئی چلا جائوں گا۔ اپنے بڑے بھائی کے پاس وہ بلا رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے آج کی ملاقات ہماری آخری ملاقات ہو۔
میرا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے موٹر سائیکل فٹ پاتھ سے نیچے سڑک پر اتار لی اور بولا۔ آیئے بیٹھ جایئے، میں آپ کی والدہ سے مل لیتا ہوں۔ اللہ جانے اس نے اس وقت کیا سحر پھونکا کہ میں اس کی موٹر سائیکل پر بیٹھ گئی۔ اتنی جلدی شاید ہم دونوں جدا ہونا نہیں چاہتے تھے۔ اس نے اچانک اپنی بائیک کا رخ ایک دوسرے رستے پر موڑ لیا اور یہ رستہ گھر سے بہت دور لے جانے والا تھا۔ وہ مجھے ایک ایسے گھر میں لے آیا جہاں دوسرا کوئی نہ تھا۔ یہ میرے بڑے بھائی کا مکان ہے جو دبئی گیا ہوا ہے تم یہاں آرام سے بیٹھو، یہاں کوئی نہیں آئے گا۔ اس روز میں اور اشرف کافی بے تکلف ہو گئے اور ہم میں اظہار محبت بھی ہو گیا۔
انہی دنوں باجی کا رشتہ ایک غیر خاندان میں طے ہوگیا۔ یہ لوگ گائوں کے تھے، لہٰذا باجی کی تمام سسرال والے گائوں میں رہائش پذیر تھے، البتہ لڑکے کی ملازمت شہر میں تھی۔ والدین نے سوچا کہ لڑکا تو شہر میں رہتا ہے۔ ہماری بیٹی بھی شہر میں ہی رہے گی لہٰذا انہوں نے مناسب رشتہ جان کر ہاں کر دی، یوں باجی کی شادی قربان بھائی سے ہوگئی، جو کہ بہت اچھے اور شریف انسان تھے، تعلیم یافتہ بھی تھے اور اچھی پوسٹ پر تھے۔ ان کی زمینداری تھی باجی کی اچھی قسمت تھی کہ ہماری سوچ سے بھی بہتر داماد میرے والدین کو مل گیا اور وہ اپنے گھر سیٹ ہو گئیں۔
میں نے بی اے کا فائنل امتحان دے دیا تھا۔ میرے لئے رشتے کی تلاش شروع ہوگئی۔ گھر والوں کو کیسے بتاتی کہ میں رشتہ پسند کرچکی ہوں، شریف کا نام کیونکر لے سکتی تھی، جبکہ اب اس کی دبئی جانے کی تیاریاں مکمل ہونے والی تھیں۔ باجی اور ان کے شوہر کے لئے ابو نے اپنے گھر کے قریب مکان لے لیا تاکہ بیٹی اکیلی نہ رہے۔ دولہا بھائی تو صبح کے گئے شام ڈھلے لوٹتے تھے، تمام دن وہ اکیلی رہتی تھی، تب میں ان کے پاس چلی جاتی۔ انہی دنوں باجی کا دیور ان کے گھر آ کر رہنے لگا، جس کا نام مدثر تھا، اس کے لئے دولہا بھائی کسی اچھی ملازمت کی تلاش میں تھے، خوش قسمتی سے بہت جلد مدثر کو ملازمت مل گئی۔ اور وہ باجی کے گھر ہی رہنے لگا۔
یہ ہنس مکھ، خوش شکل اور خوبصورت نوجوان تھا اور ابھی تک غیر شادی شدہ تھا۔ باجی کا خیال تھا کہ سنجیلا کی شادی مدثر سے ہو جائے تو ہم دونوں بہنیں اکٹھی رہیں گی۔ لیکن میں تو دل میں شریف کو بسائے ہوئے تھی۔ باجی نے امی سے ذکر کیا اور امی نے ابو کو قائل کرلیا۔ میں اس ملی بھگت سے گھبرا گئی اور اس سے کہا کہ تم سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔ بولا۔ آج مجھے ضروری کام ہے، ایسا کرو کہ کل تم میرے بھائی کے مکان میں آ جانا، میں وہاں ٹھیک تین بجے پہنچ جائوں گا۔
اگلے روز تین بجے اسی مکان میں پہنچی تو وہاں ابھی تک شریف نہیں آیا تھا لیکن اس کی جگہ ایک اور شخص موجود تھا، اس نے بتایا کہ شریف کا دوست ہوں اس نے مجھے چابی دے کر یہاں بھیجا ہے کہ دروازہ کھول دوں اور تم آئو تو میں تمہیں بٹھا دوں۔ اسے آنے میں آدھا گھنٹہ لگے گا کیونکہ اس کے دبئی کے کاغذات کی تکمیل کی خاطر اسے لازمی متعلقہ دفتر جانا ہے۔ ورنہ اس کا ویزا کینسل ہو جائے گا۔ اس شخص نے اپنا نام اجمل بتایا۔ کھانے پینے کی چیزیں پہلے ہی میز پر رکھی ہوئی تھیں۔ اصرار کر کے چائے دی تو میں لحاظ میں گھونٹ گھونٹ پینے لگی، دروازے پر نگاہیں لگی تھیں کہ ابھی شریف آ جائے گا۔ چائے کی پیالی ختم ہوئی تھی کہ مجھ پر غنودگی طاری ہونے لگی، نجانے اس میں ایسا کیا نشہ تھا، میں گرنے لگی، اتنا یاد ہے کہ اس شخص نے سہارا دے کر مجھے اسی صوفے پر لٹا دیا تھا جہاں میں بیٹھی تھی۔
آنکھ کھلی تو باجی کے گھر میں تھی، رفتہ رفتہ سب کچھ یاد آنے لگا۔ باجی نے بتایا جب تم گھر سے نکلیں مجھے شک سا ہوا کہ تم کسی صحیح جگہ نہیں جا رہی ہو، تم نے جس سہیلی کے گھر جانے کا بہانہ بنایا تھا اتفاق سے وہ تم سے ملنے تمہارے جاتے ہی آ گئی تھی، تب ہی میں نے مدثر کو جلدی سے تمہارے پیچھے بھیجا کہ تمہیں واپس بلا لائے کہ سہیلی تو ہمارے گھر آ چکی ہے۔ اب تم اس کے گھر مت جائو لیکن تم رکشے میں بیٹھ چکی تھیں، تبھی مدثر نے تمہارا پیچھا کیا اور جس گھر میں تم گئیں اس نے وہاں گاڑی روک لی اور تمہارے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا، لیکن تم باہر نہ آئیں ہاں ایک شخص جب بیرونی در کی کنڈی لگانے در پر پہنچا تو مدثر نے اس سے کہا سنجیلا کہاں ہے، اسے باہر بھیجو وہ بولا۔ کون سنجیلا یہاں کوئی نہیں ہے۔ میں گھر میں اکیلا ہوں، اس کی گھبراہٹ دیکھ کرمدثر کو یقین ہوگیا کہ معاملہ گڑبڑ ہے۔ مدثر نے اسے دھکا دیا اور اندر چلا گیا، تم بے ہوش تھیں اور وہ آدمی موقع پا کر بھاگ نکلا، مدثر نے اٹھا کر تمہیں گاڑی میں ڈالا اور گھر لے آیا۔ ہم نے تمہارے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے تو تم نے آنکھیں کھول دیں، اگر ذرا دیر اور تمہیں ہوش نہ آتا تو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے، صد شکر تمہیں ہوش آ گیا۔ مدثر کی حاضر دماغی کی وجہ سے تمہاری عزت بچ گئی۔
اس واقعے سے میرے ہوش ٹھکانے آ گئے اور پھر جہاں والدین کی مرضی تھی وہاں فوراً میں نے شادی کے لئے ہاں کر دی۔ میری شادی مدثر سے ہوگئی۔ جنہوں نے اس واقعے کو نظر انداز کرتے ہوئے مجھ سے شادی کرلی اور بعد میں بھی وہ بہت اچھے شوہر ثابت ہوئے کیونکہ شریف اور خاندانی آدمی تھے۔
اس کے بعد میں نے شریف کو ہمیشہ کے لئے بھلا دیا، جس کی وجہ سے بربادی کے گڑھے میں گرنے والی تھی، بے شک اس کی نیت خراب نہ تھی اور وہ واقعی ضروری کام کی وجہ سے وہاں وقت پر نہ پہنچ سکا تھا اور اس نے اپنے دوست کو چابی بھی اسی لئے دی تھی کہ میں کہیں دروازے پر تالا دیکھ کر مایوس نہ ہو جائوں لیکن دوست پر بھروسہ کرنا بھی اس کی غلطی تھی، کیونکہ سارے دوست قابل اعتبار نہیں ہوتے۔
بس قدرت نے مجھے بچانا تھا، والدہ کی دعائوں سے بچ گئی اور ایک اچھی زندگی مل گئی۔ ( ر۔و…لاہور)