February 11, 2019

جب پیار کیا تو ڈرنا کیا نئے دور کے لیلیٰ مجنوں

ایک خبر کے مطابق ملائیشیا کے بادشاہ سلطان محمد تخت شاہی سے دست بردار ہوگئے ہیں۔ استعفیٰ میں کوئی خاص وجہ تو نہیں بتائی گئی تاہم کھوجیوں کی رپورٹ کے مطابق وجہ وہی صدیوں پرانی ہے یعنی عشق۔ اس دفعہ مجنوں کی لیلیٰ کا قرعہ ایک روسی حسینہ کے نام نکلا ہے۔ عشق و مشک ہرگز ہرگز چھپائے نہیں چھپتے لہٰذا بادشاہ موصوف بھی اپنے دل کے ہاتھوں ایسے ناک آئوٹ یا کلین بولڈ ہوئے کہ ماسکو کی سابق حسینہ کی زلفوں کے اسیر ہو کر تخت و تاج کو ٹھوکر مار دی۔ یہ جواں دل بادشاہ گاڑی چلانے اور دیگر کھیلوں کے شوقین ہونے کی وجہ سے پہلے ہی کافی شہرت رکھتے تھے اور اب اس داستان عشق نے ان کی مقبولیت میں چارچاند لگادیئے ہیں۔
مذکورہ خبر پڑھ کر ہمارا ذہن فوراً فلم ’مغل اعظم‘ کے سلیم شیخو اور انارکلی کی طرف چلا گیا، خاص طور پر اس سدابہار گیت کی طرف کہ ’’جب پیار کیا تو ڈرنا کیا۔‘‘ بادشاہ تو ویسے بھی بااختیار ہوتا ہے، یہاں ڈرنا سے مراد لوگوں کی باتیں بنانے سےہے۔
یوں تو عشق کے شعبہ میں لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، سسی پنوں، ہیر رانجھا، رومیو جولیٹ وغیرہ ہی مشہور ہوئے ہیں تاہم ہر دور میں بے شمار لوگ اس کے دام میں آئے بغیر نہیں رہ سکے۔ دو دلوں کے ملاپ پر خوش ہونے والوں کی فہرست میں ہمارا شمار بلامبالغہ پہلی صف میں کیا جاسکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسےپکچر ہائوس کی پہلی صف میں بیٹھے ہوئے فلم بین ہیرو ہیروئن کے ملاپ پر خوشی سے سرشار تالیاں اور سیٹیاں بجا کر اپنے جذبات کا اظہار اور پیار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ایک فلمی شاعر کے مطابق:
محبت کے دم سےیہ دنیا حسیں ہے
محبت نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
درحقیقت اس کائنات کا وجود ہی محبت، خلوص اور اپنائیت کی بنیادوں پر استوار ہے۔ کسی شخص نے کتنی خوبصورت بات کہی ہے۔ ’’یہ چند روزہ زندگی پیار و محبت کے لئےنا کافی ہے، نہ جانے کچھ لوگ نفرت کے لئے کس طرح وقت نکال لیتے ہیں۔‘‘ ہمارا بھی یہ کہنا بلکہ دعویٰ ہے کہ آپ اپنے حسن اخلاق اور اپنائیت و خلوص کی چابی سے نفرت، ناراضگی، عداوت اور ناپسندیدگی کے عرصہ دراز سے بند زنگ آلودہ تالے لمحوں میں کھول سکتے ہیں۔
25سالہ سابقہ مس ماسکو Orsana Voevodina کا اسکرین نام Nipol ہے۔ ان کے والد ڈاکٹر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 49سالہ بادشاہ سلطان کی ملاقات سوئمنگ پول پر روسی حسینہ سےہوئی۔ وہاں کے پُرکشش ماحول نے بادشاہ کے اعصاب کو ایسا سحرزدہ کیا کہ انہوں نے اپنا دل کھول کر حسینہ کے سامنےرکھ دیا۔ حسینہ کی طرح اس کا دل بھی نازک تھا لہٰذا بادشاہ کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے پسیج گیا اورحسینہ بھی جواباً اسے بادشاہ کے حوالےکرنے پررضا مند ہوگئیں۔ دو دلوں کے درمیان ’’لین دین‘‘ کی یہ ’’واردات‘‘ سوئمنگ پول پر کی جارہی تھی جبکہ ہمارے یہاں اس کام کے لئے کھیت، کھلیانوں اور نہر والے پل کو بے دردی سےاستعمال کیا جاتا ہے۔
ہمارے احباب کا کہنا ہے کہ دور کی کوڑی لانے اور قیاس آرائی کے گھوڑے دوڑنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے ۔ لہٰذاہمارے ’’موکل‘‘ کے مطابق روسی حسینہ نے بادشاہ سلامت کے نام (سلطان) سے متاثر ہو کر اور ان کی محبت کا بڑھ چڑھ کر جواب دینے کے لئے نہ صرف بھارتی اداکار سلمان خان کی فلم ’’سلطان‘‘ دیکھی بلکہ ایک مقبول فلمی نغمہ ’’راجا کی آئے گی بارات، رنگیلی ہوگی رات، مگن میں ناچوں گی‘‘ کو روسی زبان میں ڈب کروا کر دیکھا اور سمجھا اور اب ان کا بیشتر وقت اسی نغمے کی وڈیو دیکھنے میں گزر رہاہے۔ اس موقع پر ہمیں اپنے سلطان راہی بہت یاد آرہے ہیں اگر آج وہ ہوتے تو ہم ان کی مووی بھی روسی حسینہ کی خدمت میں پیش کردیتے پھر دیکھتے کہ حسینہ کا جھکائو کس سلطان کی طرف ہوتا ہے؟