February 11, 2019
واٹس ایپ  انسٹا گرام ، فیس بک ایک ہونے والے ہیں؟

واٹس ایپ انسٹا گرام ، فیس بک ایک ہونے والے ہیں؟

دنیا کے سب مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی کمپنی فیس بک کے بارنی مارک زکر برگ نے انسٹاگرام، واٹس ایپ اور فیس بک کی میسیجنگ سروس کو ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ تینوں ایپس علیحدہ ہی رہیں گی مگر ان کی میسیجنگ سروسز کو آپس میں جوڑ دیا جائے گا تاکہ ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پر پیغامات بھیجے جا سکیں۔ میسیجنگ سروسز ضم ہونے پر ایک فیس بُک صارف واٹس ایپ استعمال کرنے والے صارف سے بھی بات کر سکے گا۔ فی الحال ایسا کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ ایپس کا مرکز مشترک نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق تینوں ایپس کے میسیجنگ پلیٹ فارموں کو ضم کرنے کا کام 2019 ء کے اختتام یا 2020 ء کے آغاز تک مکمل ہو جائے گا۔ ضم ہونے کے بعد مختلف کاروبار ایک سے زائد پلیٹ فارموں پر پیغام بھیجنے کی سہولت کا استعمال کرتے ہوئے ممکنہ گاہکوں تک اپنی بات پہنچا سکیں گے۔ فیس بُک بہ آسانی تینوں ایپس پر ڈیٹا شیئر کر سکتا ہے۔ اب تک واٹس ایپ، انسٹاگرام اور میسجز علیحدہ اور ایک دوسرے کی حریف ایپس سمجھی جاتی ہیں۔ گو کہ یہ تینوں ایپس ہی ایک کمپنی کی ملکیت ہیں۔ تاہم اس کے باوجود بھی ان کے صارف ایک دوسرے کے مد مقابل بھی لگتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ تینوں ایپس کی میسیجنگ ضم کرنے کا فیصلہ فیس بُک کی سروسز کا مضبوط مجموعہ بنا دے گا۔ ضرورت پڑنے پر حکومتوں یا ریگولیٹری اداروں کی طرف سے فیس بُک نیٹ ورک کے اہم حصوں کو توڑنا مشکل ہو جائے گا۔ مارک زکربرگ چاہتے ہیں کہ سروسز کو مزید کارآمد بنایا جائے تاکہ صارفین ان ایپس کا استعمال بڑھا دیں۔ مارک زکربرگ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ صارف ان پلیٹ فارمز پر بہ آسانی رشتے داروں اور دوستوں سے رابطہ کر سکیں اور میسیجنگ سروسز کے ذریعے سے بھیجے جانے والے میسیجز انکرپٹڈ ہوں تاکہ مطلوبہ صارف ہی میسیج پڑھ سکے۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ زکر برگ کی جانب سے ایپس کی میسیجنگ سروسز کو ضم کرنے کے منصوبے کی وجہ سے کمپنی کے اندر بےچینی پھیل گئی تھی۔ اسی وجہ سے گزشتہ سال انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے بانی اپنے اپنے عہدوں سے دست بردار ہو گئے تھے۔ آج کل فیس بُک کی ڈیٹا ہینڈلنگ اور صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقوں پر تنقید اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ وسیع پیمانے پر صارفین کے ڈیٹا کو تین پلیٹ فارمز پر مشترک کرنے کا فیصلہ ریگولیٹری اداروں کو فیس بُک کے ڈیٹا ہینڈلنگ کے طریقوں پر دوبارہ نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔