February 11, 2019
گرین لینڈ پگھل رہا ہے

گرین لینڈ پگھل رہا ہے

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران گرین لینڈ کی برف میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کو جانچنے والے ناسا کی سیٹیلائٹ ’گریس‘ (دی گریویٹی ریکوری اینڈ کلائمیٹ ایکسپریمنٹ) نے انکشاف کیا ہے کہ2003 ء سے 2013 ء تک گرین لینڈ کی برفانی چادر میں چار گنا کمی واقع ہوئی ہے۔ پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (پی این اے ایس) نامی جریدے میں شائع تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے بعد 12 سے 18 ماہ تک کے لیے برف پگھلنے کا عمل رک گیا ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ مستقبل میں کس طرح گرین لینڈ کے مختلف علاقے سمندر کی سطح میں اضافہ کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
کافی عرصے سے گرین لینڈ کے جنوب مشرقی اور شمال مغربی حصوں پر بڑھتی ہوئی سمندر کی سطح پر نظر رکھنے والے سائنسدان اس حوالے سے فکرمند ہیں کیونکہ یہاں برفانی تودوں سے برف کے بڑے بڑے ٹکڑے ٹوٹ کر بحر اوقیانوس میں گر رہے ہیں۔ تاہم 2003 ء سے 2013 ء کے درمیان سب سے زیادہ برف میں کمی گرین لینڈ کے جنوب مغربی حصہ میں واقع ہوئی ہے جو بہت حد تک برف کے بڑے گلیشیئرز سے محروم ہیں۔ امریکا کی اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اس تحقیق کے سربراہ مصنف مائیکل بیوس کا کہنا ہے کہ ’’یہ جو کچھ بھی تھا، اس کو گلیشیئرز سے بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اب وہ وہاں زیادہ نہیں ہیں۔ یہ سطح پر موجود برف تھی اور برف ساحلی پٹی سے دور زمینی علاقوں میں پگھل رہی تھی۔‘‘
اس علاقے میں تیزی سے برف پگھلنے کی وجہ نارتھ اٹلانٹک اوسی لیشن (ناؤ) نامی موسمیاتی رحجان کہے جا سکتے ہیں۔ ایسا خاص طور پر اس وقت ہوتا ہے جب یہ (منفی) مرحلے میں ہوتا ہے جس کے تحت موسمیاتی رجحان ناؤ کے سبب گرمیوں کی مدت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ زمین تک پہنچنے والی سورج کی تابکاری برفباری میں کمی پیدا کر دیتی ہیں اور ایسا خصوصاً مغربی گرین لینڈ میں دیکھا گیا ہے۔ محققین کا ماننا ہے کہ جنوب مغربی گرین لینڈ میں برف پگھلنے کی وجہ ناؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلی ہے۔ پروفیسر بیوس کا کہنا ہے کہ یہ برفانی دولن یا ارتعاش ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں لیکن یہ اب ہی کیوں بری طرح برف کو پگھلا رہے ہیں؟ اس کی جہ یہ ہے کہ ماحول کی بنیادی سطح اب زیادہ گرم ہے اور ان پر عارضی طور پر نارتھ اٹلانٹک اوسی لیشن (ناؤ) مزید اثرات ڈال رہی ہیں۔
تحقیق سے حاصل شدہ نتائج کے مطابق گرین لینڈ کا جنوب مغربی حصہ جو ابتک اس حوالے سے بڑا خطرہ تصور نہیں کیا جا رہا تھا اس کے بارے میں اب یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں سمندر کی سطح بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پروفیسر بیوس نے کہا ’’ہمیں یہ معلوم تھا کہ بعض بڑے گلیشیئرز سے تیزی کے ساتھ پگھلتی ہوئی برف ہمارے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مگر اب ہمیں ایک اور بڑے اور سنگین مسئلے کا سامنا ہے کہ بہت بڑی مقدار میں برف پگھل کر پانی کا دریا بن جائے گا اور سمندر میں مل جائے گا۔‘‘
گرین لینڈ کے زیادہ تر برفانی ذخائر کے گرد جی پی ایس نظام لگا دیا گیا ہے لیکن جنوب مغربی حصہ میں یہ نیٹ ورک کم ہے۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ گریس سیٹلائٹ نے 2016 ء میں اس حوالے سے ڈیٹا لینا بند کر دیا تھا اور یہ اب تک غیر واضح ہے کہ کیا 2013 ء کے بعد برف پگھلنے کا عمل جو رک گيا تھا وہ ابھی قائم ہے۔