February 11, 2019
دیوار کے پار  دیکھنے کا نیا طریقہ

دیوار کے پار دیکھنے کا نیا طریقہ

دیوار کے پار دیکھنے والی ٹیکنالوجی پر ماہرین کئی برس سے کام کر رہے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک نئی تکنیک تیار کی گئی ہے جو دیواروں کی اوٹ میں اوجھل شے دکھاتی ہے۔ یونیورسٹی آف بوسٹن کے ماہرین نے ایک ایسا نظام بنایا ہے جو کسی پوشیدہ شے سے ٹکرا کر بکھرنے والی روشنی کو بڑھا کر اسے دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ روشنی کسی بھی شے سے ٹکرا کی منعکس ہوتی ہے لیکن ہم اسے ہر مرتبہ نہیں دیکھ پاتے۔ تاہم اس کا ایک جزوی سایہ سا ضرور بنتا ہے جسے پین امبرا کہتے ہیں اور جونہی یہ اپنے سامنے کسی شے سے ٹکراتا ہے تو اس شے کی کچھ تفصیل ضرور دکھاتا ہے۔ یہ منعکس شدہ روشنی یا اس کا سایہ کسی شے سے ٹکرانے کے بعد کیمرے کو نظر آجائے تو الگورتھم اسے بڑھا کر اس میں مزید روشنی کا اضافہ کرکے وہ شے دکھاتا ہے۔ اگر وہ شے نظر بھی نہ آرہی ہو تب بھی کیمرہ اور الگورتھم اس شے کے خدوخال ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین نے اس عمل کو ’کمپیوٹیشنل پیرا اسکوپی‘ کا نام دیا ہے۔ اس سے دیوار کے پار لکھے ہوئے الفاظ بھی پڑھے گئے ہیں اور وہاں موجود افراد کے چہروں کے دھندلے ہیولے بھی دکھائی دیئے ہیں۔ میدانِ جنگ میں سپاہی اس سے دیوار کے پار چھپے دشمن کی شناخت کرسکیں گے۔ اس تکنیک کی بدولت بڑے کارخانوں، ایٹمی بجلی گھروں اور دیگر صنعتی پلانٹس کی مرمت اور جائزے کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔