February 11, 2019
2038ء کے بعد جرمنی کوئلے سے توانائی حاصل نہیں کرے گا

2038ء کے بعد جرمنی کوئلے سے توانائی حاصل نہیں کرے گا

جرمن حکومت کے ایک کمیشن نے 2038 ء کے اختتام تک کوئلے کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے پلانٹ مکمل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ جوہری توانائی کے پلانٹ آئندہ تین برسوں میں ختم کر دیے جائیں گے۔ جرمنی ميں ایک حکومتی کميشن نے اس بات پر اتفاق کر ليا ہے کہ توانائی کے حصول کے لیے کوئلے کا استعمال2038 ء تک مکمل طور پر ترک کر دیا جائے گا۔ 28 رکنی کمیشن کا اجلاس 21 گھنٹے جاری رہا۔ ہفتے کی صبح کمیشن نے بتایا کہ کوئلے سے توانائی کا حصول ختم کرنے کے بارے میں ’ڈیڈلائن‘ طے کر لی گئی ہے اور اٹھائیس میں سے صرف ایک رکن نے اس کی مخالفت کی۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ اس سلسلے ميں حتمی فيصلہ برلن حکومت کرے گی کيوں کہ یہ کميشن صرف تجاویز دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معيشت کے حامل ملک جرمنی ميں جوہری ذرائع سے بجلی کا حصول بھی سن 2022 ء تک ترک کر دیا جائے گا۔ جرمنی میں اس وقت کوئلے کی مدد سے پیدا کی جانے والی بجلی کی مجموعی پیداوار کا چالیس فیصد بنتی ہے۔ 2015 ء میں طے پانے والے عالمی ماحولیاتی معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے برلن حکومت کو کوئلے اور جوہری توانائی پر بتدریج انحصار ختم کر کے متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنا ہے۔ جرمنی میں بایوفیول سے چلنے والی ٹرین اور بسوں کا کامیاب تجربہ بھی کیا جاچکا ہے، جبکہ ماحول دوست الیکٹرک کارز پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔