February 11, 2019
بیٹری کے بغیر بلیو توتھ اسٹیکر

بیٹری کے بغیر بلیو توتھ اسٹیکر

امریکی کمپنی نے ایسا انقلابی بلو ٹوتھ ٹرانسمیٹر بنایا ہے جو ہوا میں موجود برقناطیسی یا ریڈیائی امواج سے توانائی جذب کرکے بیٹری کے بغیر توانائی پیدا کرتا ہے اور اسمارٹ فون تک سگنل بھیجتا ہے۔ نیویارک میں واقع ویلیئٹ کمپنی نے اس کے لیے 5 کروڑ میں سے 3 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ جمع کرلی ہے۔ اسٹیکر نما بلو ٹوتھ پیوند میں اے آر ایم پروسیسر نصب ہے جو اطراف سے توانائی جمع کرکے خود کو چلاتا ہے۔ اس میں ایک چھوٹی سی چپ پر اینٹینا چھاپ کر اسے کسی بھی کاغذ یا پلاسٹک کے ٹکڑے پر پیوست کیا جاسکتا ہے جسے آپ ویڈیو میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس کی ڈیزائننگ میں خیال رکھا گیا ہے کہ بلو ٹوتھ کے دیگر بہت سے اجزا کو کم کیا جائے یا اسے مائیکرو الیکٹرانکس میں سمودیا جائے۔ اس آلے کو نینو واٹ کمپیوٹنگ کا ایک حصہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ بلو ٹوتھ اسٹیکر کسی بھی اسمارٹ فون، آئی او ٹی (انٹرنیٹ آف تھنگس) یا دیگر پلیٹ فارم سے رابطہ کرسکتا ہے۔ ابتدائی ٹیسٹ میں اس نے شاندار کارکردگی دکھائی ہے اور اس کی تحقیق کا زیادہ تر کام اسرائیل میں کیا گیا ہے۔ اس کے لیے فنڈنگ ایمیزون اور سام سنگ نے کی ہے۔ ماہرین کے مطابق فضا میں ہر وقت ہزاروں ریڈیائی سگنل گزرتے رہتے ہیں اور یہ اسٹیکر ان سے توانائی جذب کرتا ہے اسے ری سائیکل ریڈی ایشن آلات بھی کہا جاسکتا ہے۔ ڈاک ٹکٹ جتنا بلو ٹوتھ اسٹیکر کسی بیٹری کے بغیر مسلسل کام کرسکتا ہے اور اس کی بدولت ہر جگہ ہر موقع پر موجود انٹرنیٹ آلات (آئی او ٹی) کو ممکن بنا کر تمام اشیاء کو باہم جوڑا جاسکتا ہے۔