February 11, 2019
ثناء جاوید -  ادائوں کی ملکہ، نگاہوں کے بھید

ثناء جاوید - ادائوں کی ملکہ، نگاہوں کے بھید

ثناء جاوید کا نام اور ان کا چہرہ، ناظرین کے لیے اب کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا ہے۔ 25؍مارچ 1993ء کو جدہ میں پیدا ہونے والی ثناء کا برج حمل (Aries)ہے۔ اُنہوں نے کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کر رکھا ہے اور اب اداکاری کے ساتھ ساتھ ماڈلنگ ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ اُنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا اور 2012ء میں پہلی مرتبہ ڈرامہ سیریز ’’میرا پہلا پیار‘‘ کے ذریعے ناظرین نے بطور اداکارہ اُنہیں فیصل قریشی کے ساتھ زارا کے کردار میں پرفارم کرتے دیکھا۔ اسی سال مشہور ڈرامہ سیریل ’’شہر ذات‘‘ میں بھی اُنہوں نے ایک مختصر مگر جاندار کردار نبھایا اور اپنی دھواں دھار آمد کا بگل اپنی ابتدائی انٹری میں ہی بجا دیا۔
2016ء میں ڈرامہ سیریل ’’ذرا یاد کر‘‘ ان کی بھرپور شناخت کا باعث بنا جس میں وہ زاہد احمد کے مقابل مرکزی کردار میں دکھائی دیں۔ اسی رومانٹک سیریل میں ماہ نور کا روپ دھارے، ثناء جاوید دیکھنے والوں کو اپنا گرویدہ بنا رہی تھیں۔
2017ء میں اُنہوں نے فلم کے بڑے پردے پر بھی کام شروع کردیا اور کامیڈی فلم ’’مہرالنساء وی لب یو‘‘ میں دانش تیمور کے ساتھ ان کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔ اس فلم کی کامیابی سے متاثر ہوکر 2017ء میں ہی اُنہیں ایک اور فلم میں مرکزی کام کی آفر ہوئی جس کے لئے ابتدا میں اُنہوں نے ہامی بھی بھرلی مگر جلد ہی اُنہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ فلم ان کے کیریئر کو متاثر کر سکتی ہے، چنانچہ بروقت اُنہوں نے خود کو اس کی کاسٹ سے علیحدہ کرلیا۔ اور وقت نے ثابت کیا کہ وہ فلم باکس آفس پر سپرفلاپ ثابت ہوئی۔
فلم چھوڑنے کی کوئی وجہ تو ثناء نے اس وقت نہیں بتائی تھی اور ذاتی وجوہات کو بہانہ بنا کر وہ فلم کی کاسٹ سے علیحدہ ہوگئی تھیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ثناء جاوید کسی تنازعے میں پڑے بغیر اپنے لیے کم مگر معیاری کام کرنے کا مشن لے کر، گزشتہ آٹھ سال سے شوبزنس کی فیلڈ میں، رفتہ رفتہ اپنے لیے ایک مستحکم مقام بنانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ ان کی جگہ کوئی اور نئی اداکارہ ہوتی تو بلال اشرف کے مقابل ’’رنگریزا‘‘ میں کام کرکے، اپنے پورٹ فولیو میں ایک اور فلم کا اضافہ بخوشی کرنے پر آمادہ ہوجاتی، کیونکہ آج کل کی اداکارائیں معیار سے زیادہ مقدار پر توجہ دے رہی ہوتی ہیں۔
کام کے معاملے میں ثناء جاوید اتنی پروفیشنل ہیں کہ ’’مہرالنساء وی لب یو‘‘ کی عکسبندی کے دوران ایک گانا شوٹ کرواتے ہوئے اُنہوں نے منفی چھ درجۂ حرارت میں برف پوش ماحول کے اندر ساڑھی پہنی تھی اور اُنہوں نے سین مکمل ہونے تک کسی کو احساس نہیں ہونے دیا کہ اُنہیں کتنی سردی لگ رہی ہے۔
2017ء میں ’’جیو‘‘ کی کامیاب ترین سیریل ’’خانی‘‘ میں وہ فیروزخان کے مقابل جلوہ گر ہوئیں اور اپنی چھاپ برقرار رکھنے میں پوری طرح کامیاب رہیں۔
ان کے دیگر مقبول سیریلز میں ’’پیارے افضل‘‘، ’’رنجش ہی سہی‘‘، ’’مینو کا سسرال‘‘، ’’میری دلاری‘‘، ’’گویا‘‘، ’’کوئی دیپک ہو‘‘، ’’دل کا کیا رنگ کروں‘‘، ’’چنگاری‘‘، ’’مانا کا گھرانا‘‘، ’’اعتراض‘‘ اور ’’انتظار‘‘ بھی شامل ہیں۔
وہ اب تک عاطف اسلم کی دو میوزک وڈیوز ’’ہمیں پیار ہے پاکستان سے‘‘ اور ’’خیر منگدا‘‘ میں بھی بطور ماڈل کام کرچکی ہیں۔ ’’قبول ہے‘‘ اور ’’تیرے بناء‘‘ جیسی میوزک وڈیوز میں بھی ثناء نے اپنی ماڈلنگ کے جوہر خوب خوب دکھائے ہیں۔ ان کی اداکاری میں ان کا سب سے مضبوط ہتھیار ان کی شاندار ڈائیلاگ ڈلیوری اور ٹائمنگ کو قرار دیا جاتا ہے۔ ایک طرف اپنے ان فنی ہتھیاروں کے ذریعے وہ اداؤں کی ملکہ بنی ہوئی ہیں تو دوسری جانب وہ اداکاری کے دوران اپنی خوبصورت آنکھوں کا بھی زبردست استعمال کرتی ہیں، یوں کہا جاسکتا ہے کہ اداؤں کی یہ ملکہ، اپنی نگاہوں کے بھید سے بھی جلوے بکھیرنے پر عبور رکھتی ہے۔
اُشنا شاہ، سارہ خان، منشا پاشا، اریج فاطمہ اور صنم جنگ، ثناء جاوید کی وہ ہمعصر اداکارائیں ہیں جنہوں نے لگ بھگ اکٹھے ہی اپنے کیریئر کا آغاز کیا، مگر صنم جنگ کے علاوہ ان میں سے کسی بھی اداکارہ نے ماڈلنگ اور ایکٹنگ تو ضرور کی مگر ٹی وی شوز کی میزبانی کو نہیں اپنایا۔ خصوصاً ثناء جاوید تو بطور مہمان بھی مارننگ شوز میں کم کم ہی نظر آتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اپنے کسی نئے سیریل کی پروموشن کے لیے اُنہیں ایسے شوز میں آنا پڑے تو وہ آتی ہیں مگر اس کے علاوہ وہ اپنی بھرپور توجہ صرف اپنے بنیادی کام پر ہی مرکوز رکھتی ہیں۔ اُنہوں نے اب تک ٹی وی اور فلم کے پردے پر نہ صرف مختلف النوع کردار نبھائے ہیں بلکہ ہر چینل اور ہر اچھے ڈائریکٹر کے ساتھ کام کرکے بھی وہ اپنے تجربے کو وسعت دے رہی ہیں۔
’’جیو‘‘ کے ہی تازہ ترین سیریل ’’رومیو ویڈز ہیر‘‘ میں ثناء جاوید نے فیروزخان کے مقابل کام کیا اور اس نغماتی شاہکار میں ثناء کی بے ساختہ اداکاری کے باعث، ریٹنگ کے کئی ریکارڈز بھی ٹوٹ گئے۔ ’’خانی‘‘ کی المیہ لَو اسٹوری کے بعد ’’رومیو ویڈز ہیر‘‘ کی مزاحیہ پرفارمنس نے ثابت کیا کہ دراصل ثناء اور فیروزخان کے درمیان ورکنگ کیمسٹری بہت اچھی ہے، لہٰذا اُنہیں جس کردار میں بھی آزمایا جائے وہ اس آزمائش پر پورے اُترتے ہیں۔
’’خانی‘‘ کا کردار کرنے کے بعد ثناء کا کہنا تھا کہ مضبوط عورت کی عکاسی اپنے ٹی وی کرداروں کے ذریعے کرتے ہوئے، وہ دراصل معاشرے کی ہر عورت کو طاقت دینے کا فرض نبھا رہی ہوتی ہیں۔ ان کے تازہ ترین بیانات اور انٹرویوز کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ فلموں کی آفرز ہونے کے باوجود، ٹی وی پر کام کرکے وہ زیادہ مطمئن رہتی ہیں اور آنے والے دنوں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ وہ پروڈکشن بھی کریں گی تو ممکنہ طور پر ٹی وی کے پلیٹ فارم کو ہی منتخب کریں گی۔
جدید دور کی نئی اداکاراؤں کی طرح ثناء جاوید بھی سوشل میڈیا پر ایکٹیو رہتی ہیں، فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر وہ خود کو اپنے مداحوں سے جوڑے رکھتی ہیں۔ وہ خود کو سپرفٹ رکھنے کے لیے کتنی ڈائٹنگ کرتی ہیں اور کتنا وقت جِم میں گزارتی ہیں، اس کا اندازہ ان کی سائز زیرو جیسی جسامت دیکھ کر بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
ثناء کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ کہاں کھڑی ہوں گی اور ان کے کریڈٹ پر قدرت نے کتنے کامیاب سیریلز، فلمیں یا کمرشلز لکھ رکھے ہیں، مگر ایک بات وہ پورے وثوق سے کہہ سکتی ہیں کہ وہ کسی نان پروفیشنل یا ایسے ڈائریکٹر کے ساتھ کام نہیں کریں گی جو بغیر ہوم ورک کیے سیٹ پر آجاتے ہیں اور ان کا کوئی وژن نہیں ہوتا۔