February 11, 2019

سب سے بڑی خوشی

انٹرویو کے لئے بے شمار لوگ آئے ہوئے تھے۔ جبکہ ملازمت کے لئے صرف ایک اسامی خالی تھی۔ مل کے مالک نے ہر ایک امیدوار سے درج ذیل تین سوال پوچھے۔
(1) آپ کتنی تنخواہ لیں گے؟
(2) آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟
(3) اگر ہم تمام دن آپ سے کام لیں اور درمیان میں ایک منٹ کے لئے بھی کہیں جانے کی اجازت نہ ہو تو کیا آپ اس صورت میں ملازمت کریں گے؟
ایک امیدوار نے کہا۔ ’’میں کم ازکم 15ہزار روپے تنخواہ لوں گا، میں چاہتا ہوں دولت مند بن جائوں اور میں ڈیوٹی کے اوقات میں کہیں نہیں جائوں گا۔‘‘
دوسرے شخص نے جواب دیا۔ ’’میں تنخواہ 20ہزار روپے لوں گا، آپ کی مل میں اچھا عہدہ مل جائے، اور ڈیوٹی کے اوقات میں ایک منٹ بھی چھٹی نہیں کروں گا۔‘‘
ایک اور امیدوار نے کہا۔ ’’میں تنخواہ 30ہزار روپے لوں گا، میں کامیاب بزنس مین بن جائوں اور ڈیوٹی 24گھنٹے انجام دوں گا۔‘‘
امیدواروں میں ایسا شخص بھی تھا، جس کے جوابات مل مالک کو پسند آئے اور اسے ملازمت پر رکھ لیا۔ اس کا پہلا جواب یہ تھا۔ ’’آپ جو تنخواہ دیں گے وہی قبول کرلوں گا۔ دوسرے سوال کا جواب دیا۔ ’’میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہوجائے۔‘‘ اور تیسرے سوال کا جواب دیا۔ ’’میں نمازوں کے اوقات میں کام نہیں کروں گا۔ نماز کے لئے تو جانا ہوگا۔‘‘
مل کے مالک نے اسے مبارکباد دی۔ اس کی تنخواہ 30ہزار روپے مقرر کی… اور اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔ ’’اللہ آپ کی سب سے بڑی خواہش کو پورا کرے۔‘‘ آمین۔