February 11, 2019
احساسِ ندامت

احساسِ ندامت

مائرہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی، اس کے والد ڈاکٹر تھے اور ان کی خواہش تھی کہ مائرہ بھی بڑی ہوکر ڈاکٹر بنے۔ مائرہ ساتویں کلاس تک تو فرسٹ آتی رہی مگر جیسے ہی آٹھویں میں آئی اس کا دھیان پڑھائی سے ہٹ گیا۔ ساتویں کے رزلٹ میں فرسٹ آنے کی خوشی میں اس کے والد نے اس کی فرمائش پر پلے اسٹیشن گیم لاکر دیا، بس پلے اسٹیشن کا کیا ملنا تھا کہ مائرہ اسکول سے گھر آکر سارا دن گیمز کھیلتی رہتی اور اپنا قیمتی وقت گیمز کھیلنے میں ضائع کردیتی۔
مائرہ کے والدین ہر سال اس کے فرسٹ آنے کی خوشی میں گھر میں دعوت کا انعقاد کرتے اور شہر کے بڑے بڑے گھرانوں کو دعوت میں بلاتے۔ مائرہ کے والد اس کی سب کے سامنے خوب تعریف کرتے۔ انہیں اپنی بیٹی سے بہت محبت تھی، وہ اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے مگر اب وہ دیکھ رہے تھے کہ مائرہ پڑھنے کی بجائے سارا سارا دن پلے اسٹیشن پر گیمز کھیلتی رہتی، تو انہوں نے مائرہ کو کئی بار سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ ان کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی۔ آٹھویں کے فرسٹ ٹرم کا رزلٹ اس کے والدین کی توقع کے عین مطابق آیا یعنی مائرہ بس واجبی نمبروں سے پاس ہوئی۔ اب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔ اب اس کے والدین پچھتاتے کہ انہوں نے مائرہ کی بات کیوں مانی۔ وہ زیادہ سختی کرتے تو مائرہ ان کے ساتھ بدتمیزی کرتی اور ان کی بات سنی اَن سنی کردیتی۔
سالانہ امتحانات قریب آتے جارہے تھے اور مائرہ کے والدین کی ٹینشن بڑھتی جارہی تھی کہ اگر یہ فرسٹ نہ آسکی تو جو خواب انہوں نے اس کے ڈاکٹر بننے کے دیکھ رکھے تھے، وہ کیسے پورے ہوں گے؟ وہ خواب انہیں ڈوبتے ہوئے محسوس ہونے لگے تھے اور نہ صرف مائرہ کے والدین بلکہ مائرہ کی بھی خواہش تھی کہ وہ بڑے ہوکر اپنے والد کی طرح ڈاکٹر بنے مگر جس طرح کا رزلٹ وہ لائی تھی اس سے تو لگ یہ رہا تھا کہ وہ آٹھویں بھی مشکل سے پاس کرپائے گی۔
’’پاپا آپ میری پرنسپل سے بات کریں کہ وہ مجھے فرسٹ پوزیشن دلوادیں۔ آپ کا شہر میں اتنا نام ہے، آپ اتنے بڑے اور مشہور ڈاکٹر ہیں۔ آپ… آپ میری سفارش کروادیں پلیز‘‘
’’نہیں، ہرگز نہیں! میں ایسے کام نہیں کرتا، میں تمہاری پرنسپل سے کیوں بات کروں؟ تم خود پلے اسٹیشن کچھ عرصے کے لیے چھوڑ کر پڑھائی کیوں نہیں کرتیں۔ تم پہلے خود اپنی محنت سے فرسٹ آتی تھیں، اب… اب تمہیں کیا ہوگیا ہے، میری تو سمجھ سے باہر ہے۔‘‘ مائرہ کے والد نے کہا۔
ان دونوں کی بات سن کر مائرہ کی ماما بھی بیچ میں بول پڑیں۔ ’’بیٹا ابھی آپ آٹھویں میں ہیں اور اگر آپ کے پاپا آپ کو پرنسپل سے کہہ کر پاس کروا بھی دیں تو آگے چل کر میرا مطلب بڑی کلاسوں میں یا ہر سال تو یہ آپ کو پاس کروانے سے رہے اور ہم تو سوچ رہے ہیں کہ اس دفعہ آپ کے فرسٹ آنے کی خوشی میں جو دعوت کا انعقاد کرتے تھے وہ بھی نہ کریں۔‘‘
مائرہ نے دعوت نہ ہونے کا سنا تو اسے ایسے لگا کہ جیسے اس کی زمانے بھر میں بے عزتی اور توہین ہوئی ہے۔
’’نہیں ماما پاپا ،آپ دعوت ختم نہ کریں ایسے تو لوگ سمجھیں گے کہ میں اس مرتبہ فرسٹ نہیں آئی۔ میں پڑھوں گی اور آپ کو فرسٹ آکر دکھائوں گی۔‘‘
مائرہ کے ذہن میں اس وقت کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ پڑھنے لکھنے سے تو اس کو کوئی خاص شوق نہ رہا تھا تو اس نے نقل کرکے فرسٹ آنے کا سوچا۔ پیپرز میں اب کم وقت رہ گیا تھا، اس نے پلے اسٹیشن تقریباً کھیلنا کم کردیا۔ وہ اپنے والدین کے سامنے کتابیں لے کر بیٹھتی، جس سے اس کے والدین سمجھتے کہ وہ پڑھ رہی ہے مگر وہ ان سے چھپ کر نقل کرنے کیلئے پھرّے بنارہی ہوتی۔ یہاں تک پہلے پیپر کا دن آگیا۔ اس کا پہلا پیپر انگلش کا تھا، پیپر شروع ہونے سے پہلے اس کی مس نے کہا۔ ’’اگر کسی کے پاس نقل کرنے کیلئے کتابیں یا پھرّے ہیں تو وہ پہلے ہی نکال دیں ورنہ اگر بعد میں پکڑی گئیں تو شرمندگی کی بات ہوگی اور فیل کردی جائیں گی۔ ہم سب مسلمان ہیں ہمیں ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں کہ جس سے اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہو اور ہمیں زندگی بھر پچھتاتے رہنا پڑے اور ویسے بھی جو لڑکی فیل ہوگئی وہ اسی کلاس میں رہ جائے گی اس لیے گھر سے خوب پڑھ کر آئیں اور کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے آپ کے والدین کی عزت و نام معاشرے میں خراب ہو۔‘‘
مائرہ سوچ میں پڑ گئی کہ اب کیا کرے۔ نقل کرتی ہے تو پکڑے جانے کا ڈر اور اللہ تعالیٰ بھی ناراض ہوں گے اور بغیر نقل اس سے پرچہ حل ہوگا نہیں۔ وہ اسی سوچ میں گم بیٹھی تھی کہ مس اس کے پاس آگئیں اور اس سے پوچھا کہ وہ اس طرح گم صم بیٹھی کیا سوچ رہی ہے۔ اس نے مس کو ٹالنا چاہا مگر ٹال نہ سکی اور سارے کے سارے پھرّے مس کو نکال کر دے دیئے۔ جب مس نے سب کو سوال حل کرنے کے لیے شیٹ دی تو مائرہ سے ایک آدھ سوال کے علاوہ زیادہ نہ لکھا گیا، اب اسے بہت پچھتاوا ہوا کہ یونہی سارا سال اس نے گیمز کھیل کر اور اِدھر اُدھر تفریح کرکے گزار دیا، اگر تھوڑا پڑھ لیتی تو آج اسے اس طرح پچھتانا نہ پڑتا۔ اس طرح سارے واجبی سے ہوئے۔ مائرہ نے اپنے والدین کو ڈر کے مارے کچھ نہ بتایا۔
اب رزلٹ کا دن آگیا۔ مائرہ کو جو امید تھی اس کا رزلٹ ویسا ہی آیا یعنی وہ فیل ہوگئی۔ وہ اپنا رزلٹ کارڈ دیکھ کر بہت شرمندہ ہوئی۔ اس کی کلاس کی ساری لڑکیاں پاس تھیں سوائے اس کے۔ سب لڑکیاں حیران و پریشان مائرہ کو دیکھ رہی تھی کہ جو لڑکی ہر سال کلاس میں فرسٹ آتی تھی اس دفعہ فیل کیسے ہوگئی۔ ساری لڑکیاں آپس میں کھسر پھسر کرنے لگیں۔ مائرہ اپنا رزلٹ کارڈ لیتے ہی اسکول سے سیدھا گھر واپس آگئی، اس نے رزلٹ کارڈ کسی کو نہ دکھایا اور سیدھی اپنے کمرے میں جاکے روتے روتے سوگئی۔
شام کو مائرہ کو اس کی امی نے اٹھایا اور کہا ’’مائرہ جلدی اٹھو تمہارے پاس ہونے کی خوشی میں دعوت شروع ہونے والی ہے اور تم اب تک تیار بھی نہیں ہوئی ہو اور تمہارا رزلٹ کیا آیا ہے، فرسٹ آئی ہو نا میری بیٹی؟‘‘
’’جی‘‘ ابھی مائرہ کچھ بول ہی پائی تھی کہ اس کے پاپا نے اس کی ماما کو آواز لگائی کہ جلدی سے نیچے آجائیں ملک صاحب کی فیملی آگئی ہے۔
’’شاباش میری بیٹی‘‘ مائرہ کی مما یہ بول کر جلدی سے کمرے سے باہر چلی گئیں اور مائرہ کی جی کو ہاں سمجھ بیٹھیں۔
(جاری ہے)