February 11, 2019
شاپنگ تھراپی… موڈ اچھا کرسکتی ہے؟

شاپنگ تھراپی… موڈ اچھا کرسکتی ہے؟

زندگی کا دستور ہے کہ کبھی خوشیاں ہماری راہوں کو جگمگا دیتی ہیں تو کبھی غم کے بادل چھا کر دل اداس کر جاتے ہیں۔ یہ اُتار چڑھائو ہماری زندگی کا حصہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری کیفیات بھی بدلتی رہتی ہیں تاہم ایک خاتون کا موڈ خواہ کسی بھی وجہ سے خراب ہو، شاپنگ کی نوید اسے فوری طور پر اٹھ کھڑا ہونے پر مجبور کردیتی ہے اور وہ سب کچھ بھول بھال کر بازار کی طرف روانہ ہوجاتی ہے۔
موڈ چمکائیں: ماہرین اس کیفیت کو ریٹیل تھراپی (Retail Therapy)یا شاپنگ تھراپی کا نام دیتے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسی موثر ترکیب ہے جس پر عمل کرنے سے آپ کا موڈ فوری طور پر اچھا ہوجاتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آیا یہ ایک مفروضہ ہے یا شاپنگ کرنے سے واقعی آپ کا موڈ بہتر ہوسکتا ہے۔ تو اس کا جواب ایک حالیہ کی جانے والی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ اداسی کی کیفیت میں کی گئی خریداری آپ کیلئے غیر معمولی طور پر سودمند ثابت ہوتی ہے اور اس سے آپ کے موڈ میں بہتری آجاتی ہے۔
اس ریسرچ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب آپ کا موڈ خراب ہو تو ایسے میں ریٹیل تھراپی، بہت اچھی حکمتِ عملی ثابت ہوتی ہے۔ ان ماہرین کے مطابق اعتدال میں رہ کر کی جانے والی شاپنگ ایک ایسا طریقہ ہے جس سے فوری طور پر آپ کا موڈ خوشگوار ہوسکتا ہے۔
جرنل آف کنزیومر سائیکالوجی کے تحت کی جانے والی ایک اور ریسرچ ہمیں بتاتی ہے کہ شاپنگ بیشتر خواتین کیلئے گویا ایک تھراپی یعنی علاج کا کام دیتی ہے جس کے نتیجے میں ان کا موڈ خوشگوار ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں جب مزید ریسرچ کی گئی اور انسانی رویوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس بات کا انحصار دراصل اس فرد کی جذباتی کیفیات پر ہوتا ہے جو اس تجربے سے گزر رہا ہوتا ہے۔
اس بات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جب آپ اداسی کی کیفیت کا شکار ہوتی ہیں، تب کچھ بیرونی عوامل آپ کے جذبات اور آپ کی قوتِ فیصلہ پر حاوی ہوتے ہیں۔ لیکن جب آپ شاپنگ شروع کرتی ہیں تو پھر آپ اپنے فیصلے خود کرنے لگتی ہیں کہ شاپنگ کہاں سے کرنی ہے، کیا خریدنا ہے اور کتنے پیسے خرچ کرنے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح آپ کا کنٹرول گویا ایک بار پھر آپ کے ہاتھ میں آجاتا ہے اور یوں آپ کا موڈ بھی اچھا ہوجاتا ہے۔
تبدیلی اچھی ہے: شاپنگ سے موڈ اچھا کیسے ہوتا ہے، اس بارے میں گولڈن گیٹ یونیورسٹی، سان فرانسسکو کی ایک پروفیسر کِٹ یارو کا کہنا ہے کہ شاپنگ کے دوران اپنی پسندیدہ اشیاء خریدنے سے موڈ فوری طور پر تبدیل ہوجاتا ہے۔ وہ شاپنگ کو ایک ایسا ذریعہ قرار دیتی ہیں جس سے آپ کا ذہن بہت جلد خوشی کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔
پروفیسر یارو کے مطابق یہ سلسلہ کچھ یوں ہے کہ کوئی بھی شاپنگ کرتے وقت آپ کے ذہن میں مختلف خیالات ہوتے ہیں۔ یعنی جب آپ کوئی بھی چیز خریدتی ہیں تو اس سے متعلق اچھے تصورات آپ کے ذہن میں جگہ بنالیتے ہیں کہ یہ چیز میں کب اور کیسے استعمال کروں گی۔ یا اگر آپ اپنے بچے کیلئے کوئی شے خریدتی ہیں تو ایسے میں لازمی طور پر آپ کے دل میں اس کیلئے محبت کے جذبات ابھر آتے ہیں جو پہلے سے موجود رنج کی کیفیت پر غالب آجاتے ہیں۔ اس مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خریداری آپ کی توجہ کو دوسری جانب منتقل کرسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں آپ کا موڈ بدل سکتا ہے۔
خوشی کے ہارمون میں اضافہ: اسی سلسلے میں کی گئی ایک اور ریسرچ سے یہ ثابت ہوا کہ شاپنگ کیلئے جاتے وقت آپ قدرے پُرجوش ہوتی ہیں۔ خوشی اور جوش ایسی کیفیات ہیں جو آپ کے دماغ میں ایک ہارمون پیدا کرتی ہیں جسے ڈوپامائن کہا جاتا ہے۔ ریسرچ میں شریک ڈاکٹر ٹریوس اسٹورک کا کہنا ہے کہ ڈوپامائن وہ ہارمون ہے جو آپ کے اندر خوشی کا احساس جگاتا ہے۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ شاپنگ کیلئے جاتے وقت دماغ میں ڈوپامائن یعنی خوشی کا ہارمون بننا شروع ہوجاتا ہے جو ظاہر ہے کہ ایک بہت اچھی علامت ہے۔
سماجی رابطوں سے خوشی: خریداری کے سلسلے میں کی جانے والی ایک اور ریسرچ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جو نہ صرف آپ کو جسمانی طور پر متحرک رکھتی ہے بلکہ اس دوران آپ کو مختلف لوگوں سے ملنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ اس سے آپ کے سماجی رابطوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بات بھی آپ کے موڈ میں خوشگواری پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ مائوں کیلئے ماہرین کا مشورہ ہے کہ شاپنگ پر جاتے وقت وہ اپنے ننھے منوں کو بھی ضرور ساتھ لے جائیں۔ بیشتر خواتین شاپنگ پر جاتے ہوئے بچوں کو ساتھ لے جانے سے گھبراتی ہیں لیکن اس سے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں میں خاطرخواہ اضافہ ہوتا ہے اور آپ کے ساتھ کئے گئے شاپنگ کے تجربات آگے چل کر ان کے بہت کام آتے ہیں۔
کام کی بات: آخر میں ایک کام کی بات یہ کہ اپنے رنج اور پریشانیوں کو دور کرنے کیلئے شعوری کوشش ضروری ہے کیونکہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ سو، شاپنگ تھراپی کو ضرور آزمائیں تاہم اعتدال کا دامن ہر صورت میں تھامے رکھیں۔ اس طرح آپ کو زندگی کی پریشانیوں اور تنائو سے چھٹکارا پانے میں مدد ضرور ملے گی۔
شاپنگ کرنے سے پہلے ہمیشہ ایک فہرست بنا کر ساتھ لے جائیں اور اسی کے مطابق خریداری کریں۔ شاپنگ کے لیے جاتے وقت آرام دہ کپڑے اور جوتے، موسم کی مناسبت سے پہن کر جائیں تاکہ شاپنگ کے دوران خود کو مطمئن محسوس کریں۔ اس کے علاوہ کسی دکان یا شاپنگ سینٹر میں سیل لگی دیکھ کر بلا سوچے سمجھے اس کی جانب نہ لپکیں، بلکہ دیکھ بھال کر اشیاء خریدیں۔ سیل میں رکھی ہوئی اشیاء غیر معیاری بھی ہوتی ہیں۔ ضرورت سے زیادہ نہ گھومیں بلکہ تھکن یا بھوک محسوس ہونے کی صورت میں واپسی کی راہ لیں تاکہ آپ کا موڈ خوشگوار ہی رہے۔ اس کے علاوہ خریداری میں سمجھداری یہی ہے کہ ہمیشہ کیش کی صورت میں ادائیگی کریں۔