February 11, 2019
زیورات  آئی بہار…!

زیورات آئی بہار…!

موسم بہار کا ہو تو ہر شے پر جیسے نکھار سا آجاتا ہے اور ایسے میں آپ کے ارد گرد موجود پیڑ، پودوں اور پھولوں کی آب و تاب تو بڑھ ہی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ فیشن انڈسٹری پر بھی گویا بہار آجاتی ہے۔ دنیا بھر کے فیشن ہائوسز، موسمِ بہار کے لئے نت نئے ملبوسات اور فیشن کے دیگر لوازمات پیش کرتے ہیں۔ ان لوازمات میں زیورات سرفہرست دکھائی دیتے ہیں جنہیں خواتین کی کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ اکثر خواتین اس بات سے اختلاف کرتی ہیں، تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ زیورات کسی بھی عورت کے حسن کو دوچند کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ انہیں پہن کر اس کی شان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
چند دہائیوں پہلے تک بھاری بھرکم زیورات کا فیشن تھا اور کسی بھی محفل میں وہی خاتون مرکزِ نگاہ بنتی تھی جس نے سب سے بھاری زیورات زیبِ تن کئے ہوتے تھے، تاہم پھر رفتہ رفتہ اس رجحان میں تبدیلی آئی اور بھاری بھرکم زیورات کی جگہ نازک اور ہلکے پھلکے زیورات نے لے لی۔ نیکلس، گلوبند اور بُندوں، بالیوں کا سائز سکڑ کر مختصر ہوتا چلا گیا۔ لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں!‘‘ سو، فیشن انڈسٹری پر تو یہ مصرعہ کچھ زیادہ ہی صادق آتا ہے۔ لہٰذا سُناروں نے فیشن کی متوالی خواتین کے لئے زیورات پر بے شمار تجربات کئے لیکن پھر جب ان کی جگہ جیولری ڈیزائنرز نے لے لی تو اس انڈسٹری کو گویا پَر لگ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہمارے ہاں بھی متعدد جیولری ڈیزائنرز ایک سے ایک خوبصورت زیورات ڈیزائن کررہے ہیں۔
جب سے انٹرنیٹ کی بدولت دنیا سکڑ کر انتہائی قریب آگئی ہے، تب سے دنیا بھر میں متعارف کرائے جانے والے فیشن ٹرینڈز آناً فاناً مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں۔ اب تمام فیشن ہائوسز کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ ہر موسم کے آغاز پر اپنی نئی کلیکشن متعارف کرواتے ہیں جس میں ملبوسات کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء بھی شامل ہوتی ہیں۔ یعنی فیشن بھی اب موسم کے ساتھ رنگ بدل لیتا ہے۔
اس بار موسمِ بہار کے ساتھ زیورات کا جو انداز متعارف کروایا گیا ہے، اس کے مطابق ایسے نیکلس اور چوکرز فیشن کا حصہ رہیں گے جن کی بناوٹ اگرچہ نرم و نازک ہوگی لیکن یہ سائز میں بڑے اور بھرے بھرے ڈیزائنز پر مشتمل ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ قدیم روایتی انداز کی بالیاں اس بار فیشن کا حصہ ہوں گی۔ لہٰذا خواتین کے لئے نوید ہے کہ وہ بڑے سائز کی جیولری خریدنے اور پہننے کے لئے تیار رہیں بالخصوص گلے میں پہننے والے زیورات ایسے خریدیں جو بڑے سائز پر مشتمل ہوں اور کئی لڑیوں پر مشتمل ہوں یا گلوبند کی مانند آپ کی پوری گردن کو ڈھانپ لیں۔ فیشن بدلتے ہیں تو تھوڑی بہت رد و بدل کے ساتھ پرانا فیشن لوٹ کر آتا ہے۔ لہٰذا اس بار زیورات کا روایتی مشرقی انداز لوٹ کر آیا ہے جس کے تحت پرانی طرز کی بڑی بڑی بالیاں، جھمکے اور بُندے مقبولیت حاصل کررہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ چوڑیوں کا فیشن بھی ایک بار پھر واپس آرہا ہے۔ یہ ذکر صرف پاکستان کا نہیں بلکہ یہاں بات گلوبل فیشن انڈسٹری کی ہورہی ہے۔ لہٰذا اسے مقامی فیشن سمجھتے ہوئے نظر انداز نہ کریں اور آنے والی کسی تقریب کے لئے یہی روایتی انداز اپنانے کے لئے تیار ہوجائیں۔
یہ تو تھے تمام نئے جیولری ٹرینڈز جو رواں سیزن کا حصہ رہیں گے۔ اب ہر خاتون کے ذہن میں یہ سوال لازمی پیدا ہوگا کہ ان تمام زیورات میں سے وہ اپنے لئے کیا منتخب کرے اور کس موقع پر کون سے زیورات کی مدد سے اپنی زینت بڑھائے۔ بلاشبہ یہ سوال انتہائی اہم ہے کیونکہ فیشن اور ٹرینڈز اپنی جگہ لیکن ان میں سے کون سا انداز آپ پر اچھا لگتا ہے، زیادہ اہم بات یہ ہے۔ سو، آپ اپنے لئے موقع کی مناسبت سے زیورات کا انتخاب تو کر ہی لیں گی۔ یعنی اگر شادی کی تقریب میں شرکت کرنی ہے تو قدرے بھرے ہوئے زیورات آپ کا انتخاب ہوں گے جبکہ کسی پارٹی یا چھوٹی موٹی تقریب کیلئے آپ ہلکے پھلکے زیورات پہن کر جانا پسند کریں گی۔ لیکن اس انتخاب میں ایک اور بات جس کا خیال آپ کو رکھنا ہوگا، وہ یہ ہے کہ جیولری کا انتخاب اپنے چہرے کی ساخت کی مناسبت سے کریں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کا چہرہ گول ہے تو بندوں اور بالیوں کا انتخاب کرتے وقت گول اور بڑے سائز کی بالیاں اور بُندے پہننے کی بجائے قدرے لمبوترے بُندے پہنیں، اس سے آپ کے چہرے کا تاثر دلکش نظر آئے گا۔ اسی طرح جن خواتین کی گردن چھوٹی ہو، وہ زیادہ بھاری اور چوڑا نیکلس پہننے سے گریز کریں جبکہ پتلی اور لمبی گردن کی مالک خواتین بھرا ہوا نیکلس یا کئی لڑیوں والا گلوبند شوق سے پہن سکتی ہیں۔ اس طرح ذرا سی تبدیلی اور ترمیم کے ساتھ ہر عورت جدید فیشن کو اپنا سکتی ہے اور بہار کے موسم کو گویا اپنا ہمنوا بنا سکتی ہے۔