February 11, 2019
کپتان سرفراز  پھنس گئے … کیسی مشکل میں

کپتان سرفراز پھنس گئے … کیسی مشکل میں

ان دنوں کرکٹ کی طرح قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز بھی خبروں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے جنوبی افریقی کرکٹر ایندائل فلکوایو پر نسلی تعصب پر مبنی جملے کسنے پر پاکستان کے کپتان سرفراز احمد پر 4 میچز پر پابندی عائد کردی اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس سے قبل جوہانسبرگ میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایک روزہ سیریز کے چوتھے میچ میں ٹاس کے موقع پر میزبان ٹیم کے کپتان نے بتایا تھا کہ انہیں سرفراز احمد پر 4 میچز کی پابندی سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے کپتان فاف ڈیوپلیسی کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ سرفراز احمد پر 4 میچز کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جارہے چوتھے ایک روزہ میچ میں قومی ٹیم کی کپتانی شعیب ملک کے سپرد کی گئی۔ واضح رہے کہ آئی سی سی نے سرفراز احمد پر اپنے ضابطہ اخلاق کے تحت پابندی عائد کی، جس کے مطابق کسی بھی کھلاڑی کو اس کی نسل، مذہب، رنگ اور قومی شناخت کی وجہ سے دھمکانا، حملہ کرنا یا نفرت انگیز جملوں کا تبادلہ کرنا قابل گرفت ہے۔ اس کے علاوہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے مطابق سرفراز احمد کو آرٹیکل 7.3 کے تحت ان کی جانب سے کئے جانے والے اقدام پر تعلیمی پروگرام کا حصہ بھی بننا پڑے گا۔ آئی سی سی کی موجودہ پابندی کے باعث سرفراز احمد اگلے 2 ایک روزہ میچ اور ٹی 20 سیریز کے پہلے 2 میچوں میں شرکت کی پابندی لگی۔ یاد رہے کہ سرفراز احمد نے جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں متوقع شکست کو دیکھتے ہوئے غصے کے عالم میں جنوبی افریقہ کے آل راؤنڈر ایندائل فلکو ایو پر نسل پرستانہ جملے کہے تھے جس کو براہ راست سنا گیا تھا۔ سرفراز نے میچ کی دوسری اننگز کے دوران ایندائل فلکوایو کو پکارتے ہوئے کہا تھا کہ ’ابے کالے! تیری امی کہاں بیٹھی ہوئی ہیں آج، کیا پڑھوا کے آیا ہے تو۔‘ قومی ٹیم کے کپتان کی یہ ویڈیو میچ کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی اور انہیں پاکستانی شائقین کے ساتھ ساتھ سابق کرکٹرز نے بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ جس کے بعد سرفراز احمد نے اپنے الفاظ پر معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں تھا جبکہ پی سی بی نے بھی ٹیم کے کپتان کی جانب سے نسل پرستانہ جملے کسنے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ بعدازاں جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان فاف ڈیوپلیسی نے قومی ٹیم کے کپتان کی معذرت قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی ٹیم نے نسل پرستانہ جملے کسنے والے سرفراز احمد کو معاف کردیا ہے۔ سیریز کے تیسرے میچ سے قبل سرفراز احمد نے ایندائل فلکوایو سے ذاتی حیثیت میں ملاقات کر کے معذرت کی تھی اور اس موقع پر دونوں ٹیموں کے منیجرز بھی موجود تھے۔ بعدازاں آئی سی سی میچ ریفری رنجن مدوگالے نے معاملے کی رپورٹ کھیل کی عالمی گورننگ باڈی کو بھجوا دی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لگتا تھا کہ سرفراز کی معذرت کے بعد دونوں کھلاڑیوں اور کرکٹ بورڈز کے درمیان مسئلہ خوشگوار انداز میں حل ہو گیا تھا کیونکہ جنوبی افریقی ٹیم اور بورڈ دونوں نے ہی سرفراز احمد کی معافی کو قبول کر لیا تھا۔ پی سی بی کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ہم اس معاملے کو آئی سی سی کے فورم پر اٹھائیں گے تاکہ ضابطہ اخلاق میں اصلاحات لائی جا سکیں، سزاؤں کے بجائے خوشگوار انداز میں مسئلے کو حل کرنے کو فروغ دیا جا سکے۔ تاہم پی سی بی نے اپنے بیان میں اس بات کو باور کرایا کہ نسلی تعصب پر مبنی رویے کے حوالے سے بورڈ نے عدم برداشت کی پالیسی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ سرفراز کے حوالے سے بورڈ نے واضح کیا کہ 4میچوں کی پابندی کے بعد سرفراز احمد اب ٹی20 سیریز میں شرکت کیے بغیر وطن واپس لوٹ آئے اور بقیہ میچوں میں شعیب ملک نے قومی ٹیم کی قیادت کی۔ جبکہ رضوان کو ٹی20 اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا۔
قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے نسل پرستانہ جملوں پر پابندی کے بعد سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کی تنقید کو ذاتی حملے قرار دے دیا۔سرفراز احمد کو اس جملے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور متعدد شائقین نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی ٹیم کے کپتان کے اس رویے پر ان کی سرزنش کرے، جبکہ کچھ لوگوں نے سرفراز پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔
شعیب اختر نے سرفراز احمد کے رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعدازاں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب اختر نے مزید کہا تھا کہ سرفراز احمد سستے میں چھوٹ گئے ہیں اور سرفراز کے لیے یہ اچھی خبر ہے کہ آئی سی سی کے قانون کو دیکھتے ہوئے ان پر کم میچز کی پابندی لگی ہے۔ جنوبی افریقہ سے وطن واپسی پر کراچی ایئرپورٹ پر صحافیوں کو جواب دیتے سرفراز احمد نے کہا کہ شعیب اختر تنقید نہیں کر رہے بلکہ وہ ذاتیات پر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور مجھے جو سزا ملنی تھی وہ مل گئی۔ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس کیس کو بہت اچھے طریقے سے ہینڈل کیا اور اس کے بعد جو آئی سی سی نے فیصلہ سنایا، وہ سب کے سامنے ہے۔ یاد رہے کہ جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان فاف ڈیوپلیسی نے نسل پرستانہ جملے کسنے پر سرفراز احمد کی معذرت کو قبول کرتے ہوئے انہیں معاف کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ البتہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر قومی ٹیم کے کپتان پر 4 میچوں کی پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز کے بقیہ میچ اور ٹی20 سیریز کے لیے ٹیم کے سب سے تجربہ کار بلے باز شعیب ملک کو قیادت سونپی دی گئی ہے۔ آئی سی سی نے سرفراز احمد پر اپنے ضابطہ اخلاق کے تحت پابندی عائد کی ہے جس کے مطابق کسی بھی کھلاڑی کو اس کی نسل، مذہب، رنگ اور قومی شناخت کی وجہ سے دھمکانا، حملہ کرنا یا نفرت انگیز جملوں کا تبادلہ کرنا قابل گرفت ہے۔ اس کے علاوہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے مطابق سرفراز احمد کو آرٹیکل 7.3 کے تحت ان کی جانب سے کیے جانے والے اقدام پر تعلیمی پروگرام کا حصہ بھی بننا پڑے گا۔
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی کمیٹی کے رکن وسیم اکرم نے سرفراز احمد کو ہی ورلڈ کپ 2019ء تک کپتان برقرار رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت قومی ٹیم کی قیادت کے لیے سرفراز سے بہتر کوئی انتخاب نہیں ہوسکتا۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد سے غلطی ہوئی، جس کی انہیں سزا مل گئی، انہیں بحیثیت کپتان محتاط رہنا چاہیے تھا۔ وسیم اکرم نے سوشل میڈیا پر اس چیز کو پھیلانے اور معاملہ بڑھانے پر شائقین کرکٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سرفراز نے یہ بات اپنے آپ سے کہی تھی لیکن ہم نے سرفراز کی غلطی کو پوری دنیا میں خود اجاگر کیا اور سوشل میڈیا پر بار بار سرفراز کے جملے دہرائے گئے۔ اب اس پر 4 میچز کی پابندی لگ گئی ہے تو سب خوش ہیں۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ڈریسنگ روم میں کپتان اور کوچ کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی پر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ خراب کارکردگی پر کپتان اور کوچ ٹیم کو لوری تو نہیں سنائیں گے۔ وسیم اکرم نے کہا کہ ٹیم کی خراب کارکردگی پر غصہ آتا ہے لیکن ڈریسنگ روم کی باتیں باہر نہیں آنی چاہئیں۔ قومی ٹیم کے کپتان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ ہمیں شارٹ ٹرم نہیں لانگ ٹرم کپتان چاہیے، شعیب ملک ورلڈ کپ کے بعد نہیں رہیں گے لہٰذا سرفراز کو ہی کپتان رہنا چاہیے کیونکہ ورلڈ کپ سر پر ہے البتہ پی سی بی کو قومی ٹیم کا نائب کپتان مقرر کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو چاہیے کہ سرفراز کا نائب مقرر کریں کیونکہ نائب کپتان مستقبل کا کپتان ہوتا ہے اور کپتان کے میدان سے باہر جانے کی صورت میں نائب کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور وقت پڑنے پر ہمارے پاس کپتان پہلے سے موجود ہوتا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو جنوبی افریقہ کے دورے میں پے در پے شکستوں نے جھنجلاہٹ کا شکار کردیا اور دوسرے ون ڈے میچ کے دوران مخالف ٹیم کے کھلاڑی پر نسل پرستانہ جملے ادا کرتے ہوئے پایا گیا، تاہم ٹیم انتظامیہ کے بعدان کی اہلیہ بھی کپتان کے حق میں میدان میں آگئی ہیں۔ سرفراز احمد کی اہلیہ خوش بخت سرفراز نے سوشل میڈیا میں ٹویٹر کے ذریعے اپنے خاوند کا دفاع کیا جہاں انہوں نے نہ صرف خود ٹویٹ کیے بلکہ دوسرے صارفین کے ان ٹویٹس کو بھی ری ٹویٹ کیا جو سرفراز کے حق میں تھے۔ خوش بخت نے میچ سے قبل سرفراز اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑی ایندائل فلکوایو کے درمیان ہونے والی ملاقات کے حوالے سے سرفراز کی ٹویٹ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کھلاڑی سے مل کر معذرت کرلی ہے، کے جواب میں لکھا میرا ہیرو۔ سرفراز کی اہلیہ نے اس کے بعد ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں سرفراز اور بیٹے عبداللہ بچوں کے ساتھ دوڑ رہے ہیں۔ خوش بخت نے ویڈیو سے سرفراز کا دفاع کرتے ہوئے تحریر کیا کہ یہ نیلسن مینڈیلا اسکوائر ہے جہاں عبداللہ اور ان کے ابا مقامی بچوں کے ساتھ دوڑ رہے ہیں، یہ ان کا اصل روپ ہے، سنجیدہ اور عاجز۔
پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی نے نسل پرستانہ جملوں پر قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو دی گئی سزا پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے سخت فیصلہ قرار دیا ہے۔احسان مانی نے کہا کہ سرفراز کی جانب سے باقاعدہ معافی مانگنے اور جنوبی افریقی ٹیم اور متعلقہ کھلاڑی کی جانب سے اسے قبول کرنے کے بعد سرفراز پر پابندی کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔
کرکٹ ویب سائٹ سے گفتگو میں پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ قومی ٹیم کے کپتان نے عوامی سطح پر معافی مانگی، پھر بورڈ اور منیجر کی سطح پر معافی مانگی گئی اور سرفراز نے ذاتی حیثیت میں بھی کھلاڑی سے معافی مانگی کی۔’سرفراز پر آئی سی سی کی سزا سے ثابت ہوا کہ بیورو کریسی نے عقل و فہم کو مات دے دی، یہ ایک سخت فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اعتراض یہ ہے کہ جب معافی مانگ لی گئی اور اسے تسلیم بھی کر لی گئی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سرفراز پابندی کے مستحق تھے۔