February 11, 2019
گرین شرٹس کے لیے میدان سے اچھی خبریں کب آئیں گی؟

گرین شرٹس کے لیے میدان سے اچھی خبریں کب آئیں گی؟

ویسٹ انڈین خواتین بھی پاکستانی کھلاڑیوں کو مات دے گئیں

کرکٹ کے میدان سے پاکستان کے لئے ان دنوں کچھ اچھی خبریں نہیں آ رہیں، جنوبی افریقہ نے بولنگ کے بعد بیٹنگ میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز کے آخری اور فیصلہ کن میچ میں پاکستان کو بہ آسانی 7 وکٹوں سے شکست دے کر ایک روزہ سیریز 2-3 سے جیت لی۔ کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے سیریز کے آخری ایک روزہ میچ میں میزبان جنوبی افریقہ کے کپتان فاف ڈیوپلیسی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ اوپنر امام الحق فیصلہ کن میچ میں ناکام رہے اور شروع میں آؤٹ ہوئے جس کے بعد بابراعظم 24 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تاہم اس دوران انہوں نے فخر زمان کے ساتھ اسکور کو 64 رنز تک پہنچایا۔ فخر زمان نے ذمہ دارانہ انداز اپناتے ہوئے ایک اچھی اننگز کھیلی اور ٹیم کے اسکور کو آگے بڑھایا جس کے لیے محمد حفیظ نے 17 رنز بنا کر ان کا ساتھ دیا جس کے بعد وہ خود 10 چوکوں کی مدد سے 70 رنز بنا کر فیلکوایو کا نشانہ بنے۔ سرفراز کی عدم موجودگی میں وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری نبھانے والے محمد رضوان موقع سے فائدہ اٹھا نہ سکے اور نہ ہی فخر زمان کی جانب سے ترتیب دیئے گئے معقول رن ریٹ کو برقرار رکھ سکے۔ رضوان، پریٹوریس کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ ہوئے اس وقت پاکستان کا اسکور 5 وکٹوں پر 147رنز تھا۔ قائم مقام کپتان شیعب ملک نے 31 اور شاداب خان نے 19رنز بنائے جبکہ عماد وسیم نے اختتامی لمحات میں 4 چوکوں اور 2چھکوں کی مدد سے جارحانہ 47 رنز بنائے جس کی بدولت پاکستان نے مقررہ اوورز میں 240 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا۔ عماد وسیم کے ساتھ محمد عامر 6 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور یوں پاکستان نے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں پر 240 رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کے پریٹوریس اور فیلکوایو نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔ ہاشم آملا اور کوئنٹن ڈی کوک نے ہدف کے تعاقب میں پہلی وکٹ میں 39 رنز بنائے، شاہین شاہ آفریدی نے ہاشم آملا کو آؤٹ کرکے پاکستان کو اہم کامیابی دلائی تاہم ہینڈرکس نے ڈی کوک کا بھرپور ساتھ دیا۔ پاکستانی بولرز کی کوششوں پر پانی پھیرتے ہوئے جنوبی افریقہ کے بلے بازوں نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 61 رنز بنائے تاہم ہینڈرکس 34 رنز بنا کر پویلین لوٹے جس کے بعد کپتان فاف ڈیوپلیسی اور ڈی کوک نے 46 رنز کا اضافہ کیا۔ ڈی کوک نے بہترین بلےبازی کا مظاہرہ کیا اور 83 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کپتان فاف ڈیوپلیسی اور وینڈردوسن نے ناقابل شکست نصف سنچریاں بنائیں اور میچ کے 40ویں اوور میں ٹیم کو کامیابی دلوائی۔ جنوبی افریقہ نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 241 رنز بنا کر میچ میں کامیابی حاصل کرکے سیریز بھی اپنے نام کرلی۔ کوئنٹن ڈی کوک کو میچ اور امام الحق کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ واضح رہے کہ پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز 2-2 سے برابر تھی، پہلے میچ میں پاکستان نے جبکہ دوسرے اور تیسرے میچ میں جنوبی افریقہ نے کامیابی حاصل کی تھی، چوتھے میچ میں قومی کرکٹ ٹیم نے فتح حاصل کر کے سیریز برابر کردی تھی، پاکستانی بولرز نے انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقی ٹیم کو محض 164 پر آؤٹ کردیا تھا۔ یاد رہے کہ جنوبی افریقہ نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کرتے ہوئے سیریز 0-3 سے اپنے نام کی تھی۔
ان سطور کے لکھے جانے تک اگرچہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا مکمل نتیجہ بھی سامنے آچکا ہوگا تاہم جنوبی افریقہ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کو 6 رنز سے شکست دے کر اس کی مسلسل فتوحات کا سلسلہ توڑ دیا تھا۔ نیولینڈز میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان کے کپتان شعیب ملک نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی جس کا میزبان ٹیم نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ 26 رنز پر پہلی وکٹ گرنے کے بعد جنوبی افریقی کپتان فاف ڈیوپلیسی اوپننگ بلے باز ریزا ہینڈرکس کے ساتھ پاکستانی بلے بازوں پر قہر بن کر برسے اور 131 رنز کی شراکت قائم کی۔ فاف ڈیوپلیسی 78 اور ریزا ہینڈرکس 74 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستانی بولرز نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کے 200 رنز کرنے کے خواب کو چکنا چور کردیا۔ جنوبی افریقہ نے ابتدائی 15اوورز میں ایک کھلاڑی کے نقصان پر 157 رنز اسکور کر لیے تھے، تاہم مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 192 رنز اسکور بنا سکی۔ پاکستان کی جانب سے عثمان شنواری نے 3 جبکہ حسن علی، فہیم اشرف اور عماد وسیم نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو پہلا نقصان پہلے ہی اوور میں 4 کے مجموعی اسکور پر فخر زمان کی وکٹ کی صورت میں اٹھانا پڑا، تاہم بابر اعظم اور حسین طلعت نے ٹیم کو 81 رنز کی پارٹنر شپ فراہم کی۔ حسین طلعت 40 رنز بنا کر 85 کے مجموعے جبکہ بابر اعظم 38 رنز بنا کر 93 رنز پر آؤٹ ہوگئے تو ایسے میں کپتان شعیب ملک نے وکٹ کی ایک جانب ڈٹ کر جنوبی افریقی بلے بازوں کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔ وکٹ کی دوسری جانب وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں، تاہم شعیب ملک شاندار انداز میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ کو آخر اوور تک لے گئے۔ آخری 4 گیندوں میں 14رنز درکار تھے کہ شعیب ملک کی اننگز کا خاتمہ ہوگیا، جس کے بعد شاداب خان نے مزاحمت کی اور ٹیم کی شکست کے مارجن کو 6 رنز تک محدود کردیا۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے کرس مورس، بیورن ہینڈرکس اور تبریز شمسی نے 2،2 جبکہ اینڈائل فیلکوائیو نے ایک وکٹ حاصل کی۔ اس میچ میں جنوبی افریقہ کے ڈیوڈ ملر کو بہترین فیلڈنگ کی بنیاد پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس شکست کے ساتھ ہی نہ صرف پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی میں مسلسل فتوحات بلکہ مسلسل اہداف حاصل کرنے کے سلسلے کو بھی توڑ دیا۔ قبل ازیں ٹاس کے موقع پر پاکستانی کپتان کا کہنا تھا کہ ہم اپنا بہترین کھیل پیش کرکے میچ میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ کپتان نے بتایا کہ تجربہ کار آل راؤنڈر محمد حفیظ انجری کی وجہ سے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں شرکت نہیں کر سکے جبکہ حسین طلعت، حسن علی اور آصف علی کی ٹیم واپسی ہوئی۔ اس موقع پر جنوبی افریقہ کپتان فاف ڈیوپلیسی کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹیم کے کچھ اہم کھلاڑیوں کو پہلے میچ میں آرام دیا۔
اب کچھ ذکر ہو جائے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا، ویسٹ انڈیز کی خواتین کرکٹ ٹیم نے 3 میچز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کو 71 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 سے برتری حاصل کرلی۔ ویسٹ انڈیز کی خواتین کرکٹ ٹیم نے پاکستانی ٹیم کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ٹاس چیت کا بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 20 اوورز میں 2کھلاڑیوں کے نقصان پر 160 رنز بنائے۔ دیاندرا ڈوین نے پاکستانی بولرز کے خلاف جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے 4 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 60 گیندوں پر 90 رنز بنائے۔
ان کے علاوہ چیدین نیشنل نے 35 گیندوں پر 50رنز اسکور کیے۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے 161 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کی جانب سے اچھا کھیل پیش نہ کیا جاسکا اور پوری ٹیم 89 رنز بنا کر آوٹ ہوگئی۔ پاکستان کی جانب سے بسمہ معروف نے 38جبکہ جوریہ خان نے 19 رنز اسکور کیے جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں کوئی بھی ڈبل کے فیگر میں نہ جاسکا۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے ایس ایس کونیل نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ خواتین ٹمیوں کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ ساؤتھ اینڈ کلب گراؤنڈ میں کھیلا گیا، جہاں گرین شرٹس اپنا 100واں بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل رہی تھیں۔ واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز ویمنز ٹیموں کے درمیان تین میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز 31 ؍جنوری سے ہوا جبکہ دوسرا ٹی ٹوئنٹی یکم فروری اور تیسرا 3 فروری کو کھیلا گیا۔ یہ تینوں میچز 31؍ جنوری، یکم اور 3 ؍فروری کو ساؤتھ اینڈ کلب میں کھیلے گئے جس کے بعد دونوں ٹیمیں دبئی میں 7، 9 ؍اور 11؍ فروی کو ایک روزہ میچز کھیلیں گی۔ اس سے قبل مارچ/ اپریل 2014ء میں ویسٹ انڈیز ویمن ٹیم نے پاکستان کے ساتھ ٹیسٹ سیریز اور 7 ایک روزہ میچز کی سیریز کھیلی تھی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز تو برابر رہی تھی تاہم ون ڈے سیریز میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 2-5 سے شکست دی تھی۔
ویسٹ انڈین ویمنز ٹیم نے پاکستان ویمنز ٹیم کو دوسرے ٹی20 میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد میچ ٹائی ہونے پر سپر اوور میں شکست دے دی۔ کراچی میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان کی کپتان بسمہ معروف نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے بلے بازوں کی بہتر کارکردگی کی بدولت مقررہ اوور میں 4 وکٹوں پر 132 رنز کا مجموعہ اسکور بورڈ کی زینت بنایا۔ کپتان بسمہ 31رنز بنا کر سب سے کامیاب بلے باز رہیں جبکہ جویریہ خان نے26، نڈا ڈار نے 25 اور عالیہ ریاض نے 23 رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب میں ابتدائی بلے بازوں کی عمدہ بیٹنگ کے باوجود ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی 132رنز ہی بنا سکی۔ ایک موقع پر ویسٹ انڈیز نے دو وکٹوں کے نقصان پر 97 رنز بنائے تھے اور انہیں فتح کے لیے 27 گیندوں پر 36 رنز درکار تھے لیکن اختتامی اوورز میں پاکستانی بولرز کی عمدہ بولنگ کے سبب وہ محض میچ ٹائی کر سکیں۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے شمین کیمبل 41، کیسیا نائٹ 32 اور دیندرا ڈوٹن 22 رنز بنا کر نمایاں رہیں۔ مقابلہ برابر رہنے پر فیصلہ سپر اوور میں کرنے کا فیصلہ ہوا لیکن اس میں ڈوٹن نے تجربہ کار ثنا میر کے خلاف جارحانہ انداز اپنا کر میچ میں اپنی ٹیم کی فتح یقینی بنا دی۔ انہوں نے 2چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 18 رنز بنائے اور پاکستان کو فتح کے لیے 19رنز کا ہدف ملا۔ جواب میں پاکستان ابتدائی تین گیندوں پر ہی عالیہ ریاض اور ندا ڈار کی وکٹیں گنوا بیٹھا اور ویسٹ انڈیز نے میچ میں 17 رنز سے کامیابی حاصل کر کے سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی۔