February 11, 2019
مرزا پور ری ویو

مرزا پور ری ویو

جیسے جیسے دنیا مزید ڈیجیٹل ہوتی جارہی ہے، ویسے ویسے ابلاغ کے ذرائع بھی تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ ایک زمانے میں سلور اسکرین کو ہی فنکاروں کی جنت سمجھا جاتا تھا۔ تاہم یہ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ڈیجیٹل میڈیم اس قدر طاقتور ہوجائے گا کہ یہ سینما گھروں کو فلمی بساط پر شہ دے گا۔ آج کل آن لائن پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے اکثر فلم ساز اپنی فلمیں پہلے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر آن لائن ریلیز کر رہے ہیں اور اس کے بعد اس فلم کو سینما اسکرینز پر ریلیز کیا جاتا ہے۔ امریکا سمیت دیگر ممالک میں قسط وار سیریز کی مقبولیت کے بعد اب بولی وڈ میں بھی سلسلے وار آن لائن فلم سیریز کا دور شروع ہوچکا ہے۔ اس نئی بنیاد میں سب سے پہلی دو بڑی سیریز’’سیکریڈ گیمز‘‘ اور ’’مرزا پور‘‘ ریلیز بھی ہوچکی ہیں اور بڑی سطح پر مقبول بھی ہو رہی ہیں۔ ان دونوں فلم سیریز کی خاص بات یہ ہے کہ دونوں کے پہلے سیزن کی تمام اقساط کو ایک ساتھ ریلیز کیا گیا۔ آج ہم اپنے قارئین کو ’’مرزا پور‘‘ اور سیکریڈ گیمز‘‘ کا موازنہ کرتے ہوئے تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔
’’سیکریڈ گیمز‘‘ یعنی ’’مقدس کھیل‘‘ نامی فلم سیریز اسی نام سے 2006ء میں شائع ہونے والے ناول سے ماخوذ ہے، جسے بھارتی مصنف ویکرم چندرا نے لکھا تھا۔ اس سیریز میں دو مرکزی کردار ’’انسپکٹر سرتاج سنگھ‘‘(سیف علی خان) اور گینگسٹر ’’گنیش گائے تونڈے‘‘ (نوازالدین صدیقی)کی کہانی چل رہی ہے۔ یہ دونوں کہانیاں دو ہدایتکاروں نے الگ الگ شوٹ کی ہیں۔ انوراگ کشپ نے ’’گنیش گائے تونڈے‘‘ کی کہانی کو فلمایا ہے، جبکہ ویکرام دیتاموٹوانی نے ’’انسپکٹر سرتاج‘‘ کی کہانی کو فلمایا ہے۔ ’’سیکریڈ گیمز‘‘ کے پہلے سیزن میں اب تک دونوں مرکزی کرداروں کی آمنے سامنے صرف ایک سین میں ملاقات ہوئی ہے جس میں ’’گائے تونڈے‘‘ خودکشی کرلیتا ہے اور ’’سرتاج‘‘ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ فلم کی کہانی مختصر یہ ہے کہ ممبئی شہر کے سر پر کوئی بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ’’سرتاج‘‘ کوشش کر رہا ہے۔ سیریز کی کہانی چونکہ زیادہ تر ماضی سے جڑی ہے، اس لیے شروع سے آخر تک پورا سیزن تجسس میں ہی گزرا۔
دوسری جانب سیریز ’’مرزا پور‘‘ کی کہانی دو لکھاریوں کرن انشومن اور پونیت کرشنا کی تخلیق ہے، جبکہ اس کی ہدایات کرن انشومن اور گرمیت سنگھ نے دی ہیں۔ اس سیریز کی کہانی میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے علاقے پروانچل میں گینگسٹرز کے درمیان لڑائی اور مرزا پور شہر کی کہانی پیش کی گئی ہے۔ ’’مرزاپور‘‘ کے پہلے سیزن میں مرکزی کردار ’’اکھنڈ ترپاٹھی‘‘ (پنکج ترپاٹھی) کا ہے جو ’’قالین بھئیا‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ ان کا بیٹا ’’منا بھئیا‘‘ (دیویندو شرما)، دوسری بیوی بینا (راسیکا دگل) اور باپ ستیانند (کلبھوشن خربندا) ایک خاندان ہے۔ ’’مرزا پور‘‘ میں دوسرا خاندان ایک ایماندار وکیل ’’رما کانت پنڈت‘‘ (راجیش تلیلگا) کا ہے جن کے بیٹے ’’گڈو‘‘(علی فضل) اور ’’ببلو‘‘(ویکرانت) ’’قالین بھئیا‘‘ کے گینگ میں شامل ہوجاتے ہیں۔
’’سیکریڈ گیمز‘‘ اور ’’مرزا پور‘‘ دونوں ہی کہانیاں بہت سارے ایکشن اور سنسنی سے بھرپور ہیں، لیکن اگر ان دونوں کا موازنہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کہانی کی بنت کے اعتبار سے فی الحال ’’مرزا پور‘‘ بہت آگے ہے۔ ’’مرزا پور‘‘ کی کہانی پہلے سین سے ہی اوپر دکھائی دیتی ہے جب ’’منا‘‘ اپنے باپ کے نام کی تختی پر لات مارتا ہے اور تھوڑی ہی دیر بعد ایک شادی میں رقص کرتے ہوئے وہ دولہا کو مار دیتا ہے۔ ’’منا‘‘ کی اپنے باپ ’’قالین بھئیا‘‘ کو مارنے کی کوشش، دوست کو اپنے ہاتھوں قتل کرنے، پھر ’’گڈو‘‘ اور’’ببلو‘‘ سے لڑائی کے ٹریک کے ساتھ ’’مرزاپور‘‘ کی کہانی میں سیاسی اور رومانوی پہلو بھی چلتا رہا۔ ’’گڈو‘‘ کی محبت ’’سوئٹی‘‘ (شریا پلگونکر) اور ’’ببلو‘‘ کی محبت ’’گولو‘‘(شویتا ترپاٹھی) کو آپس میں بہن بنا کر کہانی کو مزید مضبوط کیا گیا۔ پھر ’’مرزا پور‘‘ کے ہر موڑ پر سنسنی اور اس کے بعد دلچپسی کا عنصر برقرار رکھا گیا ہے۔
تاہم ’’سیکریڈ گیمز‘‘ کی کہانی میں جو تجسس پہلے منظر سے شروع ہوا وہ ایسا تھا کہ سیزن کے اختتام تک تجسس کا جواب دیکھنے والوں کو نہیں مل سکا۔ کہانی کے مرکزی کردار ’’گنیش گائے تونڈے‘‘ کو ابتداء میں ہی مار دیا گیا اور پھر اس کی کہانی ماضی میں دکھائی جاتی رہی اور اگلے سیزنز میں بھی ایسے ہی دیکھائے جانے کی امید ہے۔ دوسری جانب سیریز میں کوئی رومانوی پہلو نہیں ہے جس کی وجہ سے مسلسل ہی ’’سیکریڈ گیمز‘‘ خشککہانی کا تاثر دیتی ہے۔
اداکاری اور فلمسازی کی بنیاد پر دیکھا جائے تو ’’سیکریڈ گیمز‘‘ اور ’’مرزا پور‘‘ دونوں ہی منجھے ہوئے اداکار ہیں، جنہوں نے اپنی پرفارمنس سے خوب داد حاصل کی ہے۔ نواز الدین صدیقی کے کردار کو دیکھ کر ان کی فلم ’’گینگز آف واسے پور‘‘ کی یاد آگئی، جس کی ہدایات بھی انوراگ کشپ نے ہی دی تھیں، جبکہ اس فلم کے بعد ہی نواز کی قسمت کا ستارہ چمکا تھا۔ ’’قالین بھئیا‘‘ کے کردار میں پنکج ترپاٹھی نے دیکھنے والوں کو اس کردار کا فین بنا دیا ہے۔ ’’مرزا پور‘‘ کے اختتام تک پنکج ترپاٹھی کو سمجھدار اور سوچ سمجھ کر فیصلہ لینے والا گینگسٹر دیکھایا گیا لیکن سیزن کے اختتام پر پنکج کے آخری ڈائیلاگ میں جان دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ’’مرزا پور‘‘ کا اگلا سیزن ایک نیا ’’قالین بھئیا‘‘ دکھائے گا۔