February 11, 2019
سوارا بھاسکر اسکینڈل

سوارا بھاسکر اسکینڈل

مختلف فلموں میں اپنی اداکاری سے خود کو منوانے والی 30سالہ بھارتی اداکارہ سوارا بھاسکر نے اپنی ’’می ٹو‘‘ کہانی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھی بولی وڈ میں ہراساں کیا جاچکا ہے۔ سوارا نے کسی ہدایتکار کا نام نہیں لیا لیکن انہوں نے کہا کہ چونکہ فلم ہدایت کار نے انہیں چھوا تک نہیں تھا، اس لیے انہیں یہ سمجھنے میں وقت لگا کہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ سوارا بھاسکر نے یہ بھی کہا کہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں اور نہ ہی انہیں تربیت دی جاتی ہے کہ کون سے نامناسب عمل اور رویے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے زمرے میں آتے ہیں، اس لیے کچھ خواتین کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ انہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ سوارا بھاسکر کا کہنا تھا کہ جس وقت انہیں فلمی ہدایت کار نے جنسی طور پر ہراساں کیا، اس وقت وہ ان کے نامناسب رویے پر خود کو یہ کہہ کر مطمئن کرتی رہیں کہ وہ ہدایت کار ہیں، اس لیے ایسا کر رہے ہیں۔ سوارا بھاسکر نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو افراد کے رویوں اور انداز کو سمجھانے کی ضرورت ہے، جب تک وہ کسی کے رویے اور پیش آنے کے طرز عمل کو نہیں سمجھیں گی، تب تک وہ ٹھیک طرح جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے بھی معلومات حاصل نہیں کر سکیں گی۔
بھارت میں عام انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں اور سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کے لیے اس بار بولی وڈ کا بھی سہارا لیا ہے۔ نئی آنے والی فلم ’’دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر‘‘ کے حوالے سے تنازع شروع ہوگیا ہے جس میں بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی کہانی کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ فلم سنجے بارو کی کتاب پر مبنی ہے۔ جنہوں نے 2004ء سے 2008ء تک منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ منموہن سنگھ بھارت کے سب سے طویل عرصہ تک رہنے والے وزیراعظم ہیں، جن کو ملک کی معاشی اصلاحات کا معمار بھی کہا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ملک میں ہونے والے عام انتخابات سے کچھ ماہ قبل ریلیز ہونے والی ان کی زندگی پر مبنی فلم ’’دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر‘‘ میں دراصل ان کا مذاق اڑایا گیا۔ فلم میں منموہن سنگھ کو ان کے انتہائی آراستہ دفتر میں بیٹھا دکھایا گیا ہے جہاں وہ سونیا گاندھی اور اس وقت کے کانگرس پارٹی کے صدر سے احکامات لینے کے بعد چکرائے ہوئے سے دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین نے اس فلم کو پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم میں منموہن سنگھ کو ایک کمزور وزیراعظم کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ تمام اختیارات سونیا گاندھی اور ان کے خاندان کے پاس ہیں۔ فلم میں منموہن سنگھ کا کردار ادا کرنے والے بولی وڈ اداکار انوپم کھیر کے مطابق اس فلم کے ذریعے ایک ایسے سیاست دان کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے جن کو غلط بلکہ مشکل سے ہی کبھی سمجھا گیا۔ تاہم کچھ ناقدین کے مطابق منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزر سنجے بارو کی یاداشت پر مبنی اس فلم میں بھارتی وزیر اعظم کے کردار کے ساتھ انصاف کیا گیا ہے۔ سنجے بارو نے اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کے بعد کتاب لکھی، جس میں انہوں نے منموہن سنگھ اور ان کے دور حکومت کے بارے میں کئی انکشافات کیے۔ ’’دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر‘‘ میں اکشے کھنہ سابق وزیر اعظم کے میڈیا ایڈوائزر کے کردار جبکہ جرمن نژاد اداکارہ سجین برنیٹ سونیا گاندھی کے کردار میں نظر آتی ہیں۔ منموہن سنگھ جن کی عمر اب 86برس ہے۔ 2004ء سے 2014ء تک انڈیا کے وزیر اعظم رہے لیکن اپنے دور حکومت میں انہوں نے صرف چند مرتبہ ہی انٹرویو دیے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ منموہن سنگھ کو ایک کمزور وزیراعظم بنانے میں ان کی اپنی جماعت کا ہاتھ تھا۔ کچھ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلم میں آرٹ نام کی کوئی چیز نہیں، جبکہ کچھ کے مطابق فلم میں منموہن سنگھ کی بحیثیت وزیراعظم کامیابیوں کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ کچھ سکھ رہنماؤں کے مطابق سکھ کمیونٹی کو منموہن سنگھ کے وزیراعظم ہونے پر فخر تھا لیکن فلم میں ان کے کردار کو توڑمروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ’’بی جے پی‘‘ کے رہنما آر پی سنگھ کا کہنا کہ منموہن سنگھ نے اپنے دور حکومت میں سکھ کمیونٹی کیلئے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے۔