February 11, 2019
بولی وڈ کی حسین ترین ساحرہ مدھو بالا کی سرگزشت - قسط  :    8

بولی وڈ کی حسین ترین ساحرہ مدھو بالا کی سرگزشت - قسط : 8

دھمکیاں ملنے کی وجہ سے صوبائی حکومت نے اسے ریوالور کا لائسنس اورگارڈ دیا

صحافیوں نے مدھوبالا کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ یہاں تک کہا گیا کہ اسے بدصورت یا معذور بنا دیا جائے گا۔ اس کے والد عطاء اللہ خان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ تمام فلمی اخبارات و رسائل نے مدھوبالا کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس کی کوئی تصویر اور اس کے بارے میں کوئی خبر شائع نہیں کی جاتی تھی۔ بعض مقامات پر صحافتی تنظیموں نے باقاعدہ پوسٹر چسپاں کیے جن پر درج تھا ’’مدھوبالا سے ہماری کھلی جنگ ہے۔‘‘
مدھوبالا کی فلم ’’پردیس‘‘ جس کے ہدایتکار ایم صادق تھے، اس کی نمائش رُکوانے کی کوشش بھی کی گئی۔ حتیٰ کہ وہ فلاحی اداروں کو جو عطیات وغیرہ دیتی تھی اور فنڈ ریزنگ میں ان کی تھوڑی بہت مدد کرتی تھی۔ اس کے ان کاموں کو نمود و نمائش کا ذریعہ قرار دے دیا گیا اور ان کے پیچھے ’’مذموم مقاصد‘‘ بھی تلاش کر لیے گئے۔
مدھوبالا کے خلاف فلمی اخبارات و جرائد نے ایک ’’آل انڈیا ایکشن کمیٹی‘‘ بھی بنا ڈالی۔ صرف ایک جریدہ ’’فلم انڈیا‘‘ اس میں شامل نہیں ہوا۔ ’’فلم فیئر‘‘ کی اشاعت اس وقت تک شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔ اس کا پہلا شمارہ 1952ء میں منظر عام پر آیا۔ فلمی صحافی اور ’’فلم انڈیا‘‘ کے ایڈیٹر بابو رائو پٹیل نے اپنے اداریئے میں لکھا ’’مدھوبالا اور اس کے والد کے خلاف جو سفاکانہ جنگ چل رہی ہے، اس نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا ہر فلمی صحافی کو شوٹنگ کے دوران کسی بھی فلم کے سیٹ پر جانے کا حق حاصل ہے؟ اس کا جواب ہے ’’نہیں۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ شوٹنگ کے دوران کسی بھی شخص کو سیٹ پر جانے کی اجازت نہیں ہوتی، جب تک کہ پروڈیوسر اسے مدعو نہ کرے، اور پروڈیوسر کی دعوت میں بھی ڈائریکٹر اور ان تمام اداکاروں کی رضامندی شامل ہونی چاہیے جو اس شوٹنگ میں حصہ لے رہے ہوں۔ ہولی وڈ میں یہی اُصول کارفرما ہے۔ وہاں شوٹنگ کے دوران سیٹ کے باہر مسلح گارڈز تعینات ہوتے ہیں جو کسی غیر متعلقہ شخص کو اندر نہیں جانے دیتے۔ یہ رواج صرف انڈیا میں ہے کہ فلمی صحافی اور شوٹنگ دیکھنے کے بعض شائقین کوئی واقفیت نکال کر سیٹ پر یا لوکیشن پر پہنچ جاتے ہیں۔‘‘
مدھوبالا کو مسلسل جو دھمکیاں مل رہی تھیں، ان کی وجہ سے وہ اس قدر خوفزدہ اور اعصابی تنائو کا شکار ہوئی کہ صوبائی حکومت نے خود اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے اسے ریوالور کا لائسنس جاری کیا اور ممبئی کے اس وقت کے وزیر داخلہ مرار جی ڈیسائی نے سرکاری طور پر اسے ایک مسلح گارڈ دے دیا جو اسٹوڈیو آتے جاتے وقت اس کے ساتھ رہتا۔ اس کے علاوہ مدھوبالا خود اپنے پاس بھی لائسنس یافتہ ریوالور رکھنے لگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فلمی صحافیوں کے بائیکاٹ سے مدھوبالا کی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس کی فلمیں پہلے ہی کی طرح رش لیتی رہیں۔ اس کے مداحوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اس کے پرستار اور چاہنے والے اس کی حمایت اور محبت میں دھڑا دھڑ خط لکھتے رہے۔ آخر کار تقریباً ایک سال بعد کچھ ڈائریکٹرز نے بیچ میں پڑ کر مدھوبالا کو سمجھایا بجھایا اور کچھ ایڈیٹروں نے اپنے ساتھی صحافیوں کو سمجھایا۔ دونوں فریق کچھ نرم پڑے۔ پہلے جنگ کے لیے ایک ایکشن کمیٹی بنی تھی، اب صلح صفائی کے لیے ایک ایکشن کمیٹی بنی۔
ایک رسالے ’’باکس آفس‘‘ نے مدھوبالا سے معذرت شائع کرنے میں پہل کی اور تسلیم کیا کہ صحافیوں نے کچھ زیادہ ہی شدید ردّعمل کا مظاہرہ کیا تھا۔ ایکشن کمیٹی مدھوبالا کے گھر گئی جہاں عطاء اللہ خان نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا۔ سب ان سے گلے مل لیے۔ گلے شکوے دُور ہوگئے۔ دونوں فریقوں نے ایک دُوسرے کا بائیکاٹ ختم کر دیا۔ یوں فلم انڈسٹری، فلمی صحافیوں اور مدھوبالا کے درمیان کشیدگی کے ایک دور کا خاتمہ ہوا۔
’’مووی ٹائمز‘‘ کے ایڈیٹر کرن جیا، جو فلمی صحافیوں اور مدھوبالا کے درمیان طویل جھگڑے کی سب سے بڑی وجہ بنے تھے، اس جھگڑے کے خاتمے کے بعد وہ مدھوبالا کے بہترین دوست بن گئے اور یہ دوستی مدھوبالا کی زندگی کے آخری دن تک قائم رہی۔ 1952ء میں کرن جیا کا رسالہ زوال کا شکار ہو کر بند ہونے کو تھا۔ مدھوبالا کو اس بات کا پتا چلا تو اس نے کرن جیا کو فون کیا اور کہا ’’رسالہ بند مت کرو۔ مالی بحران سے نکلنے کے لیے ایک فلم بنائو۔ میں اس میں بلامعاوضہ کام کروں گی۔‘‘
کرن جیا کو ان کے دوستوں نے یہ پیشکش قبول کرنے کا مشورہ دیا۔ مدھوبالا اس وقت بہت زیادہ معاوضہ لینے والی اداکارائوں میں شمار ہوتی تھی۔ اس کا ایک فلم کا معاوضہ اس زمانے میں دو لاکھ روپے تھا اور اس کے نام پر فلمیں بکتی تھیں۔ کرن جیا اگر اس کے نام کے ساتھ فلم کا اعلان کر دیتے تو سرمایہ فراہم کرنے کے لیے کوئی ڈسٹری بیوٹر یا فنانسر بھی میسر آسکتا تھا۔ تاہم کرن جیا یہ قدم اٹھانے کی ہمت نہ کر سکے لیکن مدھوبالا کی شخصیت کا یہ پہلو ان کے لیے ہمیشہ ناقابل فراموش رہا کہ اس نے ایک ایسے آدمی کو مدد کی پیشکش کی تھی جو اس کے اور صحافیوں کے درمیان ایک طویل جھگڑے کا باعث بنا تھا۔
مدھوبالا کی زندگی میں دوسرا بڑا تنازع 1956ء اور 1957ء کے درمیان سامنے آیا جس نے آدھی دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی۔ اس تنازعے نے مدھوبالا کو اس کی زندگی کے پہلے اور آخری عشق سے بھی محروم کردیا۔ اس کے عشق کی کہانی کی طرف بھی آدھی دنیا کی توجہ تھی کیونکہ یہ بھارتی فلم انڈسٹری کے سب سے خوبصورت اور مقبول ترین جوڑے کا عشق تھا۔ یہ عشق بھی اس نئے تنازعے کی بھینٹ چڑھ گیا۔ مدھوبالا اس سارے جھگڑے کے دوران خاموشی سے اپنے دل کی دنیا لٹنے کا تماشا دیکھتی رہی۔ اس جھگڑے میں ایک طرف اس کا باپ تھا اور دوسری طرف اس کا محبوب۔ وہ ان دونوں کے درمیان بے بسی سے کھڑی رہ گئی اور اس کا عشق اس سے رُوٹھ کر دور کہیں بیگانگی کی وادیوں میں کھو گیا۔
دلیپ کمار اور مدھوبالا کا عشق بلاشبہ افسانوی تھا۔ مدھو بالا کے والد عطا اللہ خان ان دونوں کو ایک دوسرے سے بدگمان اور جدا کرنے کی بہت سی کوششیں کرچکے تھے لیکن کامیاب نہیں ہوسکے تھے مگر پھر عشق کی اس کہانی میں ایک تیسرا کردار داخل ہوا اور سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔ دو چاہنے والوں کے درمیان ایسی خلیج حائل ہوئی جس نے انہیں ہمیشہ کے لیے جدا کردیا۔ اس تیسرے کردار کا نام بی آر چوپڑا تھا۔ یہ آنجہانی یش چوپڑا کے بڑے بھائی تھے۔
قصہ کچھ یوں تھا کہ بی آر چوپڑا نے ’’نیا دور‘‘ کے نام سے ایک فلم شروع کی۔ دلیپ کمار اس کے ہیرو اور مدھوبالا ہیروئن تھیں۔ دونوں نے قانونی تقاضوں کے مطابق باضابطہ کنٹریکٹ سائن کئے تھے۔ اس وقت تک دلیپ کمار اور مدھوبالا کے عشق میں دراڑ پیدا ہونی شروع ہو چکی تھیں کیونکہ دلیپ کمار اور مدھوبالا، دونوں ہی نہایت شدت سے ایک دوسرے کے ساتھ شادی کے خواہاں تھے لیکن بعض وجوہ کی بناء پر عطا اللہ خان اپنی بیٹی کو دلیپ کمار سے شادی کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔
دلیپ کمار چاہتے تھے کہ اگر عطا اللہ خان خواہ مخواہ سماج کی دیوار بن رہے ہیں اور انہیں بیٹی کی خوشیوں سے زیادہ اپنے ذاتی اور مالی مفادات عزیز ہیں تو مدھوبالا خود اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرے اور جس سے عشق کرتی ہے، اس سے شادی کرلے… لیکن مدھوبالا بظاہر خودمختار اور گھر کی واحد کفیل ہوتے ہوئے، اتنی جرأت کا مظاہرہ بھی نہ کرسکی۔ اس وجہ سے دلیپ کمار، مدھوبالا سے تھوڑے سے خفا تھے لیکن یہ خفگی ایسی نہیں تھی کہ زندگی بھر کا بیگانگی اور لاتعلقی کی وجہ بن جاتی۔ اگر معاملات صرف ان دونوں کی ذات تک محدود رہتے تو شاید آگے چل کر ان کے درمیان مفاہمت کا راستہ نکل آتا لیکن اس دوران ’’نیا دور‘‘ اور بی آر چوپڑا کی وجہ سے ایک ایسا سیلاب آیا جو ماضی کی محبت اور مستقبل کے امکانات کو بہا کر لے گیا۔
دلیپ کمار اس سے پہلے بھی اسی سے ملتے جلتے انداز میں اپنے ایک عشق میں ناکام ہو چکے تھے۔ وہ عشق انہیں کامنی کوشل سے ہوا تھا۔ کامنی کوشل ایک خوبصورت، تعلیم یافتہ لڑکی تھی۔ فلم انڈسٹری میں قدم رکھا تو ایک کامیاب ہیروئن بن گئی۔ مدھوبالا کے عشق میں گرفتار ہونے سے چند سال پہلے دلیپ کمار کامنی کوشل کی زلفوں کے اسیر تھے۔ اس عشق کے راستے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں تھی اور دونوں کی شادی ہونے والی تھی۔
اس شادی کے راستے میں جس طرح رکاوٹ آئی، دلیپ کمار کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ حالات ایسا رخ اختیار کریں گے۔ ہوا یہ کہ کامنی کوشل کی شادی شدہ اور بچوں والی بہن کا انتقال ہوگیا۔ خاندان کے بزرگوں نے طے کیا کہ اب چھوٹی بہن بڑی بہن کی جگہ لے گی، یعنی اس کی شادی بہنوئی سے ہوگی، وہ اپنی آنجہانی بہن کے بچوں کو ماں کا پیار دے سکے گی۔ دلیپ کمار کو اس بات سے شدید دھچکا لگا کہ کامنی کوشل نے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اورخودمختار لڑکی ہوتے ہوئے بھی تھوڑی بہت حیل حجت کے بعد خاندان کے اس فیصلے کے سامنے سر جھکا دیا۔
دلیپ کمار کے دل میں پہلے عشق کی ناکامی کا زخم مندمل ہواا ور انہوں نے مدھوبالا کی محبت کا سہارا پا کر اس عشق کو فراموش کیا تو تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دُہرانے لگی۔ کامنی کوشل خاندان اور اس کی روایات کے سامنے سر جھکا کر انہیں چھوڑ گئی تھی، مدھوبالا اپنے والد کے حکم کے سامنے سر جھکائے کھڑی تھی۔ دلیپ ان سے خفا تھے۔ اسی دوران یہ ’’نیا دور‘‘ والا قضیہ شروع ہو گیا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ ’’نیا دور‘‘ کی ہیروئن کے لیے مدھو بالا کا نام خود دلیپ کمار نے تجویز کیا تھا اور بی آر چوپڑا نے ان کے کہنے پر مدھوبالا کو سائن کیا تھا۔ فلم کی کچھ شوٹنگ ہو چکی تو آئوٹ ڈور شوٹنگ کا مرحلہ آگیا۔ حقیقت یہ تھی کہ اس فلم کی زیادہ تر شوٹنگ بھوپال کے قریب ایک دیہی علاقے میں ہونی تھی جو ممبئی سے کافی دور تھا جبکہ عطا اللہ خان مدھوبالا کو ممبئی سے زیادہ دور کہیں بھی آئوٹ ڈور شوٹنگ کے لیے جانے نہیں دیتے تھے۔ اس کے لیے زیادہ بڑا بہانا تو انہوں نے یہ بنایا ہوا تھا کہ مدھوبالا دل کی مریضہ ہے، اسے کسی ایسی جگہ پر نہیں بھیجا جاسکتا جہاں قریب ہی کوئی اچھا ہسپتال موجودنہ ہو۔
حقیقت یہ تھی کہ عطا اللہ خان خاص طور پر دلیپ کمار کے ساتھ مدھوبالا کو ممبئی سے دور کسی مقام پر شوٹنگ کے لیے ہرگز بھیجنا نہیں چاہتے تھے۔ سب لوگ اس حقیقت کو محسوس بھی کر رہے تھے۔ تاہم عطا اللہ خان کی اس دلیل میں بھی وزن تھا کہ بی آر چوپڑا نے شوٹنگ کے لیے جو علاقہ منتخب کر رکھا ہے، اس میں ایسی کیا خاص بات ہے؟ ممبئی کے گردونواح میں ایسے کئی علاقے موجود ہیں۔
بی آر چوپڑا شوٹنگ کے لیے لوکیشن بدلنے پر تیار نہیں تھے۔ ان کی اس دلیل میں بھی وزن تھا کہ اگر عطا اللہ کو شہر سے دور شوٹنگ پر اعتراض تھا تو وہ کنٹریکٹ سائن ہی نہ کرتے، انہیں شروع میں ہی بتا دیا گیا تھا کہ زیادہ تر شوٹنگ ممبئی سے باہر ہوگی، ویسے بھی قاعدہ یہی تھا کہ کنٹریکٹ سائن کرنے کے بعد تمام اداکاروں کو شوٹنگ کے لیے ڈائریکٹر جہاں کہتا تھا، انہیں وہاں جانا پڑتا تھا۔ (جاری ہے)