تازہ شمارہ
Title Image
February 18, 2019
نینا بتول ۔ آسان نہیں شہرت کا حصول

نینا بتول ۔ آسان نہیں شہرت کا حصول

برجِ حوت سے تعلق رکھنے والی، نینا بتول، ماڈلنگ، اداکاری اور میزبانی کی راہوں پر گامزن ایک نوآموز مسافر ہیں۔ انہیں اس راستے پر قدم رکھے ابھی بہت زیادہ عرصہ تو نہیں ہوا مگر دراز قد، تیکھے نقوش، بولتی آنکھوں اور تاثرات سے بھرپور چہرے والی نینا کے لیے، منزل کا حصول بہت دور نظر نہیں آرہا۔ وہ اپنی زیادہ توجہ صرف ماڈلنگ پر مرکوز کئے ہوئے ہیں، ایک دو ٹی وی سیریلز میں چھوٹے موٹے کرداروں کی ادائیگی کا تجربہ بھی کرچکی ہیں اور مختلف شوز کی میزبانی بھی اکثر کرتی رہتی ہیں، لیکن ایک نجی ٹی وی چینل کے لیے حال ہی میں انہوں نے ایک بڑی سیریل بھی ریکارڈ کروائی ہے، جس میں ان کے ساتھ آج کے مشہور فنکار بھی پرفارم کررہے ہیں۔ نینا نے کہا کہ ماڈلنگ دراصل ایکٹنگ کی بنیاد ہے، جو لوگ ماڈلنگ کے بعد اداکاری میں آتے ہیں وہ بہت کچھ سیکھ چکے ہوتے ہیں۔ نینا کے خیال میں ہمارے یہاں نہ تو کوئی اداکاری سکھاتا ہے اور نہ ہی ماڈلنگ، بڑے سے بڑا فنکار بس دیکھ دیکھ کراور اپنے شوق کی بنیاد پر کام سیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ میں بالکل نئی ہوں، مگر جب کچھ سال پہلے میں نے ماڈلنگ شروع کی تو مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ کرنا کیا ہے؟ بلکہ سچ بات تو یہ ہےکہ میں ارادتاً ماڈلنگ کی طرف آئی ہی نہیں تھی، مجھے جب پہلی مرتبہ ماڈلنگ کی آفر ہوئی تو میں نے صاف انکار کردیا تھا۔ میں سمجھتی تھی کہ یہ بہت مشکل کام ہے اور صرف دراز قد ہونا یا خوبصورت ہونا ہی اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ آپ کامیاب ماڈل بن سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں پاکستانی ڈرامے اور بھارتی فلمیں شوق سے ضرور دیکھتی تھی، مجھے میک اپ کرنے اور اچھی ڈریسنگ کرنے کا بھی شوق تھا، مگر میں نے خود کبھی یہ کام کرنے کا نہیں سوچا تھا۔ پہلی آفر کو مسترد کرنے کے بعد جب انہوں نے اپنی ایک سہیلی کو برسبیل تذکرہ بتایا کہ وہ ایسا کرچکی ہیں تو اس نے انہیں بہت سمجھایا اور مجبور کیا کہ اب اگر دوبارہ فون آئے تو انکار مت کرنا، ایسا ہی ہوا۔ دوبارہ فون آیا اور اس مرتبہ نینا نے کچھ تردد کے بعد آفر قبول کرلی۔ انہوں نے کہا کہ عام زندگی میں اگر کوئی مسلسل میری طرف دیکھے یا محفل میں سب کی توجہ مجھ پر ہوجائے تو میں خاصی نروس ہوجاتی ہوں، مگر حیرت انگیز طور پر جب پہلے فوٹو شوٹ کے لیے کیمرا آن ہوا تو میں بالکل بھی نروس نہیں تھی، بس وہیں سے مجھ میں اعتماد آیا اور پھر میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔  نینا بتول اب تک لا تعداد فیشن شوٹس کرواْچکی ہیں، کئی بڑے فیشن برانڈز کی شو اسٹاپر ماڈل رہ چکی ہیں، مختلف فیشن شوز میں سیکڑوں افراد کے بیچ میں ریمپ پر واک کرتے ہوئے اب انہیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی، بلکہ وہ سمجھتی ہیں کہ شاید قدرت نے انہیں اسی کام کے لیے بنایا ہے۔ دولت اور پذیرائی سے بھرپور فن کی دنیا میں کبھی کبھار نینا خود کو اس لیے بھی اجنبی تصور کرتی ہیں کیونکہ یہ سب چیزیں ان کی منزل کبھی بھی نہیں رہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ہر کام جتنا کمٹمنٹ مانگتا ہے، اتنی ہی کمٹمنٹ شوبزنس کا بھی تقاضا ہے۔ یہاں ٹاپ پر وہ پہنچتا ہے جو اپنی کسی بھی کامیابی کو اپنی منزل نہ سمجھ بیٹھے۔ نینا کے خیال میں شہرت کا حصول پیسہ کمانے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ جب نینا اپنے ساتھ کام کرنے والی ماڈلز کو راتوں رات شہرت کی بلندیاں چھولینے کے خواب میں کھوایا دیکھتی ہیں تو وہ دل ہی دل میں مسکرارہی ہوتی ہیں۔ اچھا کھانے، اچھا پہننے، گھومنے پھرنے اور ٹی وی دیکھنے کی شوقین نینا کے لیے مشرقی یا مغربی ملبوسات میں ماڈلنگ کرنا اب تقریباً ایک معمول بن چکا ہے اور وہ اپنی پسند و ناپسند سے بالاتر ہوکر، ہر پیراہن میں خود کو دلکش بنا کر پیش کرنے کا فن جان گئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب میں کسی برانڈ کی ماڈلنگ کررہی ہوتی ہوں تو میں نینا بتول نہیں ہوتی بلکہ ایک عام پاکستانی عورت ہوتی ہوں، جسے یہ ملبوسات خریدنا ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ پاکستان کی فیشن انڈسٹری ترقی کرے، یہاں نت نئے فیشن ڈیزائنرز آئیں، غیر ملکی منڈیوں میں پاکستان کے فیبرکس اور فیشن ملبوسات کی مانگ بڑھے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی فیشن انڈسٹری اپنے پیشہ ورانہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر اکٹھی ہوجائے اورسب مل کر ہماری ملکی فیشن صنعت کو اتنا مضبوط بنادیں کہ ہم کم از کم اپنے پڑوسی ملک بھارت کی فیشن انڈسٹری کو مات دے سکیں۔ نینا نے کہا کہ مجھے فلموں میں کام کرنے کی آفرز بھی آئی ہیں مگر میرے خیال میں جو سفر تیز رفتاری سے کیا جائے اس میں حادثے کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ سیڑھی بہ سیڑھی آگے بڑھوں گی، مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ کام کرنے والی ماڈلز کو بھی سمجھاتی ہوں کہ پیشہ ورانہ رقابت اگر مثبت انداز میں کی جائے تو یہ آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ مگر ایسا بھی نہیں ہونا چاہئے کہ کسی کے راستے میں ٹانگ اڑا کر اسے گرانے کی کوشش کی جائے اور پھر خود آگے نکلا جائے۔ یہ پروفیشنل جیلسی سے ایک درجے آگے کی چیز ہے جو حسد اور خود غرضی میں شمار ہوتی ہے اور ایسے لوگ وقتی کامیابیاں شاید حاصل بھی کرلیں، مگر زیادہ دیرپا کامیابی کا حصول ان کے لیے ناممکن ہوتا ہے۔ خوش لباس اور خوش گفتار نینا کے لیے راستے کی مشکلات، ایک سنگ میل ہیں اور انہیں پکا یقین ہے کہ خراماں خراماں ایک دن وہ اپنی منزل ضرور پالیں گی۔