تازہ شمارہ
Title Image
February 25, 2019
گوشت کی زیادتی سے صحت کو کیا نقصانات ہوسکتے ہیں؟

گوشت کی زیادتی سے صحت کو کیا نقصانات ہوسکتے ہیں؟

سب سے زیاد کھانے والے ممالک

پوری دنیا میں گزشتہ 50 سال کے دوران گوشت کا استعمال بہت تیزی سے بڑھا ہے۔ آج گوشت کی پیداوار 1960 کی دہائی کے شروع کے مقابلے میں تقریباً 5 گنا بڑھ چکی ہے۔ تب 7؍ کروڑ ٹن تھی جبکہ 2017 میں گوشت کی پیداوار 33 کروڑ ٹن سے بھی تجاوز کرگئی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہےکہ اب پہلے کے مقابلے میں کھانے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ 1960 کی دہائی کے اوائل میں دنیا کی آبادی تقریباً 3 ارب تھی اور آج 7 ارب 60 کروڑ افراد کرہ ارض پر موجود ہیں۔ ایک اور اہم وجہ بڑھتی ہوئی آمدنی ہے۔ بیشتر ملکوں میں لوگ اب زیادہ امیر ہوگئے ہیں اور اوسط عالمی آمدنی نصف صدی میں تین گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ جب ہم مختلف ملکوںمیں گوشت کے استعمال کا موازنہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ عموماً ہم جتنے زیادہ امیر ہوتے ہیں، اتنا ہی زیادہ گوشت کھاتے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے حالیہ دستیاب سال 2013 ہے جب سالانہ گوشت خوری کے میزانیئے میں امریکا اور آسٹریلیا سرفہرست تھے۔ نیوزی لینڈ اور ارجنٹائن کے ساتھ ان دونوں ممالک کے باشندے بھی سالانہ فی کس 100 کلوگرام سے زیادہ گوشت کھارہےتھے جو 50 چکن یا آدھے گائے کے برابر ہے۔ مغربی دنیا میں گوشت کا استعمال زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ مغربی یورپ کے بیشتر ممالک میں فی کس 80 سے 90 کلوگرام گوشت سالانہ کھایا جاتا ہے۔ تصویر کادوسرا رخ یہ ہےکہ دنیا کے بہت سے غریب ممالک میں بہت کم گوشت کھایا جاتا ہے۔ ایتھوپیا کا ایک اوسط شخص سال میں صرف 7 کلوگرام روانڈا کا 8 اور نائیجیریا کا شہری 9 کلو گوشت کھاتا ہے۔ یہ اوسط یورپی ممالک کے مقابلے میں 10 گنا کم ہے۔ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ممالک مثلاً چین اور برازیل میں بھی اب گوشت کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ کینیا میں 1960 کی دہائی سے اب تک گوشت کے استعمال میں کوئی خاص فرق دیکھنے میں نہیںآیا لیکن اس کے برعکس چین میں جہاں 1960 کی دہائی میں فی کس 5 کلو سالانہ گوشت کھایا جاتا تھا، 1980 کی دہائی کے آخر تک یہ استعمال 20 کلو تک بڑھ گیا تھا اور گزشتہ چند عشروں کے دوران یہ تین گنا زیادہ ہو کر 60 کلو سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ کچھ یہی صورتحال برازیل میں دیکھی جارہی ہےجہاں 1990 کے بعد سے گوشت کا استعمال تقریبا دگنا ہوچکا ہےاور اس نے اس معاملے میں تمام مغربی ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بھارت میں بھی اگرچہ1990 کے بعد سے آمدنی 3 گنا بڑھی ہے لیکن اس حساب سے گوشت کا استعمال نہیں بڑھا جس کی وجہ اس کے گئوماتا اور دیگر ہندووانہ عقائد ہیں۔ یہ اگرچہ ایک غلط فہمی ہےکہ بھارتیوں کی اکثریت سبزی خورہے ۔ وہاں کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق دو تہائی بھارتی گوشت کی کچھ نہ کچھ مقدار ضرور کھاتے ہیں پھر بھی پوری دنیا میں گوشت کا سب سے کم استعمال بھارت میں ہوتا ہے جہاں فی کس 4 کلو سالانہ کا تخمینہ لگایاگیا ہے۔  گوشت اور ڈیری مصنوعات اگر اعتدال میں کھائی جائیں تو اس سے لوگوں کی صحت بہتر ہوسکتی ہے خاص طور پر کم آمدنی والے ممالک میں جہاں خوراک کی مختلف اقسام دستیاب نہیں ہوتی ہیں لیکن بہت سے ملکوں میں گوشت کا استعمال حد اعتدال سے بہت آگے بڑھ چکا ہے جس کی وجہ سے فائدہ کے بجائے نقصان ہورہاہے اور گوشت کا زیادہ استعمال صحت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ طبی جائزوں سے یہ معلوم ہوچکا ہے بہت زیادہ سرخ گوشت اور پروسیسڈ گوشت کھانے سے امراض قلب، فالج اور بعض اقسام کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ گائے کے گوشت کی جگہ چکن کا استعمال بہتر متبادل ہوسکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق سرخ گوشت پٹھے کا وہ گوشت ہے جو گائے، بیل، خنزیر، بچھیا، بھیڑ، بکری اور بکرے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ امریکی رجسٹرڈ ماہر غذا جیسکا کور ڈنگ کے مطابق سرخ گوشت کے حد سے زیادہ استعمال سے کولیسٹرول کی سطح بھی بلند ہوتی ہے، ہاضمے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور خاص طور پر بڑی آنت اور اس کے نچلے حصے کے کینسر کا خطرہ زیادہ ہوجاتا ہے اور برسوں کی تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ ان خطرات کی بڑی وجہ سرخ گوشت میں جمنے والی چکنائی کی بلند سطح ہوتی ہے جو خون میں کولیسٹرول کی سطح بڑھادیتی ہے۔ کچھ دیگر ریسرچ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سرخ گوشت میں ایک مرکب L-Carnitine بھی شامل ہوتا ہے جو دل کی شریانوںمیں چربیلا مادہ (پلاک) تشکیل دیتا ہے اور اس سے دل کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ سرخ گوشت کے زیادہ استعمال سے بڑی آنت میں سوزش پیدا ہوتی ہے جو ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھا دیتی ہے اور اس سے زندگی کے کم از کم دو سال گھٹ سکتے ہیں۔ اس کی زیادتی سے جسم میں یورک ایسڈ کی پیداوار بھی بڑھ جاتی ہے اور اس سے گھٹیا اور دیگر امراض کا خطرہ ہوتا ہے۔