تازہ شمارہ
Title Image
February 25, 2019
2100 تک ہمالیہ ہندوکش کے 36 فیصد گلیشئیر ختم ہوجائیں گے

2100 تک ہمالیہ ہندوکش کے 36 فیصد گلیشئیر ختم ہوجائیں گے

ماہرین نے ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمالیہ اور ہندو کش کے سلسلہ ہائے کوہ میں واقع گلیشیئرز کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر قابو نہ پایا گیا تو ان گلیشیئرز کا دو تہائی حصہ ختم ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر اس صدی میں دنیا کے بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کو ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود بھی کر دیا جائے تو بھی ان گلیشیئرز کا ایک تہائی حصہ ختم ہو جائے گا۔ یہ گلیشیئرز آٹھ ممالک میں رہنے والے تقریباً 25 کروڑ افراد کے لیے پانی کی فراہمی کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔ کے ٹو اور ماؤنٹ ایورسٹ کی بلند و بالا چوٹیاں بھی ہمالیہ اور ہندو کش کے پہاڑی سلسلوں کا حصہ ہیں۔ قطبی علاقوں کے علاوہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ برف انہی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ لیکن سائنسدانوں کے مطابق بڑھتے درجۂ حرارت کے باعث یہ برفانی میدان ایک صدی سے بھی کم عرصے میں خالی چٹانوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والی چند دہائیوں میں آبادی میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی اور بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت سے برف پگھلنے کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔ فضائی آلودگی دنیا کے سب سے آلودہ خطے انڈو گینگیٹک میدانوں سے آتی ہے۔ آلودہ ہوا، برف پر گرد اور سیاہ کاربن چھوڑتی ہے جس سے ان گلیشئرز کے پگھلنے کا عمل مزید تیز ہو رہا ہے۔ تاہم اگر عالمی درجۂ حرارت دو ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا تو 2100ء تک ان گلیشیئرز کے نصف حصے کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ اگر اس صدی کے اختتام تک درجۂ حرارت میں اضافے کو ایک اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر بھی لیے گئے تو بھی ان گلیشیئرز کا 36 فیصد حصہ ختم ہوجائے گا۔ انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ کے بین الاقوامی مرکز کے فلپس ویسٹر کا کہنا ہے کہ ’اس سے قبل ایسے موسمیاتی بحران کے بارے میں آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس خطے میں جس کا شمار پہلے ہی دنیا کے سب سے مشکل اور خطرناک پہاڑی علاقوں میں ہوتا ہے، وہاں کے لوگوں پر پڑنے والے اثرات میں بدترین آلودگی سے لے کر شدید موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہوں گی۔ لیکن سب سے بڑا اثر مون سون کے موسم میں تبدیلی اور مون سون سے قبل دریاؤں کے بہاؤ میں کمی سے شہری علاقوں میں پانی، خوراک اور توانائی کی پیداوار پر پڑے گا۔‘ ان تبدیلیوں سے جو علاقہ متاثر ہو گا اس کا رقبہ تقریباً 3500کلومیٹر ہے اور یہ افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، چین، بھارت، میانمار، نیپال اور پاکستان میں واقع ہے۔ ہمالیہ اور ہندوکش کے گلیشیئر دنیا کے اہم ترین دریاؤں گنگا، سندھ، ییلو، می کانگ اور اراوادی کو پانی مہیا کرنے کے علاوہ، بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اربوں لوگوں کے لیے خوراک، توانائی، صاف ہوا اور آمدن کا بھی ذریعہ ہیں۔ سائنسدانوں کو خطرہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں صرف پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کو ہی نہیں بلکہ دریا کے گرد رہنے والے تقریباً ایک ارب پینسٹھ کروڑ لوگوں کی زندگیوں پر بھی اثر انداز ہوں گی، جو سیلاب اور فصلوں کی تباہی کی وجہ سے غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ برطانوی انٹارکٹک سروے کے ڈاکٹر ہمیش پرت چارڈ کے مطابق پانی ایک ایسا مسئلہ ہے جو صرف پہاڑوں پر ہی نہیں بلکہ پہاڑوں سے نیچے رہنے والے لوگوں کے لیے بھی اہم ہے۔ یہ رپورٹ نشاندہی کرتی ہے کہ کس طرح برف پگھلنے سے ان دریاؤں میں تبدیلی آئے گی اور آنے والے برسوں میں ان کے پانی کا بہاؤ بڑھے گا۔