تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019

قناعت بڑی دولت ہے

حضرت شیخ سعدی ؒ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی کوئی اولاد نہ تھی، جب اس کی موت کا وقت نزدیک آیا تو اس نے وصیت کی کہ جو شخص صبح سب سے پہلے شہر میں داخل ہو گا وہ میرا جانشین ہو گا۔ اتفاقاً اگلی صبح جو شخص سب سے پہلے شہر میں داخل ہوا وہ ایک فقیر تھا جو بھیک مانگ کر اپنا گزارہ کیا کرتا تھا۔ وزراء نے بادشاہ کی وصیت کے مطابق اس فقیر کو تخت پر بٹھا دیا اور تمام خزانوں کی چابیاں اس کے سپرد کر دیں۔ وہ فقیر ایک عرصہ تک حکومت کرتا رہا، پھر وزراء اور مشیروں نے اس کی اطاعت ترک کر دی اور ملک میں فساد برپا ہو گیا اور ملک کے کچھ حصہ پر اس کا اثرورسوخ ختم ہوگیا۔ اس فقیر کا ایک دوست جو اس کی فقیرانہ زندگی میں اس کے ساتھ رہا تھا وہ اس سے ملنے آیا اور اس نے جب اپنے دوست کی حالت دیکھی تو کہا کہ اللہ عزوجل نے تجھے بلند مرتبہ عطا فرمایا اور پھول کانٹے سے اور کانٹا تیرے پیر سے نکل گیا۔ بے شک تنگی کے بعد آسانی ہے۔ کبھی کلی کھلتی ہے اور کبھی خشک ہو جاتی ہے اور کبھی درخت سرسبز ہوتا ہے اور کبھی اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ وہ فقیر بولا کہ افسوس تو مجھے مبارکباد دے رہا ہے، جب کہ تو نے مجھے فقیری کے زمانہ میں دیکھا تھا کہ مجھے صرف ایک روٹی ملتی تھی اور اب سارے ملک کی فکر لاحق ہے۔ اگر دنیا نہ ملے تو پریشانی اور اگر مل جائے تو اس کی محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ دنیا سب سے بڑی مصیبت ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے اور نہ ہوتے ہوئے دونوں صورتوں میں تکلیف ہے۔ اگر تو مالدار بننا چاہتا ہے تو یاد رکھ کہ قناعت بڑی دولت ہے۔ اگر مالدار اپنا تمام سونا لوٹا دے تو ہر گز اس کے ثواب کی جانب متوجہ نہ ہو۔ میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ فقیر کا صابر ہونا مالدار کے خرچ کرنے سے بہتر ہے۔ اگر بہرام بادشاہ گور کو کباب پیش کرے تو وہ چیونٹی کی جانب سے کسی ٹڈی کے پیر کے سے ہیں۔  شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ پس یاد رکھو کہ قناعت بڑی دولت ہے اور جب تم کسی کو منصب کا اہل سمجھو پھر اس منصب پر فائز کرو کہ نااہل کا منصب پر فائز ہونا باعث نقصان ہے۔ (حکایات سعدی رحمۃ اللہ علیہ …گلستان)