تازہ شمارہ
Title Image

معدی چشمے

ایسے قدرتی چشمے جن کا پانی زمین کی ایسی پرتوں سے گزر کرآتا ہے۔ جن میں معدنی اجزاء مثلاً نمک، گندھک، چونا، لوہا وغیرہ ہوتے ہیں۔ ان کو معدنی چشمے کہا جاتا ہے اور ان کا پانی معدنی پانی کہلاتا ہے۔ معدنیات کی شمولیت اس پانی کو بعض صورتوں میں شفا بخش اور اکسیر بنا دیتی ہے۔ پاکستان بھی معدنی چشموں کی نعمت سے مالا مال ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں تقریباً 25مقامات ایسے ہیں جہاں گرم چشمے موجود ہیں لیکن ابھی تک نہ تو ان کی صحیح تعداد معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نہ ان کے پانی کے خواص کا کیماوی تجزیہ کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک یہ کام مکمل نہ ہو جائے اس وقت تک نہ تو ان مقامات کو جدید مرکز صحت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور نہ ملکی اور غیر ملکی سیرو سیاحت کے نقطۂ نظر سے پرکشش اور جاذب نظر بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے چشموں میں سب سے مشہور ’’منگھو پیر‘‘ کراچی کے چشمے ہیں، جن سے کسی زمانے میں ایک لاکھ اسی ہزار گیلن پانی روزانہ خارج ہوتاتھا۔ یہ مقدار جرمنی کے بین الاقوامی شہرت کےمالک چشموں سے زیادہ ہے مثلاً شمالی علاقے قدرتی چشموںکے لیے بہتر مشہور ہیں۔ بلتستان، گلگت اور دیامر کے بہت سے مقامات پر ٹھنڈے اور گرم پانی کے چشمے اُبلتے ہیں،جن کا پانی لوگ مختلف بیماریوں کے لیے بطورِعلاج استعمال کرتے ہیں اور شفایاب ہوتے ہیں۔ رائیکوٹ چلاس کے اُبلتے ہوئے چشمے بر، بڈلس (نگر) اور برست، دماس پونیال، گرونجر، درکوت، مرتضیٰ آباد اور ہنزہ کے چشمے بہت مشہور ہیں۔ چترال میں ’’گرم چشمہ‘‘ نامی مقام کے کھولتے ہوئے پانی کے چشمے اور بلتستان میں چھاترون کے چشمے جو دریائے شگر کی معاون ندیوں، برالدو او باشا کے سنگم کے قریب واقع ہیں اور جن کے متعلق ’’کے ٹو‘‘ کو 1953ء میں سر کرنے والی کوہ پیمائوں کی جماعت کے کارکن نے لکھا تھا۔ ’’طبی حیثیت سے یہ چشمے ایسے ہیں کہ اسی جگہ پر بڑی کامیابی کے ساتھ تجارتی بنیاد پر معدنی پانی کا ایک مرکز صحت قائم کیا جا سکتا ہے۔ سندھ میں لکی صدر اور سیہون کے پاس، گرم پانی کا اُبلتا چشمہ ہے جسے ’’نہنگ شریف‘‘ کہا جاتا ہے۔ سال کے بارہ مہینے  یہاں سے گرم پانی نکلتا رہتا ہے۔ بلوچستان میں سبی، ہرنائی ریلوے کے راستے میں اسپین تنگی کے مقام پر، پنجاب میں ضلع میانوالی میں نمل گھاٹی کے اندر، سوات میں نجی گرام میں گرم پانی کے چشمے موجود ہیں۔ سب سے زیادہ معدنی چشمے گلگت ایجنسی اور آزاد کشمیر میں پائے جاتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب سے پہلے چھاترون گرم چشمہ اور منگھوپیر سے کام کا آغاز کریں۔ ان میں اوّل و دوم مقامات ایسے ہیں جو اپنے مناظر کی وجہ سے سیاحوں کے لئے بھی پرکشش بن سکتے ہیں اور اگر منگھوپیر کے چشموں کے چاروں طرف باغات اور سیرگاہیں تعمیر کر دی جائیں تو یہ جگہ اہل کراچی کے لئے سب سے اچھی سیرگاہ بن سکتی ہے۔