تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
یاسر عرفات

یاسر عرفات

فلسطین کا انقلابی رہنما اور سابق صدر یاسرعرفات 24؍اگست 1929ء کو یروشلم میں پیدا ہوئے۔ اوائل عمر ہی میں اپنے والد اور بھائیوں کے ساتھ مل کر یہودی دہشت پسندوں کی فلسطینیوں کے خلاف برسرپیکار ہوگئے۔ 1948ء میں اسرائیل کی حکومت قائم ہونے پر غزہ چلے گئے۔ وہاں سے انجینئر کی تعلیم حاصل کرنے قاہرہ گئے۔ 1952ء میں مصر میں فلسطینی طلباء کی یونین کے صدر بن گئے۔ 1957ء میں گریجویشن کیا۔ اس سے ایک سال قبل 1956ء میں مصری فوج کے ساتھ مل کر نہر سوئز کی جنگ میں حصہ لے چکے تھے۔ حصول تعلیم کے بعد کویت چلے گئے جہاں ایک اسکول ٹیچر کے ساتھ مل کر 1959ء میں الفتح تنظیم کی بنیاد رکھی۔ 1964ء میں الجیریا کے صدر احمد بن بلا نے اپنے ملک میں الفتح کا بیورو قائم کرنے کی اجازت دے دی۔ 1964ء کے اواخر میں الفتح کی ایک شاخ العاصفہ نے اسرائیل کے خلاف گوریلا جنگ شروع کر دی۔ ان کارروائیوں سے جلا وطن انقلابی لیڈر، جسے اس کے ساتھی ’’ابوعامر‘‘ کہتے ہیں۔ عجیب مشکلات میں پھنس گیا۔ میزبان ملکوں نے ان کی موجودگی کو اپنے لئے خطرہ اور وبال جان خیال کیا۔ ایک دفعہ انہیں لبنان میں گرفتار کیا گیا۔ دو مرتبہ شام میں گرفتار ہوئے۔ سات ہفتے تک دمشق کی خطرناک جیل موذی میں گزارنے پڑے۔1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد یاسر عرفات نے فلسطین کے مقبوضہ علاقے میں خفیہ سیل قائم کئے۔ یہ گوریلے کسی نہ کسی طرح اسرائیلی سیکورٹی سے بچ کر کام کرتے رہے اور اسرائیل نے انہیں اپنا دشمن قرار دیا۔ 1970-71ء میں یاسر عرفات اور ان کی تنظیم پر کڑوا وقت آیا جب فلسطینی گوریلوں کو اُردن میں ان کے اڈوں سے باہر نکال دیا گیا تھا۔ عرفات نے فلسطینی جدوجہد کا ہیڈ کوارٹر لبنان منتقل کر دیا۔ وہاں فلسطینی کمانڈوز اور دائیں بازو کی ملیشیاء میں اختلافات بہت زیادہ بڑھ گئے۔ جس کے نتیجہ میں1975ء میں لبنان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ شام کی فوجوں نے خانہ جنگی ختم کرانے کے لئے مداخلت کی۔ یاسر عرفات کی زندگی کا نقطۂ عروج نومبر 1974ء میں آیا، جب انہوں نے تنظیم آزادی فلسطین (PLO) کے نمائندہ کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کیا اور یہ مشہور اعلان کیا۔ ’’میرے ایک ہاتھ میں زیتون کی شاخ ہے اور دوسرے میں بندوق۔‘‘  1982ء ان کی زندگی کا سب سے پریشان کن سال تھا۔ جب اسرائیل نے لبنان میں فلسطینی حریت پسندوں اور مہاجرین کے کیمپوں کو فضائی و بری حملوں سے برباد کر دیا اور یاسر عرفات کو ایک مرتبہ پھر جلا وطن ہونا پڑا۔ 1991ء کی خلیجی جنگ میں جب عراق نے کویت پر حملہ کیا تو عرفات نے کھلے عام عراقی صدر صدام حسین کے اقدام کو سراہا۔ خلیجی جنگ کے کچھ ہی عرصے بعد جب عرفات نے اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو اسے عالمی سطح پر دوبارہ اہمیت اور وقعت دی جانے لگی۔ کئی ماہ تک مسلسل مذاکرات کے بعد عرفات اور اسرائیلی وزیراعظم اضحاک رابن نے  13؍ستمبر 1993ء کو واشنگٹن ڈی سی میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے۔ 1993ء کے معاہدے نے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے علاقوں میں فلسطین قومی اتھارٹی (پی این اے) کے تحت محدود فلسطینی حکومت کو تسلیم کیا جس کی سربراہی یاسر عرفات کے حصہ میں آئی۔ 2004ء کے وسط میں بیمار ہوئے اور 11؍نومبر 2004ء میں پیرس میں وفات پائی۔