تازہ شمارہ
Title Image
پاکستان کا کرارا ردعمل بھارتی طیارے مار گرائے

پاکستان کا کرارا ردعمل بھارتی طیارے مار گرائے

بھار کے ہوش ٹھکانے آگئے دعوئو کا ثبوت نہ دے سکا

ملک بھر کی طرح راولپنڈی، اسلام آباد میں بھی حالات مکمل طور پر پُرسکون ہیں۔ زندگی کے تمام معمولات رواں دواں ہیں، البتہ پہلے دشمن سے دفاع کیلئے اور اب جواب دینے کیلئے تمام متعلقہ ادارے بھرپور اعتماد کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ دشمن کی طرف سے ابتدا کے بعد جس بھرپور انداز میں للکار کر اسے جواب دیا گیا ہے، اس سے عوام میں اپنی سیاسی اور عسکری قیات کے ساتھ ساتھ اپنے تمام متعلقہ اداروں پر بھی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ایوانوں میں مکمل ہم آہنگی، افہام و تفہیم کی فضا پائی جارہی ہے۔ پارلیمانی ایوانوں میں ذاتی معاملات، مفادات اور الزامات پر دست و گریبان کی انتہا تک پہنچ جانے والے سیاست دان دشمن کے مقابلے میں یک جان اور ہم آواز دکھائی دیتے ہیں۔ یہ دعا بھی کی جاسکتی ہے کہ ایوانوں میں یہ اتحاد اور ہم آہنگی موجودہ صورت حال کے بعد بھی قائم رہ سکے۔  اس ساری صورت حال میں پاکستان کا میڈیا جو مثبت، حقائق پر مبنی تفصیلات اور جذبۂ حب الوطنی سے سرشاری کے ساتھ جس انداز سے ’’نشری محاذ‘‘ پر بھارتی پروپیگنڈے کا موثر انداز میں جواب دے رہا ہے، اس کی ستائش خود متعلقہ ادارے بھی کررہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ بھارتی میڈیا نے اپنے ہی ملک میں ایک ’’نشریاتی انتشار‘‘ پیدا کر رکھا ہے، جس سے بھارتی عوام میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوچکی ہے۔ اب ایک طرف تو پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ بدلتی ہوئی صورت حال پر اپنے میڈیا کو پریس بریفنگز کے ذریعے تفصیلات فراہم کررہا ہے، ان کے ہر سوال کا جواب دے رہا ہے تو دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ بھارتی سیکریٹری خارجہ میڈیا کو بریفنگ دینے آئے لیکن مختصر دورانیے کی ایک تحریر پڑھ کر میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیئے بغیر اُٹھ کر چلے گئے اور میڈیا کے نمائندے سوالات اور احتجاج کرتے ہی رہ گئے۔ بھارت کی جانب سے بالاکوٹ پر حملے کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ وہاں دہشت گردوں کو تربیت دینے کا ایک تربیتی مرکز تھا، جسے مکمل طور پر تباہ کردیا گیا اور وہاں تین سو سے زائد دہشت گرد اور تربیت حاصل کرنے والے مارے گئے لیکن بھارت ان دعوؤں کے کوئی شواہد پیش نہیں کرسکا جس سے اس کی سبکی ہوئی جبکہ پاکستان نے دو بھارتی طیاروں کی شاہینوں کے ہاتھوں تباہی اور گرفتار کئے جانے والے پائلٹس کے تمام مناظر میڈیا پر پیش کئے اور ہر دعوے کے ساتھ ثبوت بھی پیش کیا۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات پر بین الاقوامی میڈیا نے بھی اعتماد کیا۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کے دو طیاروں کو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے پر مار گرائے جانے اور پائلٹس کی گرفتاری کے بعد بھارت کا ردعمل بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی جانب سے اُس وقت آیا جب وہ چین میں تھیں، جہاں سے انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’بھارت موجودہ صورت حال میں مزید کشیدگی نہیں چاہتا۔ بھارت ذمہ داری اور تحمل سے کام لیتا رہے گا۔‘‘ بادی النظر میں تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کے ہوش ٹھکانے آگئے ہیں اور اب نریندر مودی انتخابات میں اپنی شکست سے بچنے کیلئے پلوامہ جیسا کوئی ڈرامہ کریں گے نہ اپنی فضائیہ کو استعمال کریں گے کیونکہ ان دونوں واقعات پر جس انداز سے پاکستان نے ردعمل کا اظہار کیا ہے، اس سے خود بھارتی عوام کی بھی آنکھیں کھل گئی ہیں اور اگر بھارتی وزیراعظم نے پھر اس طرح کی کوئی کوشش کی تو اگلی مرتبہ اس کا ردعمل خود بھارت کے اندر سے آئے گا اور وہ الیکشن میں مودی کی شکست بھی ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) جس میں دُنیا بھر کے 46 مسلم ممالک کی نمائندگی موجود ہے، اس کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اس مرتبہ ابوظبی میں ہوا، جس میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی نہ صرف شرکت کی دعوت دی گئی بلکہ ’’مہمانِ اعزازی‘‘ کا درجہ دے کر اجلاس کے میزبان، ابوظبی کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان کی طرف سے اظہارِ خیال کرنے کی بھی خصوصی دعوت دی گئی تھی۔ اس دعوت کو بھارتی حکومت نے نہ صرف غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اسے اپنی سفارتی فتح سے تعبیر کیا بلکہ بار بار تشکر کے جذبات کا بھی اظہار کیا اور جب یہ خبریں منظر عام پر آئیں تو کسی بھی رکن ملک، حتیٰ کہ خود پاکستان کی جانب سے احتجاج تو دُور کی بات کسی تعجب کا بھی اظہار نہیں کیا گیا اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کی۔  واضح رہے کہ بھارت کی اسلامی تعاون تنظیم میں کسی بھی حوالے سے شمولیت کی کوشش اور خواہش کافی پرانی تھی۔ بھارت اس موقف کی بنیاد پر تنظیم میں شمولیت حاصل کرنے کا خواہاں رہا ہے کہ بھارت کو، جہاں مسلمانوں کی مجموعی آبادی کے دس فیصد مسلمان رہتے ہیں، تنظیم میں نمایاں حیثیت دینی چاہئے۔ مئی 2018ء میں تنظیم کا اجلاس ڈھاکا میں ہوا تو میزبان ملک کی حیثیت سے بنگلہ دیش نے بھی بھارت کے اس موقف کی حمایت کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی تھی کہ بھارت کو تنظیم میں شامل کرنا چاہئے لیکن اس تجویز کو درخور اعتنا نہ سمجھا گیا لیکن اب ابوظبی میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو دی جانے والی دعوت حیران کن تھی اور اس سے زیادہ حیران کن بات رکن ممالک کی خاموشی تھی۔ اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی اس خبر پر ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ پھر یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ اجلاس کے موقع پر بھارت اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات بھی متوقع ہے تاکہ پلوامہ واقعے کے بعد اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی اور تناؤ کو ختم کرنے کیلئے ماحول پیدا کیا جاسکے لیکن اس سے قبل ہی بھارت کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور بالاکوٹ پر حملے کا واقعہ پیش آیا، جس نے ساری صورت حال بدل کر رکھ دی۔ 46 اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کو دعوت دینے کا مقصد دراصل وہی تھا، جس کا تذکرہ کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض دوست ممالک نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا تھا، بالخصوص ان ممالک نے، جن کے پاکستان اور بھارت، دونوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ اس حوالے سے خصوصی طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کا حالیہ دورۂ پاکستان اور بھارت بھی قابل ذکر ہے اور ابوظبی کی جانب سے بھارتی وزیر خارجہ کو اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، جہاں سشما سوراج کی مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات بھی یقینی تھی۔ بعض غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق تو اس ملاقات کیلئے وقت اور جگہ کا تعین بھی ہوچکا تھا اور یہی وجہ تھی کہ تنظیم کے تمام رکن ممالک، بالخصوص پاکستان نے اس حوالے سے خاموشی اختیار کی تھی لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنے الیکشن سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کیلئے کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہیں چاہتے کیونکہ وہ پاکستان دشمنی کی بنیاد پر اپنے ملک کے انتہا پسندوں سے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس لیے بالاکوٹ کا واقعہ ہوا اور دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت اور خیرسگالی کی فضا پیدا کرنے والے ناکام ہوگئے اور مودی کا جنون کامیاب ہوگیا۔ جس کے فوری بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے او آئی سی کے اجلاس میں سشما سوراج کو بلانے کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اس اجلاس کا بائیکاٹ کریں اور پھر ایسا ہی ہوا۔