تازہ شمارہ
Title Image
پاکستانی قوم اور پاک فوج کا جوش و جذبہ

پاکستانی قوم اور پاک فوج کا جوش و جذبہ

روایتی اسلحے میں بھارتی برتری کو خاک میں ملا دے گا

اب جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ایک خودکش حملے کے بعد، جس میں 44بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے، بھارت نے پاکستان کے خلاف عریاں جارحیت کا ارتکاب شروع کر دیا ہے تو پاکستان نے بھی اس کا ٹھوس اور منہ توڑ جواب دینے کا عزم کرلیا ہے۔ عوام کو بھارتی دھمکیوں کے تناظر میں بتا دیا گیا تھا کہ بھارت کی طرف سے کسی جارحانہ کارروائی کے نتیجے میں پاکستان جواب دینے کے لئے غور و فکر نہیں کرے گا بلکہ وہ جوابی کارروائی کر ڈالے گا کیونکہ اس کے سوا کوئی راستہ موجود نہیں۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی اہمیت اپنی جگہ لیکن یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ بھارتی جارحیت کا جواب سوچ بچار کے بغیر دینے کے اعلان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا حالانکہ پاکستان کی مسلح افواج کی حربی صلاحیتوں کی موجودگی میں جوابی کارروائی سے گریز نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستانی قوم اور پاک فوج کا جوش و جذبہ روایتی اسلحے میں بھارتی برتری کو خاک میں ملادے گا۔  عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج میں 6 لاکھ 53 ہزار 800 فرض شناس اور بہادر افراد شامل ہیں۔ ان میں تقریباً پندرہ ہزار وہ بےمثال نفوس بھی شامل ہیں جو اسٹرٹیجک پلاننگ ڈویژن (ایس پی ڈی) کے رکن ہیں۔ دو لاکھ پچاس ہزار افراد پیرا ملٹری فورسز کا حصہ ہیں۔ پاکستان کی افواج کے لئے عندالضرورت رضاکار افراد کی بہت بڑی تعداد بھی دستیاب ہے، جن کی خدمات حاصل کرنے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ پاکستان کی مسلح افواج اپنے نظم و ضبط کے اعتبار سے ملک کا بہترین ادارہ ہیں۔ جسے عام شہریوں کی نگاہوں میں بے پناہ قدر و منزلت حاصل ہے۔ ملک کو بیرونی جارحیت، آفات سماوی اور داخلی خلفشار سے محفوظ رکھنے کے لئے مسلح افواج نے ہمیشہ گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے جہاں بیرونی کھلی جارحیت سے نبردآزما ہو کر اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے، وہاں حالیہ برسوں کے دوران عساکر پاکستان بالخصوص بری فوج نے دہشت گردی کے خلاف طویل اور صبر آزما جنگ لڑ کر اس میں بےمثال کامیابی حاصل کی ہے۔ اس جنگ نے ملکی سپاہ کو صیقل بنا دیا ہے۔ پاکستان کی بری فوج پانچ لاکھ پچاس ہزار حاضر سروس ارکان پر مشتمل ہے جو پانچ لاکھ ریزروز بھی رکھتی ہے۔ اسی طرح بائیس ہزار ارکان کی بحری فوج کے پاس پانچ ہزار ریزروز موجود ہیں۔ پینتالیس ہزار ہمہ وقت مستعد پاک فضائیہ کے ارکان کے لئے آٹھ ہزار ریزروز دستیاب ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج کو اسپیشل سروسز گروپ کی خدمات بھی حاصل ہیں، جنہیں ’’ایس ایس جی‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ امریکی میرینز کی طرح پاکستان کے ایس ایس جی کو ملک کی فوج کا امتیاز تصور کیا جاتا ہے۔ ایس ایس جی کے دستے تینوں افواج کے پاس ضرورت کے مطابق موجود ہیں۔ جنگ اور ہنگامی صورت حال میں یہ دستے غیرمعمولی اہمیت کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔  روایتی فوجی صلاحیتوں کے علاوہ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی اس کی حفاظت کی ضمانت مہیا کرتی ہے۔ 1971ء میں پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد جب پاکستان اور اس کے روایتی دشمن بھارت کے درمیان فوج کے حجم اور رقبے میں تفاوت بہت بڑھ گئی تو پاکستان نے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر توجہ 1972ء میں شروع کی گئی۔ اس کے بعد آنے والے مراحل میں ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے جان بوجھ کر ابہام کو برقرار رکھا گیا اور یہ سلسلہ 1998ء تک جاری رکھا گیا۔ بھارت جس نے 1971ء میں پہلا ایٹمی تجربہ کیا تھا۔ اس نے 1988ء میں پے در پے چار ایٹمی دھماکے کر کے اپنے ایٹمی طاقت بن جانے کا اعلان کر دیا تو ایسی صورت حال میں پاکستان کے لئے کوئی اور چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ بھی خفیہ ایٹمی صلاحیتوں کا کھلے بندوں اعلان کر دے اور اس نے بھارت کے چار ایٹمی تجربات کے مقابلے میں پانچ دھماکے کرکے اپنے ایٹمی قوت ہونے کا واشگاف اعلان کر دیا۔ پاکستان نے ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال کرنے کے حوالے سے اپنی حکمت عملی ترتیب دی اور واضح کردیا کہ اس کے ایٹمی ہتھیار جنگ کے خلاف خوف کا اسلحہ ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل انتھونی زینی نے جنوری 2000ء میں واضح طور پر بتا دیا تھا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت بھارت کے مقابلے میں بدرجہا بہتر ہے۔ ایٹمی صلاحیت حاصل کرلینے کے بعد پاکستان نے اس کے لئے ڈلیوری سسٹم تیار کیا جو آواز سے دگنی رفتار کے جدید ترین طیاروں کے علاوہ میزائل سسٹم بھی ہے، اس میں پانچ قسم کے میزائل شامل ہیں۔ جن میں مختلف اقسام کے ایندھن استعمال ہوتے ہیں جن سے ان کی کارکردگی اور سرعت رفتاری سے پرواز کرنے کی صلاحیتوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان نے اپنے وسائل سے کروز میزائل بھی تیار کر رکھا ہے، جو سطح ارضی کے متوازی اُڑ کر اپنے ہدف سے جا ٹکراتا ہے اور دنیا کا کوئی ریڈار یا میزائل شکن نظام اس میزائل کو نہ روک سکتا ہے اور نہ ہی اس کا سراغ لگا سکتا ہے۔ میزائلوں کے پانچوں نظام اپنے ساتھ ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مختلف جائزوں کے مطابق بھارت جس کی سرحدیں پاکستان سے چھ گنا طویل ہیں، اس کی فوج کے پاس 4100 جنگی ٹینک ہیں جبکہ پاکستان کی فوج کے پاس 2750 ٹینک ہیں۔ بھارتی فضائیہ کے پاس سات سو جنگی اور بمبار طیارے ہیں جبکہ پاکستان کے لڑاکا جنگی طیاروں کی تعداد چار سو سے زائد ہے۔ پاکستان کے اسلحہ خانے میں جدید ترین اور قابل اعتماد ہتھیاروں کی کثرت سے موجودگی اس کے دفاع کو ناقابل تسخیر بناتی ہے۔ پاکستان اپنی دفاعی ضرورت کا اسلحہ تقریباً 70 فیصد اندرون ملک اپنے وسائل سے تیار کرتا ہے جس میں الخالد اور الضرار ٹینک بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے اسلحہ ساز کارخانوں کے تیارکردہ ہتھیار نہ صرف ملکی افواج کی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ حکومت اس اسلحے کی برآمد سے کثیر زرمبادلہ بھی کماتی ہے۔ جنگوں میں اسلحے اور ہتھیاروں کی اہمیت مسلمہ ہے لیکن دو اقوام اور ملکوں کے درمیان جنگ میں اسلحہ چلانے والا شخص فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کی شیردل بہادر افواج کے ارکان دشمن کے مقابلے میں کہیں زیادہ جذبے سے سرشار اور حربی صلاحیتوں سے مالامال ہیں۔ بھارت نے گزشتہ سال اپنے جنگی اخراجات کا تخمینہ 58؍ارب ڈالر بتایا تھا جو اس کی مجموعی قومی آمدنی کا 2.1 فیصد ہے جبکہ اس کی فوج 1.4ملین افراد پر مشتمل ہے۔ اس عرصے میں پاکستان کے دفاعی اخراجات کی لاگت گیارہ ارب ڈالر تھی جو اس کی مجموعی قومی آمدنی کا 3.6 فیصد تھا۔ پاکستان کو ایک سو ملین ڈالر کی بیرونی فوجی امداد بھی ملی۔ بھارت کے پاس میزائل کی 9؍اقسام ہیں۔ پاکستان نے اس امر کی تصدیق کر رکھی ہے کہ اس نے تذویراتی ایٹمی صلاحیت بھی پیدا کر رکھی ہے، اس کے پاس مختصر فاصلے تک مار کرنے والے ایسے میزائل موجود ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ اگر بھارت محدود نوعیت کی جنگ کے لئے آگے بڑھتا ہے تو یہ ہتھیار اسے مکمل طور پر تلف کر دینے کے لئے کافی ہیں۔ اس کی بدولت پاکستان کو بھارت کی فوج کے روایتی جارحانہ اقدام کے خلاف مکمل برتری حاصل ہے۔ ایک جائزے کے مطابق بھارت کے پاس ایک سو تیس سے ایک سو چالیس جبکہ پاکستان کے پاس ایک سو چالیس سے ایک سو پچاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ بھارتی فوج کے پاس تیار حالت میں 3565جنگی ٹینک موجود ہیں۔ پیادہ فوج کے پاس 3100 حربی گاڑیاں، 336بکتربند گاڑیاں اور 9719توپیں موجود ہیں۔ پاکستان کے تیار حالت میں ٹینکوں کی تعداد 2496 ہے۔ اس کے پاس 1605بکتربند گاڑیاں ہیں، 4470توپیں ہیں۔ بھارت کے پاس تعداد میں زیادہ فوج اور اسلحہ ہونے کے باوجود اس کی صلاحیتیں کمتر ہیں کیونکہ اس کے پاس نقل و حرکت کے وسائل محدود ہیں۔ گولہ بارود کی کمی ہے اور فالتو پرزے اسے دستیاب نہیں۔ بھارتی فضائیہ تعداد میں بڑی ہے لیکن اسے لڑاکا طیاروں کے مسائل کا سامنا ہے۔ وہ 1960ء کے تیارشدہ روسی مگ 21طیارے بڑی تعداد میں استعمال کر رہی ہے جنہیں بھارتی فضائیہ کے افسر ’’اُڑتے کفن‘‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ طیارے بہت جلد بھارتی فضائیہ سے نکال دیئے جائیں گے۔ پاک فضائیہ کے پاس امریکی ایف سولہ طیاروں کے علاوہ چینی ساختہ ایف سیون پی بی اور جے ایف 17تھنڈر طیارے بھی موجود ہیں۔ پاکستان لگاتار اپنی فضائیہ کی اثرانگیزی میں اضافہ کر رہا ہے۔ بھارتی بحریہ میں ایک طیارہ بردار جہاز اور 16 آبدوزیں ہیں، 14تباہ کن جہازوں اور 13فریگیٹس کے علاوہ 106 پٹرول اور ساحلی گشت کے جہاز شامل ہیں۔ اس کی بحری فوج کے پاس 75 لڑاکا اور حملہ آور طیارے شامل ہیں۔ پاک بحریہ کے پاس9 فریگیٹس،8 آبدوزیں، 17پٹرول اور ساحلی نگرانی کے جہاز اور 18کثیر المقاصد طیارے ہیں۔