تازہ شمارہ
Title Image
پاک بھارت جنگ نہیں ہوسکتی محبوبہ مفتی

پاک بھارت جنگ نہیں ہوسکتی محبوبہ مفتی

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے فوجی مظالم اب اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ وہ کشمیری لیڈر بھی، جنہیں عام طور پر بھارت نواز سمجھا جاتا ہے، اپنی زبان کھولنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ محبوبہ مفتی کا شمار بھی انہی لوگوں میں کیا جاسکتا ہے۔ وہ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر ہیں اور مقبوضہ کشمیر کی وزیراعلیٰ رہ چکی ہیں جبکہ ان کے والد مفتی محمد سعید کانگریس کے سینئر رہنما تھے اور انہوں نے بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ کے طور پر بھی خدمات انجام دی تھیں۔ گزشتہ دنوں محبوبہ مفتی نے ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ نامی بھارتی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں میزبان رجت شرما کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا۔  ’’آپ کہہ رہے ہیں ہم ان کو تنہا کررہے ہیں۔ اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو میں کیا کروں آپ کی سوچ کا؟ چائنا پاکستان کے ساتھ، امریکا پاکستان کے ساتھ، سعودی عرب پاکستان کے ساتھ، رشیا پاکستان کے ساتھ۔ چائنا کے ساتھ سی پیک، سعودی عرب کا پرنس آیا، 20 بلین ڈالر دے کر گیا۔ پاکستان، امریکا اور طالبان کی بات کروا رہا ہے، ہم کہاں ہیں؟ ہم نے اتنا انویسٹ کیا ہے افغانستان میں، ہم کہاں ہیں؟ نیپال دیکھیں، سری لنکا دیکھیں، ہمارے جو اردگرد ممالک ہیں، ہمارے ساتھ کون ہے؟ امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہے اسٹریٹجکلی، وہ امریکا کو سپورٹ کررہے ہیں کیونکہ اس وقت پاکستان امریکا اور طالبان کے مذاکرات کروا رہا ہے۔ چائنا نے سی پیک بنایا ہے، وہ پاکستان میں انویسٹ کررہا ہے۔ سعودی عرب ہم کو تو دوست کہتے ہیں لیکن وہ اور پاکستان بھائی بھائی ہیں۔ روس پہلے ہمارے بہت قریب تھا، اب پاکستان کے ساتھ اس کے ہم سے بہت زیادہ اچھے تعلقات ہیں۔ اگر آپ نے تصویر دیکھی ہو جب سعودی پرنس آیا، وہ بیٹھا ہے اور ہمارے مودی جی کھڑے ہیں، جب سعودی پرنس ہمیں 60 بلین دے رہا ہے تو مودی جی ایسے کھڑے ہیں ان کے پاس۔ کوئی کٹورا لے کر بھیک مانگتا ہے، کوئی کھڑا ہوکر بھیک مانگتا ہے۔ بات یہ ہے کہ پیسہ بولتا ہے۔ سعودی پرنس یہاں آیا ہم کو 60 بلین دینے، مودی جی ان کے سامنے کھڑے رہے۔ میں نہیں کہتی کہ ہندوستان کمزور ہے۔ ہمارا ملک بہت طاقتور ہے۔ ہمارے ملک کی طاقت ہمارا بھائی چارہ ہے۔ ہمارا سیکولرازم اور ہماری ڈیموکریسی ہے لیکن اس وقت ہمیں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ہم بڑی جنگ کرنے جارہے ہیں۔ جنگ ہم نہیں کریں گے کیونکہ ہمیں بھی پتہ ہے کہ اس میں ہمارا بھی نقصان ہے، اُن کا بھی نقصان ہے۔ ہمارا ملک بڑا ہے، ہمارا نقصان زیادہ ہے کیونکہ ہم ایک ہنستا بستا گھر ہیں، ہمارے پاس سب کچھ ہے۔ آپ کو جموں و کشمیر، کشمیریوں کے بغیر چاہئے۔ اس لئے آپ ہر مسلمان، ہر کشمیری کو بولتے ہیں کہ پاکستان چلے جاؤ۔ میری زمین ہے یہاں پر، میرا گھر ہے یہاں پر، میں کیوں جاؤں پاکستان؟ پاکستان وہ لوگ جائیں گے جو اس وقت لوگوں کو بے وقوف بنارہے ہیں جنگ کے نام پر۔ میں کسی کی حمایت نہیں کررہی۔ میں آپ کو عقل کی بات بتارہی ہوں کہ جنگ نہیں ہوسکتی۔ ہاں سرحدوں پر تھوڑی بہت گتھم گتھا کرکے شام کو ٹیلی ویژن پر دکھائیں گے کہ ہم نے بڑے قلعے فتح کرلئے۔ کوئی جنگ نہیں ہوسکتی، یہ آپ لکھ لیں۔