تازہ شمارہ
Title Image
کراچی تا موئن جو دڑو ۔ زوال ہی زوال!

کراچی تا موئن جو دڑو ۔ زوال ہی زوال!

سندھ میں گڈگورننس کا کمال

پنجاب میں طوفانی کارروائیوں اور بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ میں بھرپور پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ نیب کا پہلا بڑا شکار اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی بنے ہیں، جنہیں نیب حکام نے اسلام آباد سے گرفتار کیا، پھر نیب عدالت نے یکم مارچ تک کا جسمانی ریمانڈ دے کر نیب کراچی کے حوالے کر دیا۔ ان پر آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے کا الزام ہے، جن کی مالیت 7 کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ ان میں 159 ؍ایکڑ زرعی زمین، ایک کروڑ 48 لاکھ روپے کے پرائز بانڈ اور ایک کروڑ 89 لاکھ 20 ہزار روپے مالیت کی لگژری گاڑیاں شامل ہیں۔ آغا سراج درانی جیسی ’’بھاری بھرکم‘‘ شخصیت کے پاس ان ’’معمولی‘‘ اثاثہ جات کا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ وہ گزشتہ کم و بیش 11 سال سے حکومت میں شامل رہے ہیں۔ سندھ کے وزیر بلدیات بھی رہے۔ نیب نے جو اثاثہ جات ظاہر کئے ہیں وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں لیکن یہ وہ اثاثے ہیں جن کے ثبوت نیب کے پاس موجود ہیں۔ مزید ثبوتوں اور اثاثوں کا سراغ لگانے کے لئے کراچی کے علاقے ڈیفنس سوسائٹی، زمزمہ اسٹریٹ پر واقع ان کے وسیع و عریض بنگلے پر چھاپہ مارا گیا۔ سندھ کی خاتون وزیر شہلا رضا کے مطابق نیب کی ٹیم 7 گھنٹے تک بنگلے کے اندر تلاشی میں مصروف رہی۔ آغا سراج کے اہلخانہ بھی بنگلے کے اندر ہی رہے۔ انہوں نے بدسلوکی کا الزام بھی لگایا جس کی نیب حکام نے فوراً ہی تردید کر دی کہ نیب ٹیم کے ساتھ لیڈی سرچر بھی تھیں۔ بنگلے کی تلاشی کے دوران نیب ٹیم کو اہم دستاویزات ملی ہیں۔ نیب حکام کے مطابق آغا سراج کو اسلام آباد سے اس لئے گرفتار کیا گیا کہ وہ اپنے خلاف مقدمات اور دستاویزات پر اثرانداز ہو سکتے تھے۔ چھاپے کے دوران سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سے لے کر صوبائی وزیر سعید غنی، مرتضیٰ وہاب، امتیاز شیخ، منظور وسان، نثار کھوڑو اور سردار علی شاہ سمیت کئی صوبائی وزراء اور بعض حکام گیٹ پر موجود رہے۔ انہوں نے نیب ٹیم کو کارروائی سے روکنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ سندھ کابینہ اور بعض افسران بے بس تماشائی بنے ساری کارروائی دیکھتے رہے۔  بعدازاں وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے بھی بڑا شور ڈالا۔ سندھ اسمبلی میں بھی ہنگامہ رہا۔ سندھ اور وفاق کے حوالے سے ’’سندھ کارڈ‘‘ کھیلنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن ساری کوششیں بےسود ثابت ہوئیں۔ ریاست نے اپنی طاقت دکھا دی، جس کے آگے انفرادی کوششیں اور خواہشات مٹی کا ڈھیر ثابت ہوتی ہیں۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری بھی شخصی طاقت کے اوپر اداروں اور ریاستی قوت کی بالادستی کا مظہر ہے۔ اس گرفتاری پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول زرداری نے بہت واویلا کیا۔ آصف زرداری نے وفاقی حکومت کو ’’نابالغ‘‘ قرار دیتے ہوئے نیب کے افسر مسٹر منگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ منگی صاحب کو سندھ سے لایا گیا ہے اور وہ سندھیوں کو گرفتار کر رہے ہیں۔ آصف علی زرداری اپنی صدارت کے دور میں بھی ’’سندھ کارڈ‘‘ کھیل چکے ہیں، جب وہ سندھی ٹوپی پہن کر افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے لئے گئے تھے۔ ایک ٹی وی اینکر نے اس پر پروگرام کر دیا اور ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا۔ بہرحال ان کی صدارت محفوظ رہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں جیل جانا پڑا تو دیکھ لیں گے۔ جیل میرا دوسرا گھر ہے۔ نیب حکام کا کہنا ہے کہ آغا سراج درانی کے گھر کی خواتین اور کئی رشتہ دار بھی شریک جرم ہیں۔ نیب نے سابق وزیر بلدیات جام خان شورو، منظور وسان اور سہیل انور سیال کا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا ہے اور آئندہ دنوں میں بڑی گرفتاریاں ممکن ہیں۔ مجموعی طور پر 72 بڑی مچھلیوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ قرائن یہ بتاتے ہیں کہ سندھ سمیت ملک بھر میں گرفتاریوں اور کرپشن کی تحقیقات کا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ اس میں بڑی طاقتوں اور عالمی مالیاتی اداروں کی مرضی و منشاء بھی شامل ہے۔ ماضی کی حکومتوں میں غیر ملکی قرضوں کا بے دریغ غلط استعمال کیا گیا۔ رشوت اور کرپشن کا چلن عام ہونے سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا۔ عالمی مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کو اپنے قرضوں اور سرمائے کی فکر لاحق ہو گئی، ان کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی۔ 70 فیصد سے زائد غیر ملکی سرمایہ کار اپنا کاروبار لپیٹ کر واپس چلے گئے۔ ان حالات میں پاکستان کو ایسے حکمران کی ضرورت تھی جس پر دنیا اعتبار کرے، جس کی اچھی شہرت ہو، ایمانداری اور دیانتداری کا ٹریک ریکارڈ رکھتا ہو۔ ان ضروریات کی تکمیل کیلئے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر لایا گیا۔ عالمی ساہوکاروں کو اپنے قرضہ جات اور قسطوں کی فکر لاحق تھی۔ پہلا مرحلہ پاکستان کی مالی حالت کو بہتر بنانا اور ادائیگیوں کا توازن ٹھیک کرنا ہے۔ اس منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ چین، سعودی عرب، ملائشیا، ترکی، متحدہ عرب امارات اور قطر آگے بڑھ کر پاکستان کی مالی حالت بہتر کرنے میں مصروف ہیں۔ اس تناظر میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ آغا سراج درانی کے لئے ’’سندھ کارڈ‘‘ چلے گا تو اس کا اندازہ غلط ہے۔ ماضی کے حکمرانوں میں کوئی طیب اردگان نہیں ہے جس کے لئے عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے۔ اردگان نے استنبول کے میئر کی حیثیت سے 10 سال میں شہر کی کایا پلٹ دی تھی۔  کراچی کے شہریوں کا صرف ایک سوال ہے کہ جو لوگ اندرون سندھ، لاڑکانہ میں ماضی کے عظیم شہر موئن جو دڑو کے آثار کی حفاظت کرکے اسے جدید سیاحتی مرکز نہ بناسکے، وہ کراچی کی کیا خدمت کریں گے؟ تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل کے اس شہر کو اہرام مصر کے بعد ماضی کا دوسرا بڑا عجوبہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ اپنے وقت کا صاف و شفاف شہر تھا جس میں پینے کے پانی کے لئے 700 کنویں اور80 پبلک ٹوائلٹس تھے۔ آج کے کراچی میں بارش نہ ہو تو پانی کے ذخائر خشک ہیں اور شہری بوند بوند پانی کو ترستے ہیں۔ کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے صدر، بوہری بازار میں پبلک ٹوائلٹس تو درکنار خواتین تک کے لئے واش روم نہیں ہیں۔ کراچی اور موئن جو دڑو دونوں مقامات کے تحفظ اور ترقی کی ذمہ دار حکومت سندھ ہے لیکن موئن جو دڑو میں خاک اڑتی ہے۔ بیٹھنے کی جگہ ہے نہ اچھا کھانا کھانے کی۔ مستزاد یہ کہ موئن جو دڑو کے 90 فیصد آثار ایئرپورٹ کے نیچے دفن کر دیئے گئے ہیں۔ ساڑھے چار ہزار سال قبل اس شہر میں صاف ستھرے پبلک ٹوائلٹس تھے مگر آج یہ سہولت ناپید ہے۔ اس قدیم ترین شہر کو مصروف سیاحتی مرکز ہونا چاہئے تھا مگر یہاں ویرانی اور گندگی کا راج ہے۔ کم و بیش یہی کیفیت آج کے میٹرو پولیٹن کراچی کی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی پر کسمپرسی اور اختیارات سے محرومی کا احساس ہمیشہ حاوی رہا ہے۔ کم و بیش نصف صدی قبل ملک میں بائیں بازو کی سب سے بڑی اور طاقتور طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (کاظمی گروپ) نے صدر کے علاقے میں احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس کی قیادت امیر حیدر کاظمی کر رہے تھے۔ جو بعدازاں 1988 ء میں بے نظیر بھٹو حکومت کے دوران صحت کے وزیر بنائے گئے۔ اس مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر کاظمی نے سندھ میں ایک الگ صوبہ کراچی کی تخلیق کا مطالبہ کرتے ہوئے ون یونٹ کی تحلیل اور مجوزہ کراچی صوبے کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ آج یہی مطالبہ ایم کیو ایم اور دیگر تنظیمیں کر رہی ہیں۔ حال ہی میں سندھ پبلک سروس کمیشن کی سفارش پر 34 اسسٹنٹ کمشنروں کی تقرری کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان تمام افراد کا تعلق اندرون سندھ سے ہے۔ کسی ایک کا تعلق بھی شہری سندھ سے نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے بھی اس کی منظوری دے دی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تقرری پانے والے 3 ؍افراد کا براہ راست تعلق سندھ پبلک سروس کمیشن کے ایک ممبر سے ہے جبکہ ایک امیدوار پی پی رہنما سید خورشید شاہ کا بھتیجا ہے۔  نیب نے حیدرآباد اور اندرون سندھ دیگر علاقوں میں بھی چھاپہ مار کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ بلدیہ حیدرآباد کے شعبہ لینڈ ڈپارٹمنٹ پر چھاپہ مار کر اہم فائلیں تحویل میں لے لیں۔ لاڑکانہ، خیرپور، سکھر اور شکارپور سمیت مختلف شہروں میں چھان بین جاری ہے۔ ماضی کا کچرا صاف کیا جا رہا ہے۔ حقائق عوام کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔ کرپشن کے اس ٹریک ریکارڈ کو دیکھ کر کون سڑکوں پر آئے گا اور نعرے لگائے گا؟ پاکستان میں قائم ہونے والی حکومت، فوج اور عدلیہ پر مشتمل ٹرائیکا نے جو ضرب عضب، نظام کہنہ پر لگانا شروع کی ہے، ممکن ہے کہ اس کے نتائج میں تاخیر ہو لیکن عوام الناس کو یہ یقین ضرور ہے کہ پاکستان درست شاہراہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ پاکستان کو چلانے کے لئے زیادہ سے زیادہ سرمایہ درکار ہے اور یہ پیسہ دولت مندوں سے ہی حاصل ہو سکتا ہے جیسا کہ سعودی عرب میں ہو چکا ہے۔