تازہ شمارہ
Title Image
فضائی سفر کے راز  قسط  :  03

فضائی سفر کے راز قسط : 03

طیارے واقعتا کتنے محفوظ ہوتے ہیں؟ کمرشیل مسافر جیٹ طیاروں کو ہر پرواز پر جانے سے پہلے بہت سخت تکنیکی جانچ پڑتال کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور اس کی بہت زیادہ پابندی کی جاتی ہے۔ اگر کوئی تکنیکی خامی نظر آئے تو اسے دور کئے بغیر پرواز پر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس طرح اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ طیارہ پروازکرنے کی بہترین حالت میں ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر وہ طیارہ جس میں آپ پرواز کرتے ہیں، ہر طرح کی خامی سے بالکل مبرا اور انتہائی درست کام کی حالت میں ہوتاہے۔ طیارے بھاری بھرکم اور پیچیدہ مشینوں کا مجموعہ ہوتے ہیں جن میں بے شمار ایسے اضافی نظام کام کررہے ہوتے ہیں کہ اگر ایک کام نہ کرے تو دوسرا اس کی جگہ لے سکے۔ ان میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ ٹھیک طور پر کام نہیں کرتے اور یہ ایک ناگزیر مسئلہ ہے۔ پروازوں میں تاخیر سے بچنے کے لئے فضائی کمپنیوں نے معمولی نقائص یا ناکامیوں کے ضمن میں ایک حتمی حد یا درجہ (Threshold) مقرر کر رکھا ہے جو اگر موجود بھی ہوں تو انہیں ٹھیک کئے بغیر طیارے پرواز پر بھیج دیئے جاتے ہیں لیکن آپ پریشان اور تشویش میں مبتلا نہ ہوں۔ یہ بہت معمولی خامیاں ہوتی ہیں اور ان سے پروازوں کی سلامتی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ طیاروں کا اپنا ڈھانچہ اور ان کی تعمیر بہت ٹھوس اور مضبوط ہوتی ہے۔ پرواز کے دوران جب طیارے طوفان بادوباراں میں گھر جاتے ہیں تو ان پر کئی بار آسمانی بجلیاں بھی گرسکتی ہیں لیکن ان کو کوئی نقصان نہیں ہوتا کیونکہ آسمانی بجلیوں سے حفاظت کے اس میں تمام تر انتظامات ہوتے ہیں۔  

طیارے میں ڈاکٹر موجود ہے؟ بے شمار فلموں اور ٹی وی سیریز میں اس قسم کے مناظر دکھائے جاتے رہے ہیں کہ دوران پرواز کسی مسافر کو ہنگامی طبی امداد کی ضرورت پیش آجاتی ہے اور فلائٹ اٹینڈنٹس میں سے کوئی ایڈریس سسٹم پر یہ اعلان کرتا ہے ’’اس طیارے میں کوئی ڈاکٹر موجود ہے؟ اگر ہے تو برائے مہربانی ہم سے رابطہ کرے کیونکہ ایک مسافر کو ایمرجنسی میڈیکل امداد کی ضرورت ہے‘‘ حقیقت یہ ہے کہ فلائٹ اٹینڈنٹس خود طبی امداد کی فراہمی کے لئے تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور انہیں ابتدائی طبی امداد کی بہت اچھی تربیت دی جاتی ہے۔ تمام طیاروں میں متعدد فرسٹ ایڈ کٹس موجود ہوتی ہیں اور جو طیارے 30؍ سے زیادہ مسافروں کے ساتھ پرواز پر جاتے ہیں ان میں دھڑکن بحال کرنے والے Defibrillators آلات بھی ہوتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کے باوجود فضائی عملے کے ارکان میڈیکل پروفیشنلز نہیں ہوتے، اس لئے اگر ضرورت پیش آجائے تو وہ مسافروں میں موجود کسی ڈاکٹر کو مدد کے لئے طلب کرسکتے ہیں۔ سنگین صورت حال میں پائلٹس اپنی صوابدید پر کسی قریب ترین ایئر پورٹ پر طیارہ اتارنے کا فیصلہ بھی کرسکتے ہیں۔ ہنگامی طبی صورت حال اکثر پیش آتی ہیں۔ حال ہی میں اداکارہ کیری فشر کو لندن اور لاس اینجلس کے درمیان سفر کے دوران ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور مسافروں میں شامل ایک ڈاکٹر نے اس کی مدد کی تھی۔  طیاروں کی صفائی پر کتنی توجہ دی جاتی ہے؟ اگر آپ کو صفائی ستھرائی بہت زیادہ پسند ہے اور آپ اکثر وبیشتر فضائی سفر پر جاتے رہتے ہیں تو بہت ممکن ہےکہ یہ باتیں جو، اب آپ کو بتائی جارہی ہیں، پسند نہ آئیں۔ تمام فضائی کمپنیوں کے پاس محدود تعداد میں طیارے ہوتے ہیں اور ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے طیارے زیادہ سے زیادہ وقت فضائوں میں اڑان بھرتے رہیں کیونکہ طیارے جب تک ٹارمک پر کھڑے رہتے ہیں، فضائی کمپنیوں کا مسلسل نقصان ہوتا رہتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایئر لائنز کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ طیاروں کی مکمل دھلائی یا صفائی ستھرائی پر توجہ دے سکیں۔ ہر بار جب نیا فضائی عملہ طیارے کا چارج سنبھالتا ہے، اس کے ارکان طیارے کے فرش پر بچھے قالین کو ویکیوم سے صاف کرتے ہیں اور سیٹ کے سامنے باسکٹ میں اگر کچرا یا کوئی اور چیز مسافروں نے ڈالی ہو تو اسے خالی کردیتے ہیں لیکن ٹرے کی میزوں، نشستوں اور کھڑکیوں کی صفائی کیلئے ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ چونکہ امریکا کی شہری ہوا بازی کے انتظامی معاملات دیکھنے والے وفاقی ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی ذمہ داریوں میں طیاروں کی صفائی ستھرائی کی نگرانی شامل نہیں ہے، اسی لئے فضائی کمپنیاں اپنی سطح اور مزاج کے مطابق حفظان صحت کے انتظامات کرتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ طیارے اتنے صاف ستھرے نہیں ہوتے جتنی آپ توقع رکھتے ہیں۔  آکسیجن ماسک کی ضرورت کب پیش آتی ہے؟ فضائی سفر کے بارے میں بہت ساری افواہیں لوگوں میں مشہور ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ ان افواہوں سے ایک یہ بھی ہے کہ طیارے میں جو آکسیجن ماسک ہوتے ہیں اور ہر فضائی سفر کے آغاز سے پہلے فلائٹ اٹینڈنٹس ان کے استعمال کا جو مظاہرہ کرتی ہیں، وہ محض ڈھکوسلا ہوتا ہے کیونکہ آکسیجن ماسک سے جڑی نلکیاں آکسیجن ٹینک سے منسلک نہیں ہوتی ہیں یعنی مسافروں کو محض طفل تسلی دی جاتی ہے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ طیارے میں ہنگامی صورتحال میں استعمال کئے جانے والے ان آکسیجن ماسک سے حقیقی معنوں میں آکسیجن کی فراہمی ہوتی ہے اور مسافر15منٹ تک اس ماسک کی مدد سے آکسیجن لے سکتے ہیں۔ اگرچہ15منٹ کا وقت کچھ زیادہ محسوس نہیں ہوتا لیکن یہ اتنا وقت ضرور ہوتا ہے کہ پائلٹ طیارے کو کم تر بلندی پر لے آئے جس کے بعد کیبن میں ہوا کا دبائو مساوی ہو جائے، مسافروں کو دوبارہ آسانی کے ساتھ سانس لینے کا موقع مل جائے اور انہیں بدستور آکسیجن ماسک استعمال کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق یہ آکسیجن ماسک40ہزار فٹ کی بلندی تک ہنگامی صورتحال میں مسافروں کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ طیارے میں اگر کیبن پریشر کم ہو جائے تو مسافروں کو آکسیجن ماسک لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ انہیں مناسب مقدار میں آکسیجن ملتی رہے۔ یہ ماسک انہیں Hypoxiaسے بچاتے ہیں۔ یہ وہ طبی صورتحال ہے جس میں جسم آکسیجن سے محروم ہونے لگتا ہے اور اعضاء معمول کے مطابق کام کے قابل نہیں رہتے۔ ایسی صورت میں مسافر45سیکنڈ کے اندر بے ہوش ہوسکتے ہیں اور چند منٹوں میں موت واقع ہوسکتی ہے۔

ڈائٹ کوک کی فرمائش کبھی نہ کریں اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ فلائٹ اٹینڈنٹس کے ساتھ آپ کے تعلقات خوشگوار رہیں تو ایک حیران کن کام آپ کو کبھی نہیں کرنا چاہئے۔ یعنی ایئر ہوسٹس سے ’’ڈائٹ کوک‘‘ کی فرمائش کبھی نہیں کرنی چاہئے۔ اس کی وجہ کاربونیٹڈ مشروب میں استعمال ہونے والے مرکبات ہیں۔ پروازوں کے دوران مختلف اقسام کے مشروبات مسافروں کو پیش کئے جاتے ہیں لیکن طیارہ جب ہزاروں فٹ کی بلندی پر محو پرواز ہو، اس وقت اس قسم کے جھاگ دار مشروب کے جھاگوں کو گلاس کی تہہ میں بیٹھنے کیلئے خاصا وقت درکار ہوتا ہے جبکہ دیگر مشروبات باآسانی گلاسوں میں انڈیلے جاسکتے ہیں۔ فلائٹ اٹینڈنٹس کا یہ کہنا ہے کہ ڈائٹ کوک کو گلاس کے اوپر سے چھلکنے یا بہہ نکلنے سے روکنے کیلئے انہیں یہ مشروب گلاس میں انڈیلتے وقت دیگر مشروبات کے مقابلے میں، جو وہ مسافروں کوپیش کرتے ہیں، تقریباً تین گنا زیادہ وقت لگتا ہے۔ جب آپ پورے طیارے کی خاطرداری کی کوششوں میں مصروف ہوں، جس میں غصیلے اور تنک مزاج مسافروں کی کوئی کمی نہیں ہوتی، اس وقت ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ ایسے میں ڈائٹ کوک کی فرمائش کرنے والے مسافر چند سیکنڈ کو کئی منٹ تک طول دینے اور فضائی میزبانوں کی کوفت کا سبب بن سکتے ہیں۔  لینڈنگ سے پہلے روشنیاں کیوں مدھم کی جاتی ہیں؟ کیا آپ کو کبھی اس بات پر حیرت ہوئی کہ ٹیک آف اور لینڈنگ سے پہلے طیارے کے اندر کی روشنیاں فضائی عملہ مدھم کیوں کردیتا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مدھم روشنی کے ذریعہ ماحول کو رومان پرور بنانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن روشنی کی تبدیلی کی ایک زیادہ عملی وجہ بھی ہے۔ کوئی بھی طیارہ جس وقت ٹیک آف کرتا ہے یعنی اڑان بھرتاہے یا اترنے کی تیاری کررہا ہوتاہے، یہ دونوں ایسے اوقات ہوتے ہیں جب حادثات کا سب سے زیادہ خطرہ ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر قسم کے حادثات سے محفوظ رکھے، تاہم عموماً پرواز کے یہی وہ مراحل ہوتے ہیں جب طیارے زمین سے ٹکرا کر تباہ ہوتے ہیں۔ طیارے کے اندر کی روشنی ان اوقات میں مدھم اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ آنکھیں نیم اندھیرے میں کسی حد تک دیکھنے کے قابل ہوجائیں تاکہ اگر خدانخواستہ طیارہ زمین سے ٹکرائے تو مسافر زیادہ بہتر طریقے سے جان بچانے کی کوشش کرسکیں۔ علاوہ ازیں مدھم روشنی انہیں اس قابل بھی بناتی ہے کہ وہ ایمرجنسی لائٹس زیادہ واضح طور پر دیکھ سکیں۔  پرواز کا بہترین وقت؟ کسی بھی فضائی سفر پر جانے سے پہلے مسافروں کو یہ مخمصہ درپیش ہوتا ہے کہ کس پرواز کا انتخاب کیا جائے؟ صبح سویرے روانہ ہونے والی پرواز کا؟ یا شام کو اڑان بھرنے والی کا یا پھر رات میں جانے والی فلائٹ کو ترجیح دی جائے؟ اگر آپ ایئر کریو سے یہی سوال کریں گے تو عموماً ان کا ایک ہی جواب ہوگا کہ صبح سویرے والی پروازیں بہترین ہوتی ہیں۔ یقیناً اس کے لئے آپ کو معمول سے قبل بستر چھوڑنا پڑے گا لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ علی الصباح موسم خوشگوار ہوتا ہے، جس کی وجہ سے دوران سفر طیارے کو طوفان بادوباراں کے باعث تلاطم خیزی (Turbulence)کا کم سامنا ہو سکتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ تھکے ہوئے ہیں یا نیند پوری نہیں ہوئی ہے تو بھی آپ سفر کے دوران نیند کے مزے لیتے ہوئے وقت گزار سکتے ہیں۔ امریکی بیورو آف ٹرانسپورٹیشن کے اعدادوشمار کے مطابق پرواز کا بہترین وقت صبح 6 اور 7 کے درمیان ہوتا ہے۔ اس ٹائم فریم میں جن پروازوں کی روانگی مقرر ہوتی ہے، یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ اوسطاً صرف8.6منٹ تاخیر سے پہنچتی ہیں۔ علاوہ ازیں جو پروازیں صبح6بجے سے پہلے یا صبح 7 اور 8کے درمیان ٹیک آف کرتی ہیں ان کی روانگی نسبتاً زیادہ ٹھیک وقت پر ہوتی ہے۔