تازہ شمارہ
Title Image
برطانیہ کے متوقع بادشاہ پرنس چارلس کی زندگی کے سنسنی خیز نشیب و فراز - قسط  :   05

برطانیہ کے متوقع بادشاہ پرنس چارلس کی زندگی کے سنسنی خیز نشیب و فراز - قسط : 05

وہ ہمیشہ سے احساس تنہائی کا شکار تھے

جوناتھن ڈمبلے نے پرنس چارلس کی جو سوانح عمری لکھی تھی، اس کی وجہ سے ان کا امیج ان کے اپنے والدین، یعنی پرنس فلپ اور ملکہ الزبتھ کی نظر میں بھی خراب ہوگیا تھا کیونکہ اس میں اُنہوں نے بتایا تھا کہ ان کا بچپن قطعی خوشگوار نہیں گزرا تھا۔ ان کے والدین اس طرح ان کے قریب نہیں تھے جس طرح عام بچوں کے والدین ہوتے تھے۔ پرنس فلپ اور ملکہ الزبتھ، دونوں کے رویّے میں پرنس چارلس کے لیے سردمہری اور قدرے سخت گیری تھی۔ پرنس چارلس کے خیال میں تمام شاہی محلات کے ماحول میں ہی سردمہری تھی۔ عجیب اتفاق یہ ہے کہ یہی بات پرنسیس ڈیانا نے پرنس چارلس سے علیحدگی کے بعد کہی تھی۔ پرنس چارلس نے اپنی سوانح عمری میں یہ بھی بتایا تھا کہ شاید شہزادہ ہونے کی وجہ سے اسکول میں بھی کوئی بچہ نہ تو ان سے دوستی کرتا تھا اور نہ ہی ان کے قریب آتا تھا۔ وہ زندگی بھر سے احساس تنہائی کا شکار چلے آ رہے تھے۔ نوجوانی میں پرنس چارلس روحانیت کی طرف بھی مائل ہوئے۔ اُنہوں نے کسی ایسی شخصیت کو تلاش کرنے کی کوشش کی جو روحانیت کے سلسلے میں ان کی رہنمائی کر سکے۔ انہیں ایک ایسا شخص مل بھی گیا۔ اس کا نام لارنس وانڈر پوسٹ تھا۔ اس کا تعلق ساؤتھ افریقہ سے تھا۔ وہ سیاح بھی تھا اور رائٹر بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ قدرے سنکی قسم کا فلسفی اور روحانیت میں عمل دخل رکھنے والا آدمی بھی معلوم ہوتا تھا۔ اس نے پُراسراریت پر مبنی کچھ اصطلاحیں استعمال کرتے ہوئے پرنس چارلس کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے آپ میں جھانکیں، اپنے آپ کو دریافت کریں۔ اس نے پرنس چارلس کو بتایا کہ انہیں برطانیہ کی بادشاہت کے لیے زیادہ وقت نہیں ملے گا لیکن وہ کوشش کریں تو پرنس آف ویلز کی حیثیت سے ہی اپنے آپ کو ایک عظیم شخصیت ثابت کر سکتے ہیں۔ لارنس وانڈر پوسٹ مختلف مقامات پر، مختلف موضوعات پر لیکچر بھی دیتا تھا۔ اس کی تقریریں اور باتیں سن سن کر پرنس چارلس نے پُراسراریت، روحانی طاقتوں، قدیم عیسائیت اور اسلام کے بارے میں بہت سے نظریات بھی قائم کرلیے جن میں سے زیادہ تر توہمات پر مبنی تھے۔ چرچ آف انگلینڈ بھی ان کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہونے لگا۔ سوانح عمری کے بعد پرنس نے اپنے بارے میں جو دستاویزی فلم بنوائی، اسے دیکھ کر بھی لوگ کافی حیران ہوئے۔ اس ڈاکیومنٹری میں ایک جگہ پرنس ناظرین کی منّت کرتے نظر آئے کہ خدارا، وہ انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔ اُنہوں نے کہا ’’لوگ سمجھتے ہیں، شہزادہ ہونا بڑی خوش قسمتی کی بات ہے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں، ایک شہزادے کی حیثیت سے زندگی گزارنا کوئی مذاق نہیں۔ آپ سمجھتے ہوں گے، شہزادوں کی زندگی میں تو بس عیش ہی عیش ہوتے ہوں گے۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ میں آپ کو بتا نہیں سکتا، کنکریٹ کی ان بلند و بالا دیواروں کے پیچھے زندگی کیسی خوفناک ہوتی ہے۔‘‘ اس دستاویزی فلم میں وہ ایک صاحب بصیرت اور مضبوط رہنما کے بجائے کمزوریوں کا مجموعہ نظر آئے۔ وہ کیمرے کی طرف دیکھ کر آنکھیں گھما گھما کر بولتے چلے گئے۔ کبھی وہ دانت پیستے، کبھی یوں لگتا جیسے وہ ناظرین پر آنکھیں نکال رہے ہوں اور خفا ہو رہے ہوں۔ ایک جگہ ایک بچے نے ان سے پوچھا ’’آپ کون ہیں؟‘‘ اُنہوں نے جواب دیا ’’کاش مجھے یاد ہوتا کہ میں کون ہوں!‘‘  لوگ حیران پریشان تھے کہ یہ کس قسم کی ڈاکیومنٹری ہے!  ادھر کمیلا پارکر سے تعلقات کے سلسلے میں پرنس کسی کے مشورے پر عمل کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے تھے۔ کمیلا پارکر بھی اس معاملے میں اپنی روش پر قائم تھیں۔ وہ چاہتیں تو پرنس چارلس اور پرنسیس ڈیانا میں صلح ہوسکتی تھی۔ اس کے لیے انہیں صرف یہ کرنا پڑتا کہ وہ ان دونوں کے درمیان سے ہٹ جاتیں لیکن وہ بھی ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ البتہ ایک تقریب میں انہوں نے ڈیانا کے مقابلے میں زیادہ تحمل اور قوت برداشت کا مظاہرہ کیا۔ یہ 1989ء کے دوران کسی رات کا ذکر ہے، جب پرنسیس ڈیانا غیرمتوقع طور پر ایک ایسی پارٹی میں پہنچ گئیں جہاں کمیلا پارکر اور ان کے شوہر اینڈریو پارکر بولز پہلے سے موجود تھے۔ عام طور پر پرنسیس ڈیانا اس بات کے لیے مشہور تھیں کہ وہ کسی بھی مسئلے پر جارحانہ، تلخ اور تیزوتند انداز میں بات نہیں کرتی تھیں لیکن اس روز انہوں نے اپنی یہ روایت توڑ دی۔ ان کے آتے ہی محفل میں سناٹا چھا گیا تھا۔ لوگ کبھی ان کی طرف اور کبھی کمیلا پارکر کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کمیلا پارکر کو دیکھ کر پرنسیس ڈیانا سیدھی انہی کی طرف گئیں اور خاصی کرخت آواز میں چلّا کر بولیں ’’تم چارلس کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتیں؟‘‘ کمیلا پارکر کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ وہ جلد غصے میں آ جاتی ہیں اور اس کیفیت میں ان کی آواز بھی کرخت ہو جاتی ہے لیکن اس روز معاملہ بالکل ہی الٹا ہوا۔ نرم خو، شائستہ اور دھیمے مزاج کی حامل پرنسیس ڈیانا تیزوتند اور کرخت آواز میں بات کر رہی تھیں جبکہ کمیلا پارکر نے خلاف توقع بالکل نرم اور دھیمی آواز میں، نہایت تحمل سے کہا ’’بہتر ہو گا کہ تم اس سلسلے میں چارلس سے بات کرو۔ ویسے بھی یہ جگہ اور یہ محفل اس قسم کی باتوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔‘‘ غنیمت تھا کہ پرنسیس ڈیانا نے بات کو طول نہیں دیا اور کمیلا سے کچھ دور جا کر ایک نشست سنبھال لی۔ اس تقریب میں باقی وقت انہوں نے نارمل انداز میں گزارا۔ پرنس چارلس نے میڈیا کے ذریعے عوام کی نظر میں اپنا امیج بہتر بنانے کے لیے مارک بولینڈ کو ملازم رکھا تھا۔ ان کے خیال میں ان کے امیج کو خراب کرنے کی سب سے زیادہ ذمّے دار کمیلا پارکر نہیں، بلکہ ڈیانا تھی۔ پرنس چارلس نے کئی بار مارک بولینڈ کو بتایا کہ ان کی نوجوان بیوی کی تعلیم و تربیت اچھی نہیں ہوئی تھی، اس نے اے لیول اور او لیول نہیں کیا تھا، اس کی زندگی میں نظم و ضبط، قرینہ اور ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیں ہے، اسے تھیڑ، شاعری، موسیقی اور اوپیرا سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ پرنس چارلس یہ بات کرتے وقت شاید بالکل ہی بھول گئے تھے کہ پرنسیس ڈیانا کو تو اوپیرا اور بیلے ڈانس بہت پسند تھا، وہ روز پیانو بجاتی تھیں اور وہ اگر پاپ کنسرٹس میں جاتی تھیں تو صرف فلاحی کاموں کے لیے عطیات جمع کرنے کی غرض سے جاتی تھیں۔ پرنس چارلس یہ سب باتیں مارک بولینڈ سے کرتے تو تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی چاہتے تھے کہ میڈیا میں یہ باتیں ان کے حوالے سے نہ آئیں۔ وہ تو ڈیانا کی ذہنی حالت کے بارے میں بھی شک و شبے کا اظہار کرتے تھے لیکن اس سلسلے میں بھی یہی چاہتے تھے کہ میڈیا میں یہ بات ان سے منسوب کر کے نہ کی جائے۔ مارک بولینڈ سے پرنس چارلس کو یہ بھی توقع تھی کہ وہ کمیلا پارکر کا عوام میں ایسا امیج بنائے گا جیسے وہ ایک نہایت اچھی خاتون تھیں، عمدہ اوصاف کی مالک تھیں، دنیا جہان کی خوبیاں ان میں جمع تھیں، پرنس چارلس ان سے محبت کرتے تھے لیکن بے شمار مجبوریوں کی وجہ سے وہ اس خاتون کی رفاقت سے محروم رہ کر زندگی گزار رہے تھے جسے وہ دل و جان سے چاہتے تھے۔  پرنسیس ڈیانا سے بھی مارک بولینڈ کو یہی تاثر ملا تھا کہ پرنس چارلس، کمیلا پارکر سے محبت کرتے ہیں، لیکن مارک بولینڈ کو اس بات پر یقین نہیں آتا تھا۔ کیا واقعی یہ محبت تھی یا دو ادھیڑ عمر افراد اپنی اپنی ناکام شادیوں کی تلخی بھلانے کے لیے ایک دوسرے کی ذات میں سہارا تلاش کر رہے تھے؟ وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ پرنس چارلس شادی کے لیے موزوں آدمی ہی نہیں تھے۔ انہیں درحقیقت کسی بھی عورت سے شادی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی۔ وہ شاید مستقل طور پر کسی بھی عورت کے ساتھ نہیں رہ سکتے تھے یا پھر شاید وہ کسی ایسی عورت کے ساتھ رہ سکتے تھے جو انہیں ایک بچے کی طرح رکھتی۔ مارک بولینڈ کو معلوم تھا کہ پرنس چارلس نے ایک بار کمیلا سے کہا تھا ’’مجھے ایک ہفتے میں کئی بار تمہاری ضرورت محسوس ہوتی ہے۔‘‘ اس پر کمیلا نے کہا تھا ’’مجھے تو سارا ہفتہ ہی تمہاری ضرورت محسوس ہوتی ہے۔‘‘ اس کے علاوہ کمیلا پارکر نے یہ بھی کہا تھا ’’میری تو زندگی کا مقصد ہی تمہارا خیال رکھنا اور تم سے محبت کرنا ہے۔‘‘ مارک بولینڈ سوچتا تھا کہ کمیلا پارکر میں آخر کوئی بات تو تھی جو پرنس چارلس پلٹ پلٹ کر اس کی طرف واپس جاتے تھے اور اس کی خاطر اپنے پورے خاندان ہی کی نہیں بلکہ ساری دنیا کی مخالفت مول لینے کے لیے تیار رہتے تھے۔ 1996ء میں اس وقت کے برطانوی وزیراعظم جان میجر روایت اور قاعدے کے مطابق ملکہ سے سالانہ ملاقات کے لئے آئے تو انہوں نے بھی دبی دبی زبان میں ملکہ سے تذکرہ کیا کہ پرنس چارلس نے کمیلا پارکر کا امیج بہتر بنانے اور دنیا بھر میں انہیں زیادہ سے زیادہ شہرت دلانے کی جو مہم چلائی ہوئی ہے، اس سے عوام میں کمیلا پارکر کے بارے میں کوئی اچھا تاثر جانے کے بجائے اضطراب اور ناپسندیدگی کے جذبات پیدا ہو رہے ہیں۔ جان میجر نے یہ مشورہ بھی دیا کہ پرنس کو اپنے پرانے عشق کی چنگاری کو چنگاری کی طرح ہی راکھ میں دبا کر رکھنا چاہیے تھا، اسے شعلہ بنا کر دنیا کے سامنے اس کی نمائش نہیں کرنی چاہیے۔ جس وقت جان میجر شاہی محل میں ملکہ کو یہ مشورہ دے رہے تھے، اسی دوران پرنس چارلس مختلف اجتماعات میں شرکت کے دوران حکومت پر تنقید کر رہے تھے کہ گائوں دیہات میں ’’میڈکائو‘‘ کی بیماری پھیلی ہوئی تھی جس کی وجہ سے کسان سخت پریشان تھے لیکن حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں کر رہی تھی۔ پرنس چارلس کی یہ بھی ایک خاص عادت ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں پر ہی تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں کبھی نہیں جھانکتے۔ جان میجر کا ملکہ کو پرنس چارلس کے بارے میں مشورہ دینا بے کار تھا کیونکہ جان میجر ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو شاہی خاندان کے کسی بھی فرد پر اثرانداز ہو سکتے، بلکہ شاید وہ تو عوام پر بھی اپنا اثررسوخ کافی حد تک کھو چکے تھے کیونکہ وہ اگلا الیکشن ہار گئے تھے۔ برطانوی وزیراعظم ملکہ سے سالانہ ملاقات کے لیے آتے تھے تو اس کے بعد پرنس فلپ کی سربراہی میں شاہی خاندان کے افراد کی بھی ایک سالانہ میٹنگ ہوتی تھی۔ اس روز بھی جان میجر کے جانے کے بعد شاہی خاندان کی میٹنگ ہوئی جس میں پرنس چارلس بھی شریک تھے۔ اس میٹنگ میں مختلف شعبوں کے سربراہان بھی شریک ہوتے تھے اور شاہی خاندان یا بادشاہت کے مختلف انتظامی اور مالی معاملات کے بارے میں اس طرح غور کیا جاتا تھا جیسے بادشاہت ایک بہت بڑی کمپنی یا کارپوریشن ہو اور اس کا انتظام صحیح طور پر چلائے رکھنے کے لیے صلاح مشورے کئے جارہے ہوں۔ اس روز کی میٹنگ میں سرفہرست موضوع گفتگو بکنگھم پیلس کے مالی معاملات تھے۔ آمدنی اور اخراجات کے بارے میں بہت سے فیصلے کئے گئے۔ (جاری ہے)