تازہ شمارہ
Title Image
سپر جموجیٹ کا دور ختم ہوا

سپر جموجیٹ کا دور ختم ہوا

2021 میں A380 طیارے ببنا بند ہوجائیں گے

یورپ کی طیارہ ساز کمپنی ایئربس نے اپنے مسافربردار سپر جمبو جیٹ A-380کی مزید تیاری اور فروخت بند کرنے کا فیصلہ کر کیا ہے۔ واضح رہے کہ A-380 سائز اور مسافروں کی گنجائش کے اعتبار سے اب تک دنیا کا سب سے بڑا طیارہ تھا۔ کمپنی کے پاس اس وقت تک اس طیارے کے جو آرڈرز موجود ہیں، صرف ان کے مطابق مطلوبہ تعداد میں یہ طیارے مہیا کرنے کے بعد 2021ء میں ان طیاروں کی پروڈکشن مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔ اپنی جسامت کے اعتبار سے یہ سپرجمبو جیٹ طیارہ گویا تمام طیاروں کا بادشاہ تھا اور پچھلے دس سال کے دوران فضائوں میں اس کا راج تھا لیکن مختلف وجوہ کی بنِا پر دنیا میں اب اس کی طلب روز بہ روز کم ہوتی جا رہی تھی۔ اس سے پہلے عہدساز طیارے بوئنگ 747 نے ایک طویل عرصے تک فضائوں پر راج کیا لیکن پھر اندرونی طور پر دو منزلہ ساخت اور 555 تا 853 مسافروں کی گنجائش کے ساتھ A-380 نے بوئنگ 747 کی اجارہ داری ختم کر دی تھی مگر اب یہ عہدساز طیارہ خود فضائوں سے دھیرے دھیرے غائب ہونے کو ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس طیارے کی طلب یا مانگ دنیا میں روز بہ روز کم ہوتی جا رہی تھی اور اس کی تیاری اب گھاٹے کا سودا بنتی جا رہی تھی۔ تمام ایئرلائنز اب بہت بڑے جیٹ طیاروں کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹے جیٹ طیاروں کو ترجیح دینے لگی ہیں۔ A-380 بنانے والی کمپنی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ 2021ء میں وہ اب تک موصول ہونے والے آرڈرز کا آخری طیارہ ڈلیور کرے گی اور اس کے بعد جہازسازی کی صنعت کا یہ اہم باب ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ٹام اینڈرس کا کہنا ہے کہ اس طیارے کی پروڈکشن بند کرنا ان کے لیے ایک تکلیف دہ فیصلہ ہے لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں رہ گیا تھا، ہم نے اس جہاز کی تیاری کا منصوبہ بنانے میں بہت محنت کی تھی، بہت وسائل صرف کئے تھے، اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور پھر اس بے مثال طیارے کو مارکیٹ میں متعارف کرانے میں ہزاروں افراد کی صلاحیتیں کام آئیں لیکن اب ہمیں وقت اور زمانے کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ A-380 کی پروڈکشن بند کرنے کے فیصلے سے 3500؍افراد کی ملازمتیں بھی ختم ہو سکتی ہیں جبکہ 2018ء کے دوران کمپنی کو پہلے ہی اس جہاز کی تیاری جاری رکھنے کی وجہ سے 523 ملین ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔ کمپنی کو ابھی ملازمتوں کے خاتمے کے سلسلے میں مزدور یونینوں سے مذاکرات بھی کرنے ہیں اور بریگزٹ کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جانے کے بعد بوئنگ کمپنی سے اپنے ایک تنازعے کے سلسلے میں یورپی حکومت کو ایک ارب یورو کی ادائیگی بھی کرنی ہے۔ سپر جمبو جیٹ کو مارکیٹ میں متعارف کرانے کا فیصلہ 2000ء میں کیا گیا تھا اور 2008ء میں اس نے باقاعدہ مسافر برداری کا کام شروع کیا تھا لیکن گزشتہ کئی سال سے مارکیٹ میں ایک کامیاب طیارے کے طور پر اس کا وجود برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد ہو رہی تھی۔ اس اعتبار سے اس طیارے نے کچھ زیادہ طویل عرصے فضائوں پر حکمرانی نہیں کی۔ اس کی تیاری بند ہونے کی خبر سے جہاں ایئربس کی حریف کمپنی بوئنگ میں خوشی کی دبی دبی لہر دوڑی ہوگی، وہاں جنوبی فرانس کے شہر ٹولائوس میں واقع ایئربس کے ہیڈکوارٹر میں افسردگی کی لہر محسوس کی گئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ پس منظر میں شاید کہیں دبا دبا سا طمانیت کا احساس بھی تھا کیونکہ سپر جمبوجیٹ کے وجود کو برقرار رکھنے کا مسئلہ روز بہ روز زیادہ سے زیادہ پیچیدہ ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے باوجود ایئربس نے گزشتہ سال کے دوران اپنی آمدنی میں مجموعی طور پر 29فیصد زائد منافع کا اعلان کیا تھا۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ایئربس اپنے سپر جمبو جیٹ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ A-380 سپر جمبو جیٹ کی تیاری فوری طور پر بند نہیں کی جا رہی۔ ابھی کمپنی سترہ طیارے مزید تیار کر کے گی جن میں سے 14متحدہ عرب امارات کی ایئرلائن کیلئے اور 3طیارے جاپان کی ایئرلائن کیلئے ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایئربس کے چیف ایگزیکٹو ٹام اینڈرس نے ان تمام ایئرلائنز کو جو سپر جمبو جیٹ طیارے استعمال کر رہی ہیں، یقین دلایا ہے کہ جب تک یہ طیارے پرواز کرتے رہیں گے، کمپنی ان کی مرمت اور دیکھ بھال کے سلسلے میں خدمات فراہم کرتی رہے گی۔ جب سپر جمبو جیٹ متعارف کرایا گیا تھا تو طیارہ سازی کی صنعت کے تجزیہ کاروں نے اندازہ ظاہر کیا تھا کہ یہ طیارہ، 747 سے زیادہ طویل زندگی پائے گا اور 747 اس کے سامنے ہی دنیا سے معدوم ہو جائے گا مگر 747 اس سال اپنی پچاسویں سالگرہ منا رہا ہے جبکہ A-380 تقریباً دو سال بعد تیار ہونا بند ہو جائے گا۔ جس وقت یہ سپر جمبو جیٹ مارکیٹ میں آیا تھا تو اس کی بہت تعریفیں ہوئی تھیں۔ دیگر طیاروں کے مقابلے میں، اس میں بہت سی نئی خوبیاں تھیں جنہیں بہت سراہا گیا تھا۔ 2005ء میں جب مسافروں نے اس میں سفر کرنا شروع کیا تو اس کی کشادگی، بڑی بڑی کھڑکیوں، اونچی چھت اور کم شور کرنے والے انجنوں کی خوب تعریف کی۔ ان طیاروں میں کچھ ایسے بھی تھے جن کے واش رومز محض واش رومز نہیں تھے بلکہ ان میں نہانے کا بھی انتظام تھا۔ طیاروں کے اندر ہی، دونوں منزلوں پر لائونج، ڈیوٹی فری شاپس اور بار بھی موجود تھے۔ طیارہ سازی کی صنعت کے ایک تجزیہ کار رچرڈ ابولافیا کا کہنا ہے ’’A-380 کا بند ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ایک نہ ایک روز یہ ہونا ہی تھا۔ ایک اچھی بات ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران طیارہ سازی کی صنعت میں استحکام رہا ہے جس کی وجہ سے یہ صنعت اتنے بڑے طیارے کی پروڈکشن بند ہو جانے کا جھٹکا برداشت کر جائے گی۔ بوئنگ کیلئے یہ طیارہ مارکیٹ میں آنے سے پہلے ایک چیلنج ضرور تھا لیکن مارکیٹ میں آنے کے بعد یہ بوئنگ کے لیے کوئی چیلنج نہیں رہا اور اس کی وجہ سے بوئنگ طیاروں کی مانگ میں کوئی فرق نہیں پڑا جبکہ ایئربس کو اُمید تھی کہ ان کا سپر جمبو جیٹ، مسافروں کی زیادہ گنجائش کی وجہ سے بوئنگ کے 747 طیارے کی مارکیٹ کو ضرور متاثر کرے گا لیکن ان کی یہ توقع پوری نہیں ہوئی۔ ایئرلائنز اس سے قدرے چھوٹے جمبو جیٹ کو ہی ترجیح دیتی رہیں۔ سپر جمبو جیٹ کو رکھنا بھی آسان نہیں۔ اس کیلئے ایئرپورٹ اور ٹرمینل کے ڈیزائن میں تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں، خصوصی رن وے تعمیر کرنا پڑتا ہے۔ ایئربس نے اس اُمید پر بھی سپر جمبو جیٹ متعارف کرایا کہ اس کے ذریعے وہ اپنی حریف کمپنی بوئنگ کو ایک نیا چیلنج دے سکے گی اور بہتر طور پر اس کا مقابلہ کر سکے گی لیکن 2005ء میں اس طیارے کی پہلی خالی پرواز سے ہی اندازہ ہونے لگا تھا کہ اس جہاز کے سلسلے میں کچھ مسائل رہیں گے۔ ایئربس کی فرانسیسی اور جرمن انتظامیہ کے درمیان پہلے ہی کشیدگی چل رہی تھی جس کی وجہ سے آرڈرز کے مطابق طیارے بنانے میں تاخیر ہو رہی تھی اور ان پر اندازوں سے زیادہ لاگت آ رہی تھی۔ ان حالات میں کمپنی کی تنظیم نو کرنی پڑی جس کی وجہ سے ہزاروں نئے ملازم رکھنا پڑے۔ یوں کمپنی کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوا۔ کمپنی کے اس سب سے بڑے اور چار انجن والے طیارے کی فروخت اس لیے بھی کم ہوئی کہ انہی دنوں کمپنی نے اپنے دو انجن والے ہلکے طیاروں میں تبدیلیاں کرکے انہیں بہتر بنایا تھا جن میں کمپنی کا A-350 طیارہ بھی شامل تھا۔ صرف ایئربس نے ہی نہیں بلکہ بوئنگ نے بھی اپنے اسی قسم کے طیاروں 787 اور 777 کو بہتر بنایا تھا۔ تاہم A-380 کو بند کرنے کا اعلان گزشتہ ماہ غیرمتوقع طور پر یا ماہرین کے اندازوں سے پہلے اس وقت سامنے آیا جب ایئربس نے طیاروں کے مزید آرڈر لینا بند کر دیئے۔

ایئربس کے چیف ایگزیکٹو کیا کہتے ہیں ایئربس کے چیف ایگزیکٹو ٹام اینڈرس کا کہنا ہے کہ 2000ء میں جب ہم نے A-380 کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تو ہمیں قطعی اندازہ نہیں تھا کہ بیس سال بعد طیاروں کی مارکیٹ کی صورتحال کیا ہوگی۔ ہمارے لیے ان طیاروں کی پروڈکشن بند کرنا ایک تکلیف دہ فیصلہ تھا۔ ہم نے اس سلسلے میں بہت محنت کی، بہت وسائل اور سرمایہ صرف کیا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کاروبار کے میدان میں حقیقت پسند بن کر سوچنا پڑتا ہے۔

عالمی جریدے ’’بلومز برگ‘‘ کا اظہارِ خیال صنعت، معیشت اور کاروبار جیسے موضوعات کا احاطہ کرنے والے عالمی جریدے ’’بلومز برگ‘‘ نے ایئربس کے سپر جمبو جیٹ A-380 کی تیاری بند کرنے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ فیصلہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے بعض اوقات کوئی مریض بہت زیادہ تکلیف میں ہوتا ہے، اس کا علاج ممکن نہیں ہوتا اور اس کے بچنے کی کوئی اُمید نہیں ہوتی تو ڈاکٹروں کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں اس مریض کو کوئی ایسا انجکشن لگانے کی اجازت مل جائے جس سے وہ موت کی نیند سو جائے اور اس کی تکلیف کا خاتمہ ہو جائے۔ وہ رحم اور ہمدردی کے جذبے کے تحت ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ سپر جمبو جیٹ کے بند ہونے کے آثار تو کافی پہلے سے نظر آ رہے تھے لیکن اب کمپنی نے باقاعدہ اس کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے کمپنی کو کوئی خاص مالی نقصان تو نہیں ہوگا لیکن ان کی ساکھ اور فخر کا احساس ضرور متاثر ہوگا۔ ایئربس کا یہ طیارہ اپنی کشادگی، گنجائش اور آسائشوں کی وجہ سے مسافروں میں تو بہت مقبول تھا لیکن ایئرلائنز میں اتنا مقبول نہیں ہو سکا تھا۔ آرڈرز کی منسوخی سے ایئربس کا سالانہ منافع 522 ملین یورو سے 463 ملین یورو پر آ جائے گا لیکن کمپنی یہ جھٹکا سہہ جائے گی اور آئندہ تین سال میں اس کے منافع میں یہ کمی دُور ہو جائے گی اور منافع دوبارہ موجودہ سطح پر آ جائے گا۔