تازہ شمارہ
Title Image
آصف زرداری کی گھن گھرج کیا نتائج لائے گی؟

آصف زرداری کی گھن گھرج کیا نتائج لائے گی؟

سابق صدر مملکت اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے سخت سیاسی مؤقف اور خاص طور پر اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکی کیا واقعی ملک میں کوئی نئی سیاسی تبدیلی لائے گی یا آصف علی زرداری کا یہ بیان بھی ماضی کے بیانوں کا حصہ بن جائے گا اور تحریک انصاف کی حکومت اسی طرح چلتی رہے گی اور پیپلز پارٹی برداشت کرتی رہے گی؟  اس نئی صورتحال کے بعد آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ایک دن کے اندر دو ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ ملاقاتیں 20 ؍فروری کو زرداری ہائوس اسلام آباد میں ہوئیں۔ دو طرح کے معاملات زیربحث آئے۔ ایک تو تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا جبکہ دوسرا نیب کے خلاف براہ راست احتجاجی مارچ کیا جائے جبکہ اسمبلیوں کے اندر احتجاج کا سلسلہ تو شروع کر دیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آصف علی زرداری اپنے اتحادیوں اور دوستوں کے ساتھ مل کر حکومت مخالف تحریک کا آغاز کرتے ہیں یا پھر اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست جھگڑا کرتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں پیپلز پارٹی کے لئے مزید مسائل پیدا ہوں گے کیونکہ وزیراعظم عمران خان کرپشن کے مقدمات میں کسی قسم کی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ چوری کرنے والے گرفتاری کے بعد منڈیلا بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے مؤقف پر آج بھی ماضی کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔ کیا آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمٰن سے مل کر کوئی تحریک چلا سکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا کیا فیصلہ ہو گا، میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف جیل اور کال کوٹھڑیوں کی سزائیں اور نیب کی حاضریاں صبروتحمل سے برداشت کر رہے ہیں۔ کیا وہ دوسروں کی گرفتاریوں پر احتجاج کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین دوٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ اب حکومت کو مزید وقت نہیں دیا جائے گا۔ اب حکومت سے جنگ ہو گی، بہت برداشت کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ آغا سراج درانی کو گرفتار کر کے جمہوریت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے، حکومت کا اس سے کوئی تعلق یا لینا دینا نہیں۔ وزیر اطلاعات چوہدری فواد نے بڑے معصومانہ انداز سے کہا کہ نیب ہمارے لیڈران اور اراکین اسمبلی کے خلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے۔ ہمارے پنجاب کے سینئر وزیر خود نیب کے زیرحراست ہیں۔ اب یہ پیپلز پارٹی کو سوچنا ہے کہ وہ چپ چاپ قانونی جنگ لڑ کر سرخرو ہونا چاہتی ہے یا پھر طویل جنگ لڑ کر اسٹیبلشمنٹ سے دور ہونے کی خواہش مند ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری اپنے وزراء یا ٹیم کے دیگر ساتھیوں کو احتجاج کا راستہ اختیار کر کے جان نہیں چھڑائیں گے اور خود اپنے لئے بھی یہ راستہ اختیار کریں گے، کیونکہ اگر کوئی دوسرا یا موجودہ حکومت کے مخالفین کے ساتھ مل کر احتجاج کا راستہ اختیار کیا تو خود سندھ میں ان کی حکومت کے لئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے متعدد موجودہ اور سابقہ وزراء کی فائلیں نیب کی ٹیبلوں پر پڑی ہیں۔ جمہوریت کے لئے جنگ اور کرپشن کے لئے جنگ لڑنے میں کافی فرق ہے۔ اب یہ فیصلہ پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کو کرنا ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے تاکہ لاٹھی بھی بچے اور سانپ بھی مر جائے، کیوں کہ اب کافی دیر ہو چکی ہے۔