تازہ شمارہ
Title Image
بلوچستان پسماندہ ہے، پنجاب کی ترقی پر زیادہ توجہ دی گئی۔ میر عبدالقدوس بزنجو

بلوچستان پسماندہ ہے، پنجاب کی ترقی پر زیادہ توجہ دی گئی۔ میر عبدالقدوس بزنجو

بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر اور سابق وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے یکم جنوری 1974 ء میں بلوچستان کے ایک سیاسی گھرانے میں جنم لیا۔ ان کے والد مجید بزنجو بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں سرگرم رہے تھے جبکہ عبدالقدوس بزنجو کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔ وہ تقریباً 15 سال قبل بلوچستان کی سیاست میں سرگرم ہوئے۔ عبدالقدوس بزنجو کا حلقہ انتخاب بلوچستان کا علاقہ آواران ہے جبکہ علیحدگی کا نعرہ لگانے والی تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ 2013 ء کے عام انتخابات میں جب بلوچستان لبریشن فرنٹ نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا تو لوگ خوف سے ووٹ ڈالنے نہیں نکلے، جس کے نتیجے میں عبدالقدوس بزنجو بی پی 41 آواران سے 544 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے تھے اور ان کے مخالف امیدوار میر ہدایت اللہ کو، جن کا تعلق نیشنل پارٹی سے تھا، صرف 95 ووٹ ملے تھے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 57 ہزار 666 تھی۔ پورے پاکستان میں سب سے کم ووٹ حاصل کر کے جیتنے والے امیدوار عبدالقدوس بزنجو تھے۔  گزشتہ دنوں عبدالقدوس بزنجو کی کراچی پریس کلب آمد ہوئی، اس موقع پر انہوں نے کئی اہم اور دلچسپ باتیں کیں۔ ان سے سوال کیا گیا کہ بلوچستان میں ثناء اللہ زہری کی حکومت گرانے میں آصف علی زرداری نے کتنا پیسہ لگایا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ بلوچستان میں ثناء اللہ زہری کی حکومت گرانے میں صرف ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ ہوئے، وہ بھی میری رقم تھی اور یہ خرچ بھی صرف کھانا کھلانے پر ہوا تھا۔ عبدالقدوس بزنجو نے بتایا کہ ثناء اللہ زہری نے میرے علاقے سے ان لوگوں کو اپنی پارٹی میں شامل کیا تھا جو میرے مخالف تھے، جبکہ آصف علی زرداری کی اس لئے عزت کرتا ہوں کہ وہ 2005 ء میں میرے ایک رشتہ دار کے قتل پر مجھ سے تعزیت کرنے بلوچستان آئے تھے۔ اس سے زیادہ کوئی اور حقیقت نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ علیحدگی پسند جو پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں، ان کی تعداد 500 ہے۔ زیادہ تر ہتھیار پھینک کر واپس قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ ہمارے علاقے آواران میں بھی ان کا اثر رسوخ ختم ہو رہا ہے۔ بلوچستان ایک پسماندہ علاقہ ہے۔ پنجاب کی ترقی پر زیادہ توجہ دی گئی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں ارکان اسمبلی کی تعداد زیادہ ہے، اس لئے ہر ایک رکن نے اپنے اپنے علاقے میں ترقیاتی کاموں پر توجہ دی اور اپنے فنڈز استعمال کئے۔ مسلم لیگ (ن) نے اس پر شدید تنقید کی تھی کہ 500 ووٹ لینے والا بلوچستان کا وزیراعلیٰ بن گیا۔   واضح رہے کہ عبدالقدوس بزنجو بحیثیت اسپیکر کام کرنے سے زیادہ وزیر یا وزیراعلیٰ کے عہدے پر کام کرنے کی خواہش رکھتے تھے مگر یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔