تازہ شمارہ
Title Image
پاک بھارت کشیدگی اور پرویز مشرف کے خیالات

پاک بھارت کشیدگی اور پرویز مشرف کے خیالات

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف جو آج کل پاکستانی سیاست سے دور اور توبہ کرکے دبئی میں پرسکون زندگی گزارنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود تعاقب کرکے میڈیا کہیں نہ کہیں ان کو تلاش کرلیتا ہے۔ انہوں نے اپنے تازہ موقف میں پاکستان میں عمران خان کی نئی بننے والی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اگر بھارت سے مقابلہ کرنا ہے تو اسرائیل سے دوستی کرنی ہوگی۔ سابق کمانڈو نے ساتھ ساتھ یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ جنگ کی صورت میں بھارت پاکستان پر 20 ایٹم بم گراسکتا ہے، ہمیں بھارت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لئے50ایٹم بم گرانے ہوں گے۔ اس طرح کی باتیں کوئی کمانڈو ہی کرسکتا ہے۔ جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے ان ارشادات کے بعد ایک امریکی ماہر کا تجزیہ بھی سامنے آیا ہے، جس نے کہا ہے کہ اگر (خدانخواستہ) پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی تو دنیا کی90فیصد آبادی ختم ہوجائے گی۔ خدشہ ہے کہ جنگ کے دوران دو ہفتوں میں ہی دنیا جوہری دھویں کی لپیٹ میں آجائے گی۔ اس طرح اس جنگ کے نتائج دیگر ممالک کو بھی بھگتنے ہوں گے۔ اس صورتحال سے امریکا خود پریشان ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور کی کابینہ کے آدھے سے زائد وزراء موجودہ حکومت کا حصہ ہیں، یہاں تک کہ وزیر قانون اور اٹارنی جنرل بھی اس حکومت کا حصہ ہیں لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان نہیں آرہے، کیوں کہ ان کو ان وزراء سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ پاکستان آنے پر ان کی مدد کریں گے یا مقدمات کے حوالے سے وکالت کریں گے۔  سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اپنے دور میں اور اس کے بعد بھی پاکستان کی سیاست میں متنازع رہے ہیں۔ سابق چیف جسٹس نے ان کی وطن واپسی کے لیے مواقع فراہم کیے لیکن اس کے باوجود وہ وطن واپس نہیں آسکے۔ اس وقت تو انہیں اپنے ہی لوگوں سے خوف آرہا ہے حالانکہ ان کے لیے آج بھی ملکی حالات ٹھیک ہیں، پھر بھی وطن واپس آنے کی ہمت نہیں ہورہی لیکن اپنے قیمتی مشوروں سے نئے حکمرانوں کو ضرور نوازتے رہتے ہیں لیکن ان کے اپنے حالات ٹھیک نہیں ہورہے۔ ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف اپنا پاور شو کئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ کہتے ہیں کہ تکبر کی سزا انسان کو اس کی زندگی میں ہی مل جاتی ہے۔ پرویز مشرف نہ صرف سیاسی طور پر تنہا ہوگئے ہیں بلکہ ان کے سابقہ ساتھی بھی انہیں بھول چکے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کو ایک خطرناک بیماری لاحق ہے لیکن ان تمام معاملات اور صورتحال کے باوجود ان کی ملکی معاملات میں دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو اپنے وطن پاکستان سے آج بھی بے پناہ محبت ہے۔