تازہ شمارہ
Title Image
آغا سراج درانی کی گرفتاری پی پی قیادت کے لئے ایک پیغام

آغا سراج درانی کی گرفتاری پی پی قیادت کے لئے ایک پیغام

سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی کی گرفتاری سیاسی انتقام ہے یا انہیں کرپشن کے خلاف جاری جنگ کا قیدی بنا دیا گیا ہے یا پھر ان کی گرفتاری پیپلز پارٹی کی قیادت کیلئے ایک پیغام ہے؟ یہ سب کچھ تو اس وقت معلوم ہوگا، جب کیس آگے بڑھے گا اور پردہ ہٹے گا۔ بہرحال اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے مخالفین اور ملک میں حقیقی طرز پر کرپشن کے خاتمے کی خواہش رکھنے والے افراد نیب کی اس کارروائی سے خوش نظر آرہے ہیں جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے کارکنوں، رہنمائوں، اراکین سندھ اسمبلی اور وزراء نے آغا سراج درانی کی اسلام آباد میں گرفتاری کے بعد ان کے گھر کے باہر کئی گھنٹوں تک دھرنا دے کر نہ صرف ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا بلکہ قانونی جنگ لڑنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ایک طرف نیب آغا سراج درانی کو کرپٹ ثابت کرنے کے لئے ثبوت جمع کرنے اور ان کا احتساب عدالت سے 8 دن کے لئے جسمانی ریمانڈ لینے میں کامیاب ہو گئی ہے تو دوسری طرف آغا سراج درانی کے ساتھی انہیں معصوم قرار دے رہے ہیں جبکہ نیب کی اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا جارہا ہے۔ آغا سراج درانی پر آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنے کا الزام ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک طرف اسلام آباد میں آغا سراج درانی کو گرفتار کیا گیا تو دوسری طرف نیب کی ٹیم نے رینجرز کے ہمراہ کراچی میں ان کے گھر کو گھیرے میں لے کر ایک ایک کمرے کی تلاشی لی۔ تلاشی کا یہ سلسلہ تقریباً 8 گھنٹے تک جاری رہا۔ تلاشی کے دوران ان کے گھر میں کوئی مرد نہیں تھا، صرف خواتین موجود تھیں۔ نیب نے ان کے گھر سے کروڑوں روپے مالیت کی تقریباً 7 گاڑیاں، جائیداد سے متعلق دستاویزات بھی اپنے قبضے میں لے لیں اور ان کے خلاف تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق آغا سراج درانی کی کراچی، حیدرآباد، سکھر اور شکارپور میں قیمتی جائیدادیں ہیں۔  سیاست پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ آغا سراج درانی کی گرفتاری ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی کیا کرتی ہے، اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کس انداز میں کرتی ہے؟ اس ٹیسٹ کیس کے بعد نیب کے ہاتھ پھر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی طرف بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نیب کے پاس پیپلز پارٹی کی قیادت کے علاوہ تقریباً ایک درجن سابق وزراء کے خلاف مواد موجود ہے، جس کی روشنی میں گرفتاریوں کے لئے اقدامات ہو رہے ہیں، ایک منصوبہ بندی کے تحت یہ گرفتاریاں ہوں گی۔ آغا سراج درانی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کا امریکا میں ہارڈویئر کا کاروبار تھا جو 1980 ء میں ختم کر کے واپس پاکستان آگئے اور سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ ان کے والد آغا صدرالدین اور چچا آغا بدرالدین بھی ماضی میں صوبائی اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں۔ آغا سراج درانی کی گرفتاری سے معلوم ہوتا ہے کہ نیب پیپلز پارٹی کے خلاف گھیرا تنگ کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے اور نیب دوسرا نشانہ کس کو بنانے کی تیاری کر رہا ہے؟