تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
آنکھوں کی لیزر سرجری کتنی محفوظ ہے؟

آنکھوں کی لیزر سرجری کتنی محفوظ ہے؟

صہیب اشرف نے جب اپنی نظر کی خرابی ٹھیک کرنے کی غرض سے آنکھوں کی لیزر سرجری کروائی تو وہ آئی کلینک میں داخل ہوئے اور 30؍منٹ بعد سرجری سے فارغ ہو کر باہر نکل گئے۔ خود اس پروسیجر میں صرف 10؍ منٹ لگے۔ صہیب اشرف نے اس سرجری سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ انہوں نے بتایا ’’مجھے امید تھی کہ صبح الارم گھڑی کے اعداد بڑی آسانی سے دیکھ لوں گا اور مجھے اس کیلئے اپنے چشمے کی تلاش میں ادھر ادھر ہاتھ نہیں مارنا پڑے گا‘‘ صہیب 5؍ سال کی عمر سے نظر کے چشمے استعمال کررہے تھے۔ انہوں نے بتایا ’’بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی ان چشموں سے اکتا چکا تھا۔ میں اپنی شخصیت نکھارنا چاہتا تھا۔ اس وقت میں جوان اور کنوارہ بھی تھا‘‘ تاہم لیزر آئی سرجری واقعی ان کی زندگی تبدیل کرنے والی ثابت ہوئی لیکن اس طرح نہیں جیسی ان کو توقع تھی۔ 32؍ سالہ صہیب جواپنی 26؍ سالہ بیوی فاطمہ کےساتھ پریسٹن، لنکا شائر میں رہائش پذیر ہیں، نے 6؍سال پہلے یہ لیزر سرجری کروائی تھی لیکن سرجری کے بعد سے ان کی دائیں آنکھ کی نظر دھندلاہٹ کی شکار ہے اور دونوں آنکھوں میں روشنی کے ہالے نظر آتے ہیں اور روشنی سے آنکھیں چندھیانے لگتی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان کی آنکھوں میں مستقل تیز چبھنے والا درد ہوتا رہتاہے۔ برطانوی روز نامہ’’میل آن لائن‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق صہیب نے بتایا ’’یہ درد کبھی ختم نہیں ہوتا۔ سرجری کے بعد سےکبھی مجھے پرسکون نیند نہیں آئی۔ مجھے ہر ایک گھنٹے پر آنکھوں میں قطرے ٹپکانے کیلئے اٹھنا پڑتا ہے‘‘ ان کی اداسی اور افسردگی بھی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔ ان کا قد 5؍فٹ 11؍ انچ ہے لیکن وزن 82؍ کلو سے 133؍ کلو تک جاپہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’اس نام نہاد آسان پروسیجر نے چند سیکنڈز میں میری زندگی کے بہترین سال مجھ سے چھین لئے اور اب اس کا کوئی علاج بھی نہیں ہے۔‘‘ صہیب کا ’’لاسک‘‘ (LASEK) علاج کیا گیا تھا جو Laser Epithelial Keratomileusis کا مخفف ہے۔ اس طریقۂ علاج میں آنکھ کے سامنے کے شفاف حصے میں موجود قرنیہ کو نئی صورت دی جاتی ہے، تاکہ بصری خرابیاں ٹھیک ہوسکیں۔ صہیب نے بتایا کہ ’’یہ طریقۂ علاج اب اتنا زیادہ عام ہوچکا ہے کہ میں نے بھی اسے کروانے کی ٹھان لی لیکن احتیاطاً اس کے لئے بہت قابل سرجنز کا انتخاب کیا۔ انٹرنیٹ پر ’’لاسک‘‘ کے بارے میں کچھ خوفناک کہانیاں بھی پڑھیں لیکن میں نے ان کو نظرانداز کردیا۔ بہترین سرجنز کے بارے میں کچھ ریسرچ کی اور مانچسٹر میں ایک سرجن مجھے مل گیا۔ میں نے ان سے سرجری کے خطرات کے بارے میں معلوم کیا تو انہوں نے صرف اتنا بتایا کہ اس سے آنکھیں خشک ہوسکتی ہیں لیکن 6؍ ماہ میں یہ بھی ٹھیک ہوجاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آنکھوں کی اس قسم کی سرجری کا جو پرانا طریقہ تھا اس میں زیادہ خطرات ہوتے تھے اور اب چونکہ اس کے لئےمریض کا بہتر انتخاب کیا جاتا ہے، اس لئے خطرات کم ہوگئے ہیں۔ میں نے ان سے یہ تک پوچھا کہ کیا آپ اپنے بچے کیلئے بھی یہ سرجری کرنے پر تیار ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ ’’ہاں۔‘‘ دوبارہ یقین دہانی حاصل کرنے کے بعد صہیب جنوری 2013ء میں اس پروسیجر سے گزرے۔ ایک ہفتے کے بعد ہی ان کی آنکھوں میں شدید درد محسوس ہونے لگا، جیسے کوئی ان کی آنکھوں میں خنجر گھونپ رہا ہو۔ انہوں نے بتایا ’’اب مجھے معلوم ہوچکا ہے کہ اس درد کی وجہ Recurrent Corneal Erosion Syndrome ہے جس میں پلکیں، رگڑسے آنکھ کی سطح کو تباہ کردیتی ہیں۔ لیزر سرجری سے یہ ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں قرنیہ کے بالکل نیچے جو حفاظتی تہہ (Bowman's layer) ہوتی ہے وہ اس سرجری سے ختم ہوجاتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جب پلکیں جھپکتی ہیں تو یہ تہہ اس رگڑ سے حفاظت کیلئے موجود نہیں ہوتی اور قرنیہ کے اعصابی خلیات اس کے سامنے ہوتے ہیں جو پورے انسانی جسم میں سب سے طاقتور درد کا احساس دلانے والے اعصاب سمجھے جاتے ہیں۔ اس وقت صہیب کو بتایا گیا کہ یہ خشک آنکھوں کی وجہ سے ہے اور اسے آنکھوں میں ڈالنے والے ڈراپس تجویز کئے گئے لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا اور ہر دوسرے ماہ اسے کلینک میں حاضر ہونا پڑا۔ آخر کار اس میں Recurrent Corneal Erosion کی تشخیص ہوئی۔ اس وقت تک اس پروسیجر کو دو سال ہو چکے تھے، جس کے بعد اسے ایک اور پرو سیجر کی پیشکش کی گئی جس میں ایک سوئی آنکھ کے اندر داخل کی جاتی ہے جس کا مقصد زخم والے ٹشو کی ایک قسم تخلیق کرنا ہوتی ہے تاکہ قرنیہ کے خلیات نیچے کی طرف جمع رہیں۔ لیکن صہیب نے اس نئی پیشکش کو مسترد کر دیا کیونکہ اس میں بھی کسی طویل المدت فائدے کے شواہد موجود نہیں تھے۔ انہوں نے بتایا ’’میں اپنی آنکھوں کو مزید اذیت کے خطرے سے دوچار نہیں کرنا چاہتا تھا۔جو کچھ میرے ساتھ ہوا اس میں سرجن کی کوئی غلطی نہیں تھی، نہ ہی اس نے کوئی غلط قسم کی لیزر شعاع استعمال کی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ قرنیہ کو نئی صورت دینا ایک ایسی تکنیک ہے جو بذات خود بہت خطرناک ہے۔ میں نے جو بات نوٹ کی وہ یہ تھی کہ میں نے اپنے علاج کے سلسلے میں جتنے بھی سرجنز سے ملاقات کی، وہ سب چشمے لگاتے تھے۔ تو کیا وہ لوگ ان خطرات سے آگاہ تھے جن سے ہم آگاہ نہیں تھے؟‘‘ یہ باتیں اگرچہ تلخ ہیں لیکن ایسی نہیں کہ ان کو نظر انداز کیا جا سکے۔ صہیب خود بھی تربیت یافتہ فارماسسٹ اور برطانیہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ، اینڈ کیئر ایکس لینس (NICE) میں ہیلتھ اکنامسٹ ہیں۔ اور ان کے ذمے یہ جانچ پڑتال کرنا ہوتا ہے کہ کوئی علاج کتنا مؤثر اور محفوظ ہے اور اس کی جو قیمت وصول کی جا رہی ہے وہ مناسب ہے یا کھال ادھیڑی جا رہی ہے؟ انہوں نے خود اپنے طور پر لیزر آئی سرجری کے بارے میں تحقیق کی ہے اور ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنی تحقیق کے نتائج سے بہت زیادہ فکر مند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال لگ بھگ ایک لاکھ برطانوی اس قسم کی سرجری کرواتے ہیں جسے Refractive eye surgeryبھی کہتے ہیں۔ دونوں آنکھوں کی سرجری کیلئے 4ہزار پائونڈ وصول کئے جاتے ہیں۔ یہ بہت بڑا کاروبار ہے۔ صرف برطانوی مارکیٹ کم از کم 40کروڑ پائونڈ مالیت کی ہے۔ آنکھوں کی لیزر سرجری کیلئے کئی تکنیک استعمال کی جاتی ہیں، جن میں ایک LASIK ہےجس کا پورا نامLaser Assisted in situ Keratomileuis ہے۔ اس طریق کار میں قرنیہ پر ایک پرت کاٹی جاتی ہے اور آنکھ کے ڈیلے کی گہری تہہ کو نئی صورت دی جاتی ہے۔ دوسرا طریقہ LASEK کہلاتا ہے جس سے صہیب گزر چکے ہیں۔ اس میں آنکھ کے سامنے کی سطح کو نئی صورت دی جاتی ہے۔ ایک زیادہ نئی تکنیک ReLEX SMILE ہے۔ اس طریقۂ کار میںآنکھ کے ڈیلے کی زیادہ گہری تہہ کو فلیپ کے بجائے ایک چھوٹے شگاف کے ذریعہ نئی صورت دی جاتی ہے۔ اگرچہ LASIKکے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس قسم کی سرجری کروانے والے 98فیصد مریض مطمئن ہوتے ہیں اور بعد میں پیچیدگیاں کم دیکھی جاتی ہیں تاہم حقیقت کچھ اور ہے۔ مارپل، اسٹاک پورٹ کے رہائشی ایان ویگ ہارن سا فٹ ویئر انجینئر ہیں، انہوں نے نومبر2017ء میںLASIKآئی سرجری کروائی تھی، جس کے بعد سے انہیں مختلف پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ ان کی آنکھیں خشک رہتی ہیں اور شدید درد محسوس ہوتا ہے خاص طور پر اس وقت جب وہ اسکرین پر نظریں جماتے ہیں۔ اس بنا پر انہیں اپنا کام جاری رکھنا بہت دشوار ہو گیا تھا۔ اب وہ یہ چاہتے ہیں کہ لیزر آئی سرجری پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔ اس سلسلے میں ایک اور ماہر امراض چشم ڈاکٹر ویکسلر کا کہنا ہے کہ لیزر آئی سرجری کا معاملہ جبFDAکی منظوری کے لئے آیا تو اس کے حق میں تمام تر دلیلیں ری فریکٹو لیزر انڈسٹری کی طرف سے پیش کی گئی تھیں، جبکہ اس کی مخالفت میں بہت کم آوازیں بلند ہوئیں، ہمیں یہ چکمہ دیا گیا کہ آپ آنکھ کے ڈیلے میں چیرا لگا سکتے ہیں اور اس کے کوئی خطرناک نتائج نہیں نکلیں گے۔ لیکن جب آپ قرنیہ کو کاٹتے ہیں تو اس کے ساتھ آنکھ کی طاقت کم ہو جاتی ہے اور قرنیہ کا زخم کبھی نہیں بھرتا۔ ڈاکٹرویکسلر نے بتایا کہ انہوں نے 2007ءمیں اس ٹیکنالوجی پر اس وقت سوالات اٹھانا شروع کر دیئے تھے جب مریضوں نے ان کے پاس آ کر یہ شکایتیں کی تھیں کہ ان کے قرنیہ میں دردہوتا ہے، آنکھیں خشک رہتی ہیں، رات کے وقت دیکھنا ممکن نہیں ہوتا، روشنی چبھتی ہے، ہالے نظر آتے ہیں اور نظر پہلے سے کمزور لگتی ہے۔