تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
نمونیا جدید ترین ’’اسٹھیتواسکواپ مرض کی درست تشخیص کرے گا

نمونیا جدید ترین ’’اسٹھیتواسکواپ مرض کی درست تشخیص کرے گا

نمونیہ سینے کے انفیکشن کی ایک ایسی قسم ہے جو پھیپھڑوں میں ہوا کی بہت چھوٹی چھوٹی تھیلیوں کو متاثر کرتی ہے جنہیںAlveoli کہتے ہیں۔ اس مرض میں یہ ہوائی تھیلیاں سوزش کا شکار ہوجاتی ہیں اور ان میں بلغمی مادہ جمع ہونے لگتا ہے جس کی وجہ سے مریض کو سانس لینے میں دشواری ہو تی ہے۔ نمونیہ کا سبب جراثیم بھی ہوسکتے ہیں اور وائرسیز بھی۔ ان جرثوموں میں سب سے عام Streptococcus Pneumoniae ہے۔ برطانیہ میں یہ بیماری ہر 1000؍بالغ افراد میں سے پانچ سے گیارہ افراد کو متاثر کرتی ہے۔ نمونیہ میں کوئی بھی شخص مبتلا ہوسکتا ہے، تاہم اس کا سب سے زیادہ خطرہ ٭شیرخواروں اور کم عمر بچوں ٭65؍ سال سے زیادہ عمر کے افراد ٭وہ افراد جو طویل عرصے سے دل، پھیپھڑے یا گردے کے امراض میں مبتلا ہیں ٭کینسر کے مریض، خاص طور پر وہ جو کیمو تھراپی کروارہے ہوں ٭سگریٹ نوش افراد ٭وہ افراد جو اپنے مدافعتی نظام کو دبانے کیلئے دوائیں لے رہے ہیں ٭اسپتالوں میں اینٹی بایوٹک ادویات اور مشینی وینٹی لیٹر کا استعمال بھی نمونیہ کاخطرہ بڑھا دیتے ہیں۔ نمونیہ کی علامتوں میں کھانسی کے ساتھ بلغم کا اخراج، بخار، سینے میں درد، بھوک ختم ہوجانا اور تھکاوٹ شامل ہیں۔ زیادہ سنگین صورتوں میں مریض خون بھی تھوک سکتا ہے، اسے خون کی الٹی آسکتی ہے اور دھڑکن بہت تیز ہوسکتی ہے۔ عام طور پر نمونیہ کے علاج میں اینٹی بایوٹک دوائیں دی جاتی ہیں اور اگر مرض سنگین صورت اختیار کرگیا ہے تو اس صورت میں اسپتالوںمیں یہ دوا رگوں کے راستے دی جاسکتی ہے۔ نمونیہ کی تشخیص کیلئے ایک نئے قسم کا اسٹیتھو اسکوپ آلہ ایجاد کیا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) استعمال کرتے ہوئے مریض کے پھیپھڑوں کی آوازیں سن کر مرض کی تشخیص کرسکتا ہے۔ سائنس دانوںنے جو آلہ ایجاد کیا ہے وہ اپنے طور پر انتباہی علامات کی نشاندہی کرسکتا ہے اور اس کے لئے ڈاکٹر کے تربیت یافتہ کانوں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اس آلہ کو ایجاد کرنے والے کہتے ہیں کہ آواز کو فلٹر کرنے والی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے، جو یہ سمجھ سکتی ہے کہ نمونیہ میں مبتلا پھیپھڑے کس قسم کی آواز خارج کرسکتے ہیں، یہ نیا اسٹیتھواسکوپ مریضوں کی جان بچانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس طرح کے دو اسٹیتھو اسکوپ Feelix اور Feelix Pro بنائے گئے ہیں جو اسی سال استعمال میں آنے لگیں گے۔ سائنس دانوں کا  کہنا ہے کہ یہ آلات 10؍ میں سے تقریباً 9؍ بار مرض کی درست شناخت کرسکتے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ نمونیہ ہر سال پوری دنیا میں 5؍ سال سے کم عمر 10؍لاکھ بچوں کی جان لے لیتا ہے اور صرف برطانیہ میں سالانہ 2؍ لاکھ 20؍ ہزار افراد میں اس کی تشخیص ہوتی ہے، جبکہ 10؍ لاکھ امریکی اس بیماری سے متاثر ہوتے ہیں۔ پروفیسر جیمز ویسٹ اس نئے آلے کے موجدوں میں سے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نمونیہ کے مریضوں کے پھیپھڑے سے بلبلے کے پھٹنے، چٹخنے اور کھڑکھڑانے جیسی آوازیں اس وقت آتی ہیں جب وہ سانس لیتے ہیں اور ان کی سانسیں معمول سے کم گہری ہوتی ہیں۔ دیگر امراض مثلاً دمہ، ذات الجنب (Pleurisy) اور ٹیومرز کی وجہ سے بھی پھیپھڑے کی آواز تبدیل ہوسکتی ہے لہٰذا نمونیہ کی تشخیص کیلئے ڈاکٹروں کو یہ بات یقینی بنانی پڑتی ہے کہ روایتی اسٹیتھو اسکوپ بالکل درست مقام پر رکھا جائے، تاہم آرٹی فیشل انٹیلی جنس والے اس نئے اسٹیتھو اسکوپ میں اس قسم کی غلطیوں کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ یہ دیگر آوازوں کو الگ کرسکتا ہے جس میں پس پردہ شور اور مریض کے دل کی دھڑکن شامل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے بالکل درست مقام پر رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور پرشور مقامات پر بھی اسکو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی بالکل درست انداز میں کسی ڈاکٹرکی مدد کے بغیر نمونیہ کی آوازوں کی شناخت کرسکتی ہے۔ پھر یہ A1اسٹیتھو اسکوپ اپنی ریڈنگز ڈاکٹر کے کمپیوٹر تک منتقل کرسکتا ہےجو بہت واضح طور پر ایک نارمل پھیپھڑے اور نمونیہ سے متاثرہ پھیپھڑے میں فرق کرسکتا ہے۔